سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
1. باب أحكام النكاح
باب: نکاح کے احکام کا بیان
ترقیم العلمیہ : 3512 ترقیم الرسالہ : -- 3566
ثنا ابْنُ صَاعِدٍ ، نَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ الْجَوْهَرِيُّ . ح وثنا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نَا أَبُو خُرَاسَانَ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ السَّكَنِ ، قَالا: نَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ " أَنَّ جَارِيَةً بِكْرًا أَنْكَحَهَا أَبُوهَا وَهِيَ كَارِهَةٌ، فَخَيَّرَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" ، وَقَالَ أَبُو خُرَاسَانَ: إِنَّ جَارِيَةً بِكْرًا أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَتْ أَنَّ أَبَاهَا زَوَّجَهَا بِغَيْرِ إِذْنِهَا، فَفَرَّقَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَهُمَا. وَكَذَلِكَ رَوَاهُ زَيْدُ بْنُ حَبَّانَ عَنْ أَيُّوبَ. وَتَابَعَهُ أَيُّوبُ بْنُ سُوَيْدٍ عَنِ الثَّوْرِيِّ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَغَيْرُهُ يُرْسِلُهُ، عَنِ الثَّوْرِيِّ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. وَالصَّحِيحُ مُرْسَلٌ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ایک لڑکی کے والد نے اس کی شادی کر دی، اس لڑکی کو (یہ رشتہ) پسند نہیں تھا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس لڑکی کو (نکاح برقرار رکھنے یا کالعدم کرنے) کا اختیار دیا۔ ابوخراسان نامی راوی نے یہ بات نقل کی ہے: ایک لڑکی نبی کی خدمت میں حاضر ہوئی اور اس بات کا تذکرہ کیا کہ اس کے والد نے اس کی اجازت کے بغیر اس کی شادی کر دی ہے، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں میاں بیوی کے درمیان علیحدگی کروا دی۔ یہی روایت ایک اور سند کے حوالے سے عکرمہ کے حوالے سے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول ہے، جبکہ دیگر راویوں نے اسے عکرمہ کے حوالے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرسل روایت کے طور پر نقل کیا ہے اور درست یہی ہے کہ یہ مرسل ہے۔ [سنن الدارقطني/ كتاب النكاح/حدیث: 3566]
ترقیم العلمیہ: 3512
تخریج الحدیث: «مرسل، وأخرجه الضياء المقدسي فى "الأحاديث المختارة"، 277، 278، 279، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 5366، 5368، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2096، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 1875، 1875 م، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3563، 3564، 3566، 3568، 3569، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 2508، والطبراني فى ((الصغير)) برقم: 1098، وأبو داود فى "المراسيل"، 232»
«قال ابن حجر: رجاله ثقات وأعل بالإرسال، التلخيص الحبير في تخريج أحاديث الرافعي الكبير: (3 / 330) _x000D_»
«قال ابن حجر: رجاله ثقات وأعل بالإرسال، التلخيص الحبير في تخريج أحاديث الرافعي الكبير: (3 / 330) _x000D_»
الحكم على الحديث: مرسل
الرواة الحديث:
عكرمة مولى ابن عباس ← عبد الله بن العباس القرشي