سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
1. أول كتاب الطلاق وغيره
طلاق، خلع، ایلاء، وغیرہ کے بارے میں روایات
ترقیم العلمیہ : 3904 ترقیم الرسالہ : -- 3970
نَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، وَنا يُوسُفُ بْنُ سَعِيدٍ ، نَا حَجَّاجٌ ، نَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ: وَحَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ ، أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ" أَنَّهَا كَانَتْ عِنْدَ أَبِي عَمْرِو بْنِ حَفْصِ بْنِ الْمُغِيرَةِ، فَطَلَّقَهَا آخِرَ ثَلاثِ تَطْلِيقَاتٍ، فَزَعَمَتْ أَنَّهَا جَاءَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَاسْتَفْتَتْهُ فِي خُرُوجِهَا مِنْ بَيْتِهَا فَأَمَرَهَا أَنْ تَنْتَقِلَ إِلَى بَيْتِ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ، فَأَبَى مَرْوَانُ إِلا أَنْ يَتَّهِمَ فَاطِمَةَ فِي خُرُوجِ الْمُطَلَّقَةِ مِنْ بَيْتِهَا وَزَعَمَ عُرْوَةُ، أَنَّ عَائِشَةَ أَنْكَرَتْ ذَلِكَ عَلَى فَاطِمَةَ، وَأَنَّ عَائِشَةَ كَانَتْ تَنْهَى الْمُطَلَّقَةَ أَنْ تَخْرُجَ مِنْ بَيْتِهَا، حَتَّى تَنْقَضِيَ عِدَّتُهَا" .
ابوسلمہ بن عبدالرحمن، سیدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: وہ خاتون ابوعمرو بن حفص بن مغیرہ کی بیوی تھیں، انہوں نے اسے تیسری طلاق بھی دے دی، وہ خاتون نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں، تو آپ سے یہ مسئلہ دریافت کیا: کیا وہ اپنے گھر سے باہر نکل سکتی ہے (یعنی کسی دوسری جگہ منتقل ہو سکتی ہیں)؟ تو نبی نے اسے یہ ہدایت کی: ”وہ ابن ام مکتوم کے ہاں منتقل ہو جائے۔“ مروان نے اس بات کو تسلیم نہیں کیا کہ مطلقہ عورت اپنے گھر سے نکل سکتی ہے، اس نے سیدہ فاطمہ بنت قیس کے بیان کو معتبر تسلیم نہیں کیا۔ عروہ بیان کرتے ہیں: سیدہ عائشہ نے بھی فاطمہ بنت قیس کے بیان کو تسلیم نہیں کیا، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا مطلقہ عورت کو اس بات سے منع کرتی تھیں کہ وہ اپنے گھر سے نکلے، جب تک اس کی عدت پوری نہیں ہو جاتی۔ [سنن الدارقطني/ كتاب الطلاق والخلع والإيلاء وغيره/حدیث: 3970]
ترقیم العلمیہ: 3904
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1480، ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 1151، وابن الجارود فى "المنتقى"، 821، 822، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 4049، 4250، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 3224، 3239، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2284، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1135، 1135 م، 1180، 1180 م، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 1869، 2024، 2032، 2035، 2036،والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3920، 3952، 3954، 3957، 3958، 3960، 3961، 3962، 3963، 3970، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 27742، والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 367، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 18989، 18990، 19175»
الرواة الحديث:
أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري ← فاطمة بنت قيس الفهرية