سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
1. باب الفرائض والسير وغير ذلك
کتاب وراثت، سیر وغیرہ سے متعلق روایات
ترقیم العلمیہ : 3994 ترقیم الرسالہ : -- 4064
نَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدٍ وَكِيلُ أَبِي صَخْرَةَ ، نَا عَلِيُّ بْنُ حَرْبٍ ، نَا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى ، نَا عُمَرُ بْنُ رَاشِدٍ . ح وَنا الْحُسَيْنُ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَيَّاشٍ ، نَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ ، نَا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ ، أنا عُمَرُ بْنُ رَاشِدِ بْنِ شَجَرَةَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لا تَرِثُ مِلَّةٌ مِلَّةً، وَلا يَجُوزُ شَهَادَةُ أَهْلِ مِلَّةٍ عَلَى مِلَّةٍ إِلا أُمَّتِي، فَإِنَّهُمْ يَجُوزُ شَهَادَتُهُمْ عَلَى مَنْ سِوَاهُمْ" ، لَفْظُ ابْنِ عَيَّاشٍ، إِلا أَنَّهُ قَالَ فِي حَدِيثِهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: أَحْسَبُ شَكَّ عُمَرُ، وَعُمَرُ بْنُ رَاشِدٍ لَيْسَ بِالْقَوِيِّ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”ایک مذہب دوسرے مذہب کا وارث نہیں بنتا اور ایک مذہب سے تعلق رکھنے والے لوگوں کی گواہی دوسرے مذہب کے خلاف قبول نہیں کی جا سکتی، البتہ میری امت کا حکم مختلف ہے، کیونکہ ان کی گواہی دوسرے سب لوگوں کے حق میں قبول کی جائے گی۔“ روایت کے یہ الفاظ عیاش نامی راوی کے ہیں، تاہم انہوں نے اپنی روایت میں یہ بات نقل کی ہے: ”میرا خیال ہے کہ روایت کے الفاظ میں شک عمر نامی راوی کو ہے اور عمر نامی راوی عمر بن راشد ہے، جو مستند نہیں ہے۔“ [سنن الدارقطني/ كتاب الفرائض/حدیث: 4064]
ترقیم العلمیہ: 3994
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 20683، 20684، 20685، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4064، والبزار فى ((مسنده)) برقم: 8631، وأورده ابن حجر فى "المطالب العالية"، 2198، وأخرجه عبد الرزاق فى ((مصنفه)) برقم: 15525، وأخرجه ابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 23337، وأخرجه الطبراني فى ((الأوسط)) برقم: 5434»
«قال ابن حجر: وفيه عمر بن راشد قال إنه تفرد به وهو لين الحديث، التلخيص الحبير في تخريج أحاديث الرافعي الكبير: (3 / 183)»
«قال ابن حجر: وفيه عمر بن راشد قال إنه تفرد به وهو لين الحديث، التلخيص الحبير في تخريج أحاديث الرافعي الكبير: (3 / 183)»
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
الرواة الحديث:
أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري ← أبو هريرة الدوسي