🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (4836)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم العلمیہ سے تلاش کل احادیث (4750)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

1. بَابُ أَحْكَامِ النِّكَاحِ
باب: نکاح کے احکام کا بیان
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 3457 ترقیم الرسالہ : -- 3511
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ وَهْبٍ ، حَدَّثَنِي عَمِّي ، حَدَّثَنِي يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَخْبَرَتْهُ،" أَنَّ النِّكَاحَ كَانَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ عَلَى أَرْبَعَةِ أَنْحَاءٍ، فَنِكَاحُ النَّاسِ الْيَوْمَ يَخْطُبُ الرَّجُلُ إِلَى الرَّجُلِ ابْنَتَهُ فَيُصْدِقُهَا ثُمَّ يَنْكِحُهَا، قَالَ: وَنِكَاحٌ آخَرُ كَانَ الرَّجُلُ يَقُولُ لامْرَأَتِهِ إِذَا طَهُرَتْ مِنْ طَلْعَتِهَا: أَرْسِلِي إِلَى فُلانٍ فَاسْتَبْضِعِي مِنْهُ، وَاعْتَزَلَهَا زَوْجُهَا لا يَمَسُّهَا أَبَدًا حَتَّى يَسْتَبِينَ حَمْلُهَا مِنْ ذَلِكَ الرَّجُلِ الَّذِي تَسْتَبْضِعُ مِنْهُ، فَإِذَا تَبَيَّنَ حَمْلُهَا أَصَابَهَا زَوْجُهَا إِذَا أَحَبَّ، وَإِنَّمَا يَصْنَعُ ذَلِكَ رَغْبَةً فِي نَجَابَةِ الْوَلَدِ، كَانَ هَذَا النِّكَاحُ يُسَمَّى نِكَاحَ الاسْتِبْضَاعِ، قَالَتْ: وَنِكَاحٌ آخَرُ يَجْتَمِعُ الرَّهْطُ دُونَ الْعَشْرَةِ فَيَدْخُلُونَ عَلَى الْمَرْأَةِ كُلُّهُمْ يُصِيبُهَا، فَإِذَا حَمَلَتْ وَضَعَتْ وَمَرَّتْ لَيَالِي بَعْدَ أَنْ تَضَعَ حَمْلَهَا أَرْسَلَتْ إِلَيْهِمْ فَلَمْ يَسْتَطِعْ رَجُلٌ مِنْهُمْ أَنْ يَمْتَنِعَ حَتَّى يَجْتَمِعُوا عِنْدَهَا، فَتَقُولُ لَهُمْ: قَدْ عَرَفْتُمُ الَّذِي كَانَ مِنْ أَمْرِكُمْ، وَقَدْ وَلَدَتْهُ وَهُوَ ابْنُكَ يَا فُلانُ، فَتُسَمِّي مَنْ أَحَبَّتْ مِنْهُمْ بِاسْمِهِ فَيُلْحَقَ بِهِ وَلَدُهَا لا يَسْتَطِيعُ أَنْ يَمْتَنِعَ مِنْهُ الرَّجُلُ، وَنِكَاحٌ رَابِعٌ يَجْتَمِعُ النَّاسُ الْكَثِيرُ فَيَدْخُلُونَ عَلَى الْمَرْأَةِ لا تَمْتَنِعُ مِمَّنْ جَاءَهَا وَهُنَّ الْبَغَايَا، كُنَّ يَنْصِبْنَ عَلَى أَبْوَابِهِنَّ رَايَاتٍ تَكُنْ عَلَمًا، فَمَنْ أَرَادَهُنَّ دَخَلَ عَلَيْهِنَّ، فَإِذَا حَمَلَتْ إِحْدَاهُنَّ فَوَضَعَتْ حَمْلَهَا جَمَعُوا لَهَا وَدَعَوْا الْقَافَةَ لَهُمْ ثُمَّ أَلْحَقُوا وَلَدَهَا فَالْتَاطَهُ وَدَعَاهُ ابْنَهُ لا يَمْتَنِعُ مِنْ ذَاكَ، فَلَمَّا بَعَثَ اللَّهُ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحَقِّ هَدَمَ نِكَاحَ أَهْلِ الْجَاهِلِيَّةِ كُلِّهِ إِلا نِكَاحَ أَهْلِ الإِسْلامِ الْيَوْمَ" ،.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: زمانہ جاہلیت میں نکاح چار طریقوں سے ہوتے تھے۔ ایک نکاح کا طریقہ وہ تھا جو آج کل لوگوں میں رائج ہے، آدمی کسی دوسرے شخص کی بیٹی کے لیے نکاح کا پیغام بھیجتا تھا اور اسے مہر دیتا تھا اور اس کے ساتھ نکاح کر لیتا تھا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نکاح کا دوسرا طریقہ یہ تھا کہ کوئی شخص اپنی بیوی سے، جب وہ اس شخص سے طلاق لینے کے بعد پاک ہو جاتی تھی، یہ کہتا تھا: تم فلاں شخص کو پیغام بھیجو اور اس کے ساتھ صحبت کر لو۔ وہ شخص اس دوران اپنی بیوی سے الگ رہتا تھا، اور اس کی بیوی کے ساتھ اس وقت تک صحبت نہیں کرتا تھا جب تک اس دوسرے شخص سے اس عورت کا حمل ظاہر نہ ہو جاتا تھا، جس کے ساتھ اس عورت نے صحبت کی تھی۔ جب عورت کا حمل ظاہر ہو جاتا تھا، تو اس کا اصل شوہر اس کے ساتھ صحبت کر لیتا تھا اگر اسے اس کی خواہش ہوتی تھی۔ وہ شخص اس لیے کرتا تھا تاکہ اس کی اولاد کسی بڑے خاندان کے فرد کا نطفہ ہو۔ اس نکاح کو نکاح استبضاع کا نام دیا جاتا تھا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: نکاح کا تیسرا طریقہ یہ تھا کہ کچھ لوگ اکٹھے ہوتے، ان کی تعداد دس سے کم ہوتی تھی۔ وہ سب کسی عورت کے پاس جاتے اور وہ سب اس کے ساتھ صحبت کرتے۔ پھر وہ حاملہ ہو جاتی اور آخر کار بچے کو جنم دیتی تھی۔ بچے کو جنم دینے کے کچھ دن بعد وہ ان سب کو بلواتی تھی۔ ان سب میں سے کوئی بھی شخص آنے سے انکار نہیں کر سکتا تھا۔ جب وہ لوگ اس عورت کے پاس اکٹھے ہوتے، تو وہ عورت ان سے کہتی: تم لوگ جانتے ہو کہ تم نے کیا کیا تھا؟ میں نے ایک بچے کو جنم دیا ہے۔ اے فلاں! یہ تمہارا بیٹا ہے۔ وہ عورت ان افراد میں سے جس کا چاہتی، اس شخص کا نام لیتی، تو اس کے بچے کا نسب اس شخص کے ساتھ لاحق کر دیا جاتا تھا۔ وہ شخص اب اس بچے کا انکار نہیں کر سکتا تھا۔ چوتھا طریقہ یہ تھا کہ بہت سے لوگ اکٹھے ہو کر کسی عورت کے پاس جاتے۔ وہ عورت اپنے ہاں آنے والے کسی شخص کو روک نہیں سکتی تھی۔ یہ جسم فروش عورتیں ہوا کرتی تھیں۔ انہوں نے اپنے دروازوں پر مخصوص جھنڈے لگائے ہوئے ہوتے تھے جو ان (کے پیشے) کا علامتی نشان ہوتا تھا۔ جو شخص ان کے ہاں جانا چاہتا، وہ چلا جاتا تھا۔ جب ان میں سے کوئی ایک عورت حاملہ ہوتی اور بچے کو جنم دیتی، تو سب لوگوں کو اس کے پاس اکٹھا کیا جاتا تھا۔ پھر کسی قیافہ شناس کو بلایا جاتا تھا۔ وہ اس عورت کے بچے کو اس شخص کے ساتھ لاحق کر دیتا، جس کے ساتھ وہ بچہ مشابہت رکھتا تھا۔ پھر لوگ اس بچے کو اس شخص کے بیٹے کے طور پر بلاتے اور وہ شخص اس سے انکار نہیں کر سکتا تھا۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 3511]
ترقیم العلمیہ: 3457
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 5127، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2272، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 13753، 14185، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3511، 3512»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 3458 ترقیم الرسالہ : -- 3512
نَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، نَا أَصْبَغُ بْنُ الْفَرَجِ ، أَخْبَرَنِي ابْنُ وَهْبٍ ، عَنْ يُونُسَ ، أَخْبَرَهُ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَخْبَرَهُ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، أَنَّ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْهُ، أَنَّ النِّكَاحَ كَانَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ عَلَى أَرْبَعَةِ أَنْحَاءٍ، وَذَكَرَ الْحَدِيثَ نَحْوَهُ. قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ: لَمْ يَرْوِهِ إِلا ابْنُ وَهْبٍ، زَعَمُوا أَنَّ يَحْيَى بْنَ مَعِينٍ حِينَ، حَدَّثَهُ بِهِ أَصْبَغُ بَرَكَ مِنَ الْفَرَحِ، وَقَالَ أَصْبَغُ فِي حَدِيثِهِ:" أَرْسِلِي إِلَى فُلانٍ فَاسْتَبْضِعِي مِنْهُ وَيَعْتَزِلُهَا زَوْجُهَا وَلا يَمَسُّهَا أَبَدًا حَتَّى يَتَبَيَّنَ حَمْلُهَا مِنْ ذَلِكَ الرَّجُلُ الَّذِي تَسْتَبْضِعُ مِنْهُ، فَإِذَا تَبَيَّنَ حَمْلُهَا أَصَابَهَا زَوْجُهَا إِذَا أَحَبَّ، وَإِنَّمَا يَصْنَعُ ذَلِكَ رَغْبَةً فِي نَجَابَةِ الْوَلَدِ، فَكَانَ هَذَا النِّكَاحُ يُسَمَّى نِكَاحَ الاسْتِبْضَاعِ"، وَقَالَ الصَّاغَانِيُّ: وَقَدْ رَوَاهُ غَيْرُ أَصْبَغَ، نَا عُثْمَانُ بْنُ صَالِحٍ، نَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ يُونُسَ بِهَذَا الإِسْنَادِ، إِلا أَنَّهُ قَالَ:" أَرْسِلِي إِلَى فُلانٍ وَاسْتَرْضِعِي مِنْهُ، وَاعْتَزَلَهَا زَوْجُهَا لا يَمَسُّهَا أَبَدًا حَتَّى يَسْتَبِينَ حَمْلُهَا مِنْ ذَلِكَ الرَّجُلِ الَّذِي تَسْتَرْضِعُ مِنْهُ، وَكَانَ هَذَا يُسَمَّى نِكَاحَ الاسْتِرْضَاعِ"، قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ: وَهُوَ الصَّوَابُ، وَقَالَ: فَلَمَّا بَعَثَ اللَّهُ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحَقِّ هَدَمَ نِكَاحَ الْجَاهِلِيَّةِ.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: زمانہ جاہلیت میں چار طرح کے نکاح ہوتے تھے (اس کے بعد انہوں نے حسب سابق حدیث ذکر کی ہے)۔ ایک روایت میں یہ الفاظ زائد ہیں: (شوہر اپنی بیوی سے یہ کہتا) تم فلاں شخص کو پیغام بھیجو، پھر تم اس کے ساتھ صحبت کر لو۔ اس دوران اس عورت کا شوہر اس سے الگ رہتا اور عورت کے ساتھ اس وقت تک صحبت نہ کرتا جب تک اس شخص سے حمل ظاہر نہ ہو جاتا جس کے ساتھ عورت نے صحبت کی تھی۔ جب عورت کا حمل ظاہر ہو جاتا، تو شوہر اس کے ساتھ صحبت کر لیتا اگر اسے اس کی خواہش ہوتی۔ وہ ایسا اس لیے کرتا تھا تاکہ اس کی اولاد نجیب ہو۔ اس نکاح کو نکاح استبضاع کا نام دیا گیا تھا۔ یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے، تاہم اس میں یہ الفاظ ہیں: (شوہر بیوی سے کہتا) تم فلاں شخص کو پیغام بھیجو اور اس سے حاملہ ہو جاؤ۔ عورت کا شوہر عورت سے الگ رہتا، اس وقت تک اس کے ساتھ صحبت نہ کرتا جب تک دوسرے شخص سے عورت کا حمل ظاہر نہ ہو جاتا۔ اس نکاح کو نکاح استرضاع کا نام دیا گیا تھا۔ محمد بن اسحاق بیان کرتے ہیں: یہ درست ہے (اس میں یہ الفاظ بھی ہیں) جب اللہ تعالیٰ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو حق کے ہمراہ مبعوث کیا، تو زمانہ جاہلیت کے نکاح (کے مختلف طریقوں) کو ختم کر دیا۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 3512]
ترقیم العلمیہ: 3458
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 5127، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2272، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 13753، 14185، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3511، 3512»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 3459 ترقیم الرسالہ : -- 3513
نَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا أَبُو غَسَّانَ مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نَا عَبْدُ السَّلامِ بْنُ حَرْبٍ ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي فَرْوَةَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ:" كَانَ الْبَدَلُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ أَنْ يَقُولَ الرَّجُلُ لِلرَّجُلِ تَنْزِلُ عَنِ امْرَأَتِكَ وَأَنْزِلُ لَكَ عَنِ امْرَأَتِي وَأَزِيدُكَ، قَالَ: فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى وَلا أَنْ تَبَدَّلَ بِهِنَّ مِنْ أَزْوَاجٍ وَلَوْ أَعْجَبَكَ حُسْنُهُنَّ سورة الأحزاب آية 52، قَالَ: فَدَخَلَ عُيَيْنَةُ بْنُ حِصْنٍ الْفَزَارِيُّ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعِنْدَهُ عَائِشَةُ، فَدَخَلَ بِغَيْرِ إِذْنٍ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا عُيَيْنَةُ، فَأَيْنَ الاسْتِئْذَانُ؟، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا اسْتَأْذَنْتُ عَلَى رَجُلٍ مِنْ مُضَرَ مُنْذُ أَدْرَكْتُ، قَالَ: مَنْ هَذِهِ الْحُمَيْرَا الَّتِي إِلَى جَنْبِكَ؟، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: هَذِهِ عَائِشَةُ أُمُّ الْمُؤْمِنِينَ، قَالَ: أَفَلا أنزل لَكَ عَنْ أَحْسَنِ الْخَلْقِ؟، فَقَالَ: يَا عُيَيْنَةُ إِنَّ اللَّهَ حَرَّمَ ذَلِكَ، قَالَ: فَلَمَّا أَنْ خَرَجَ قَالَتْ عَائِشَةُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَنْ هَذَا؟، قَالَ: أَحْمَقُ مُطَاعٌ، وَإِنَّهُ عَلَى مَا تَرَيْنَ لِسَيِّدِ قَوْمِهِ" .
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: زمانہ جاہلیت میں بدل یہ ہوتا تھا کہ کوئی شخص دوسرے سے کہتا، تم مجھے اپنی بیوی کے ساتھ صحبت کرنے دو میں تمہیں اپنی بیوی کے ساتھ صحبت کرنے دوں گا اور میں تمہیں مزید فائدہ دوں گا، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی: «وَلَا أَنْ تَبَدَّلُوا بِهِنَّ مِنْ أَزْوَاجٍ وَلَوْ أَعْجَبَكُمْ حُسْنُهُنَّ» ۔ سیدنا عیینہ بن حصن فزاری رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ہاں موجود تھے، عیینہ اجازت لیے بغیر اندر آگئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: اے عیینہ! تم نے اجازت کیوں نہیں لی؟ انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! جب سے میں بالغ ہوا میں نے مضر قبیلہ کے کسی فرد کے ہاں اندر داخل ہونے کی اجازت طلب نہیں کی، اس نے یہ بھی کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلو میں موجود یہ خوبصورت خاتون کون ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ عائشہ ہے، جو تمام اہل ایمان کی ماں ہے۔ اس نے کہا: کیا میں اس کی جگہ تبدیل کر کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو زیادہ خوبصورت عورت نہ دوں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے عیینہ! اللہ تعالیٰ نے اس عمل کو حرام قرار دیا ہے۔ جب وہ شخص چلا گیا تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے دریافت کیا: یا رسول اللہ! یہ کون تھا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ ایک احمق رہنما تھا، تم نے اس کی ذہنی حالت دیکھی ہے اس کے باوجود یہ اپنی قوم کا سردار ہے۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 3513]
ترقیم العلمیہ: 3459
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه الدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3513، والبزار فى ((مسنده)) برقم: 8761»
«قال ابن حجر: إسناده ضعيف جدا، فتح الباري شرح صحيح البخاري: (9 / 88)»

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 3460 ترقیم الرسالہ : -- 3514
نَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُبَشِّرٍ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ ، نَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، نَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لا نِكَاحَ إِلا بِوَلِيٍّ" ،.
ابوبردہ اپنے والد کے حوالے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ولی کے بغیر نکاح نہیں ہوتا۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 3514]
ترقیم العلمیہ: 3460
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه ابن الجارود فى "المنتقى"، 760، 761، 762، 763، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 4077، 4078،والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 2725، 2726، 2727، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2085، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1101، 1102 م، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 1881،والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3514، 3516، 3518، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 3046، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 16186، 16188»
«‏‏‏‏قال البخاري: الزيادة من الثقة مقبولة وإسرائيل ثقة فإن كان شعبة والثوري أرسلاه فإن ذلك لا يضر الحديث، عون المعبود شرح سنن أبي داود: (2 / 190)»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 3461 ترقیم الرسالہ : -- 3515
نَا دَعْلَجُ بْنُ أَحْمَدَ ، عَنِ ابْنِ خُزَيْمَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا مُوسَى ، يَقُولُ: كَانَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ يُثْبِتُ حَدِيثَ إِسْرَائِيلَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، وَيَقُولُ: إِنَّمَا فَاتَنِي مِنْ حَدِيثِ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ مَا فَاتَنِي اتِّكَالا مِنِّي عَلَى حَدِيثِ إِسْرَائِيلَ.
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 3515]
ترقیم العلمیہ: 3461
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه ابن الجارود فى "المنتقى"، 760، 761، 762، 763، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 4077، 4078،والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 2725، 2726، 2727، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2085، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1101، 1102 م، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 1881،والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3514، 3516، 3518، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 3046، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 16186، 16188»
«‏‏‏‏قال البخاري: الزيادة من الثقة مقبولة وإسرائيل ثقة فإن كان شعبة والثوري أرسلاه فإن ذلك لا يضر الحديث، عون المعبود شرح سنن أبي داود: (2 / 190)»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 3462 ترقیم الرسالہ : -- 3516
نَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْهَمْدَانِيُّ الْقَاضِي، نَا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَاهَانَ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ السَّعْدِيُّ ، نَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ إِسْرَائِيلَ ، مثل قَوْلِ ابْنِ سِنَانٍ، قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ: فَقِيلَ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ: إِنَّ شُعْبَةَ، وَسُفْيَانَ يُوَقِّفَانِهِ عَلَى أَبِي بُرْدَةَ، فَقَالَ: إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ سُفْيَانَ، وَشُعْبَةَ.
عبدالرحمن ہمذانی نے اپنی سند کے حوالے سے اسے اسرائیل سے اس طرح نقل کیا ہے، جیسے ابن سنان نے نقل کیا ہے۔ محمد بن مخلد کہتے ہیں: عبدالرحمن ہمذانی سے کہا: شعبہ اور سفیان دونوں نے اسے ابوبردہ تک، موقوف، روایت کے طور پر نقل کیا ہے۔ تو انہوں نے فرمایا: اسرائیل نے ابواسحاق کے حوالے سے جو روایت نقل کی ہے، وہ میرے نزدیک سفیان اور شعبہ سے منقول روایت سے زیادہ پسندیدہ ہے۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 3516]
ترقیم العلمیہ: 3462
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه ابن الجارود فى "المنتقى"، 760، 761، 762، 763، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 4077، 4078،والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 2725، 2726، 2727، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2085، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1101، 1102 م، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 1881،والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3514، 3516، 3518، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 3046، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 16186، 16188»
«‏‏‏‏قال البخاري: الزيادة من الثقة مقبولة وإسرائيل ثقة فإن كان شعبة والثوري أرسلاه فإن ذلك لا يضر الحديث، عون المعبود شرح سنن أبي داود: (2 / 190)»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 3463 ترقیم الرسالہ : -- 3517
نَا دَعْلَجُ بْنُ أَحْمَدَ، نَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مَهْدِيٍّ أَبُو عَلِيٍّ، نَا صَالِحٌ جَزْرَةُ، نَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمَدِينِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ الرَّحْمَنِ بْنَ مَهْدِيٍّ، يَقُولُ: كَانَ إِسْرَائِيلُ يَحْفَظُ حَدِيثَ أَبِي إِسْحَاقَ كَمَا يَحْفَظُ سُورَةَ الْحَمْدُ، قَالَ صَالِحٌ: إِسْرَائِيلُ أَتْقَنُ فِي أَبِي إِسْحَاقَ خَاصَّةً.
دعلج بن احمر نے اپنی سند کے ہمراہ عبدالرحمن بن مہدی کا یہ فرمان نقل کیا ہے: اسرائیل کو ابواسحاق کی روایات اسی طرح یاد تھیں، جس طرح انہیں سورة فاتحہ یاد تھی۔ صالح فرماتے ہیں: اسرائیل بطور خاص ابواسحاق کی روایات کو زیادہ محفوظ طور پر (نقل کرتے ہیں)۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 3517]
ترقیم العلمیہ: 3463
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه ابن الجارود فى "المنتقى"، 760، 761، 762، 763، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 4077، 4078،والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 2725، 2726، 2727، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2085، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1101، 1102 م، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 1881،والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3514، 3516، 3518، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 3046، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 16186، 16188»
«‏‏‏‏قال البخاري: الزيادة من الثقة مقبولة وإسرائيل ثقة فإن كان شعبة والثوري أرسلاه فإن ذلك لا يضر الحديث، عون المعبود شرح سنن أبي داود: (2 / 190)»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 3464 ترقیم الرسالہ : -- 3518
نَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْمَالِكِيُّ بِالْبَصْرَةِ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى الْحَرَشِيُّ ، نَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، نَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لا نِكَاحَ إِلا بِوَلِيٍّ" .
ابوبردہ اپنے والد (سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ) کے حوالے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ولی کے بغیر نکاح نہیں ہوتا۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 3518]
ترقیم العلمیہ: 3464
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه ابن الجارود فى "المنتقى"، 760، 761، 762، 763، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 4077، 4078،والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 2725، 2726، 2727، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2085، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1101، 1102 م، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 1881،والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3514، 3516، 3518، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 3046، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 16186، 16188»
«‏‏‏‏قال البخاري: الزيادة من الثقة مقبولة وإسرائيل ثقة فإن كان شعبة والثوري أرسلاه فإن ذلك لا يضر الحديث، عون المعبود شرح سنن أبي داود: (2 / 190)»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 3465 ترقیم الرسالہ : -- 3519
نَا نَا ابْنُ أَبِي دَاوُدَ، حَدَّثَنِي عَمِّي، نَا ابْنُ الأَصْبَهَانِيِّ، نَا شَرِيكٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ:" لا نِكَاحَ إِلا بِوَلِيٍّ وَشُهُودٍ وَمَهْرٍ، إِلا مَا كَانَ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" .
ابوسعید فرماتے ہیں: ولی، گواہوں اور مہر کے بغیر نکاح درست نہیں ہوتا، البتہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم (کا نکاح ان کے بغیر بھی ہو سکتا ہے)۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 3519]
ترقیم العلمیہ: 3465
تخریج الحدیث: «أخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 13488، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3519»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 3466 ترقیم الرسالہ : -- 3520
نَا ابْنُ أَبِي دَاوُدَ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ ، نَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أنا ابْنُ جُرَيْجٍ ، حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ مُوسَى ، أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّ عُرْوَةَ أَخْبَرَهُ، أَنَّ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْهُ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" أَيُّمَا امْرَأَةٍ نُكِحَتْ بِغَيْرِ إِذْنِ وَلِيِّهَا فَنِكَاحُهَا بَاطِلٌ فَنِكَاحُهَا بَاطِلٌ فَنِكَاحُهَا بَاطِلٌ، فَإِنْ دَخَلَ بِهَا فَالْمَهْرُ لَهَا بِمَا أَصَابَ مِنْهَا، فَإِنْ تَشَاجَرُوا فَالسُّلْطَانُ وَلِيُّ مَنْ لا وَلِيَّ لَهُ" .
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتی ہیں: جو عورت ولی کے بغیر اجازت نکاح کر لے، اس کا نکاح باطل ہو گا، اس کا نکاح باطل ہو گا، اس کا نکاح باطل ہو گا، اگر مرد اس کے ساتھ صحبت کر لے، تو مرد کے اس عمل کی وجہ سے اس عورت کو مہر ملے گا، اگر ان کے درمیان آپس میں اختلاف ہو جائے، تو جس کا کوئی ولی نہ ہو، حاکم وقت اس کا ولی ہوتا ہے۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 3520]
ترقیم العلمیہ: 3466
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه ابن الجارود فى "المنتقى"، 759، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 4074، 4075، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 2721، 2722، 2723، 2724، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 5373، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2083، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1102، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 1879، 1880، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3520، 3533، 3534، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 2297، والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 230، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 16167، 16182، 37270»
«قال ابن حجر: حديث صحيح، فتح الباري شرح صحيح البخاري: (9 / 99)»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں