سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
1. أول كتاب الطلاق وغيره
طلاق، خلع، ایلاء، وغیرہ کے بارے میں روایات
ترقیم العلمیہ : 3913 ترقیم الرسالہ : -- 3979
نَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ مِرْدَاسٍ ، نَا أَبُو دَاوُدَ السِّجِسْتَانِيُّ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ ، وَأَبُو ثَوْرٍ إِبْرَاهِيمُ بْنُ خَالِدٍ ، وَآَخَرُونَ، قَالُوا: نَا الشَّافِعِيُّ ، حَدَّثَنِي عَمِّي مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ شَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ نَافِعِ بْنِ عُجَيْرِ بْنِ عَبْدِ يَزِيدَ ، أَنَّ رُكَانَةَ بْنَ عَبْدِ يَزِيدَ " طَلَّقَ امْرَأَتَهُ سُهَيْمَةَ الْبَتَّةَ، فَأُخْبِرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذَلِكَ، فَقَالَ: وَاللَّهِ مَا أَرَدْتُ إِلا وَاحِدَةً، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَاللَّهِ مَا أَرَدْتَ إِلا وَاحِدَةً؟، فَقَالَ رُكَانَةُ: وَاللَّهِ مَا أَرَدْتُ إِلا وَاحِدَةً، فَرَدَّهَا إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَطَلَّقَهَا الثَّانِيَةَ فِي زَمَانِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، وَالثَّالِثَةَ فِي زَمَانِ عُثْمَانَ" ، قَالَ أَبُو دَاوُدَ: وَهَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ.
نافع بن عجیر بیان کرتے ہیں: سیدنا رکانہ بن یزید نے اپنی بیوی، سہیمہ، کو طلاق بتا دی، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بارے میں بتایا، انہوں نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! میں نے اپنی بیوی، سہیمہ، کو طلاق بتا دی ہے، اللہ کی قسم! میں نے اس کے ذریعے صرف ایک طلاق دینے کا ارادہ کیا تھا۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا رکانہ رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا: ”اللہ کی قسم! کیا تم نے صرف ایک ہی طلاق مراد لی تھی؟“ سیدنا رکانہ رضی اللہ عنہ نے عرض کی: ”اللہ کی قسم! میں نے صرف ایک ہی طلاق مراد لی تھی۔“ تو نبی نے اس خاتون کو واپس بھجوا دیا تھا۔ سیدنا رکانہ رضی اللہ عنہ نے اس خاتون کو دوسری طلاق سیدنا عمر اور تیسری طلاق سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں دی تھی۔ امام داؤد کہتے ہیں: یہ حدیث صحیح ہے۔ [سنن الدارقطني/ كتاب الطلاق والخلع والإيلاء وغيره/حدیث: 3979]
ترقیم العلمیہ: 3913
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه ابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 4274، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 2823، 2824، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2206، 2208، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1177، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2051، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3978، 3979، 3980، 3981، 3982، 3983، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 24471، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 18437، والطبراني فى((الكبير)) برقم: 4612»
«ضعيف مضطرب، تحفة الأحوذي شرح سنن الترمذي: (2 / 209)»
«ضعيف مضطرب، تحفة الأحوذي شرح سنن الترمذي: (2 / 209)»
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
الرواة الحديث:
نافع بن عجير القرشي ← ركانة بن عبد يزيد القرشي