الحمدللہ ! رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حدیث 365 ایپ ریلیز کر دی گئی ہے۔
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
1. باب النذور
باب: نذر کے مسائل
ترقیم العلمیہ : 4246 ترقیم الرسالہ : -- 4323
نَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ الْحَرَّانِيُّ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، نَا أَبِي ، نَا أَيُّوبُ بْنُ سُوَيْدٍ الرَّمْلِيُّ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عُمَارَةَ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" مَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أَبِي إِسْرَائِيلَ، وَهُوَ قَائِمٌ فِي الشَّمْسِ، فَقَالَ: مَا بَالُ هَذَا؟، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، نَذَرَ أَنْ لا يَتَكَلَّمَ، وَلا يَسْتَظِلَّ، وَلا يَقْعُدَ وَأَنْ يَصُومَ، فَقَالَ: مُرُوهُ فَلْيَتَكَلَّمْ وَلْيَسْتَظِلَّ وَلْيَقْعُدْ، وَلْيَصُمْ"، وَلَمْ يَأْمُرْهُ بِالْكَفَّارَةِ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ابواسرائیل نامی صاحب کے پاس سے گزرے، جو دھوپ میں کھڑے ہوئے تھے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”اس کا کیا معاملہ ہے؟“ انہوں نے بتایا کہ اس نے یہ نذر مانی ہے کہ یہ کلام نہیں کرے گا اور سائے میں نہیں آئے گا اور بیٹھے گا نہیں اور روزہ رکھے گا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس سے کہو کہ وہ بات چیت کرے، سائے میں بھی آ جائے، بیٹھ بھی جائے اور روزہ بھی رکھ لے۔“ (راوی کہتے ہیں:) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کفارہ دینے کی ہدایت نہیں کی۔ [سنن الدارقطني/ النذور/حدیث: 4323]
ترقیم العلمیہ: 4246
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 6704، وابن الجارود فى "المنتقى"، 1010، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 4385، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 3228، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2136، 2136 م، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 20150، 20152، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4323، 4324، 4325، 4326، 4327»
الرواة الحديث:
سعيد بن جبير الأسدي ← عبد الله بن العباس القرشي