الحمدللہ ! رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حدیث 365 ایپ ریلیز کر دی گئی ہے۔
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
1. أول كتاب الطلاق وغيره
طلاق، خلع، ایلاء، وغیرہ کے بارے میں روایات
ترقیم العلمیہ : 3895 ترقیم الرسالہ : -- 3961
نَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، نَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، نَا عَمَّارُ بْنُ رُزَيْقٍ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ ، قَالَتْ:" طَلَّقَنِي زَوْجِي ثَلاثًا فَأَرَدْتُ النَّفَقَةَ، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" انْتَقِلِي إِلَى بَيْتِ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ" ، قَالَ أَبُو إِسْحَاقَ: فَلَمَّا حَدَّثَ بِهِ الشَّعْبِيُّ حَصَبَهُ الأَسْوَدُ، وَقَالَ: وَيْحَكَ تُحَدِّثُ، أَوْ تُفْتِي بِمِثْلِ هَذَا، قَدْ أَتَتْ عُمَرَ، فَقَالَ: إِنْ جِئْتِ بِشَاهِدَيْنِ يَشْهَدَانِ أَنَّهُمَا سَمِعَاهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَإِلا لَمْ نَتْرُكْ كِتَابَ اللَّهِ لِقَوْلِ امْرَأَةٍ لا تُخْرِجُوهُنَّ مِنْ بُيُوتِهِنَّ سورة الطلاق آية 1 الآيَةَ. وَلَمْ يَقُلْ فِيهِ: وَسُنَّةَ نَبِيِّهِ، وَهَذَا أَصَحُّ مِنَ الَّذِي قَبْلَهُ، لأَنَّ هَذَا الْكَلامَ لا يُثْبَتُ، وَيَحْيَى بْنُ آدَمَ أَحْفَظُ مِنْ أَبِي أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيِّ وَأَثْبَتُ مِنْهُ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ. وَقَدْ تَابَعَهُ قَبِيصَةُ بْنُ عُقْبَةَ.
سیدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میرے شوہر نے مجھے تین طلاقیں دے دیں۔ میں نے خرچ حاصل کرنا چاہا۔ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی، تو آپ نے فرمایا: ”تم ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کے گھر منتقل ہو جاؤ۔“ ابواسحاق بیان کرتے ہیں: جب شعبی نے یہ روایت بیان کی، تو اسود نے انہیں کنکریاں مارتے ہوئے فرمایا: تمہارا ستیاناس ہو، تم یہ روایت بیان کر رہے ہو یا اس روایت کی بنیاد پر فتویٰ دیتے ہو۔ وہ خاتون سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں بھی حاضر ہوئی تھی۔ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے یہ فرمایا تھا: اگر تو تم دو ایسے گواہ لے کر آتی ہو، جو اس بات کی گواہی دیں کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے، تو ٹھیک ہے، ورنہ ہم ایک عورت کے بیان کی وجہ سے اللہ کی کتاب کے حکم کو ترک نہیں کریں گے (وہ حکم یہ ہے): ”تم انہیں ان کے گھر سے نہ نکالو اور وہ بھی نہ نکلیں، ماسوائے اس صورت کے کہ وہ واضح برائی کا ارتکاب کریں۔“ اس روایت میں راوی نے یہ الفاظ نقل نہیں کیے: اور اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت (کا حکم) ترک نہیں کریں گے۔ یہ روایت اس سے پہلے روایت کے مقابلے میں زیادہ مستند ہے، کیونکہ یہ الفاظ ثابت نہیں ہیں۔ یحییٰ نامی راوی نے ابواحمد زبیری کے مقابلے میں بڑے حافظہ اور زیادہ مستند ہیں۔ باقی اللہ بہتر جانتا ہے۔ [سنن الدارقطني/ كتاب الطلاق والخلع والإيلاء وغيره/حدیث: 3961]
ترقیم العلمیہ: 3895
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1480، ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 1151، وابن الجارود فى "المنتقى"، 821، 822، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 4049، 4250، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 3224، 3239، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2284، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1135، 1135 م، 1180، 1180 م، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 1869، 2024، 2032، 2035، 2036،والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3920، 3952، 3954، 3957، 3958، 3960، 3961، 3962، 3963، 3970، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 27742، والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 367، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 18989، 18990، 19175»
الرواة الحديث:
عامر الشعبي ← فاطمة بنت قيس الفهرية