سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
1. باب النذور
باب: نذر کے مسائل
ترقیم العلمیہ : 4269 ترقیم الرسالہ : -- 4348
نَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ ، حَدَّثَنِي صَالِحُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ التِّرْمِذِيُّ ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي الْقَاسِمِ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" كَانَ تَمِيمٌ الدَّارِيُّ، وَعَدِيُّ بْنُ بَدَّاءٍ وَكَانَا يَخْتَلِفَانِ إِلَى مَكَّةَ بِالتِّجَارَةِ، فَخَرَجَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي سَهْمٍ فَتُوُفِّيَ بِأَرْضٍ لَيْسَ بِهَا مُسْلِمٌ، فَأَوْصَى إِلَيْهِمَا فَدَفَعَا تَرِكَتَهُ إِلَى أَهْلِهِ وَحَبَسَا جَامًا مِنْ فِضَّةٍ مُخَوَّصًا بِالذَّهَبِ، فَاسْتَحْلَفَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا كَتَمْتُمَا وَلا اطَّلَعْتُمَا، ثُمَّ عُرِفَ الْجَامُ بِمَكَّةَ، فَقَالُوا: اشْتَرَيْنَاهُ مِنْ عَدِيِّ بْنِ بَدَّاءٍ وَتَمِيمٍ، فَقَدِمَ رَجُلانِ مِنْ أَوْلِيَاءِ السَّهْمِيِّ فَحَلَفَا بِاللَّهِ أَنَّ هَذَا الْجَامَ لِلسَّهْمِيِّ وَلَشَهَادَتُهُمَا أَحَقُّ مِنْ شَهَادَتِهِمَا وَمَا اعْتَدَيْنَا إِنَّا إِذًا لَمِنَ الظَّالِمِينَ، فَأَخَذُوا الْجَامَ وَفِيهِمْ نزلت هَذِهِ الآيَةُ" .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: تمیم داری اور عدی بن بداء تجارت کے لیے مکہ آیا جایا کرتے تھے، اسی دوران بنو سہم قبیلے سے تعلق رکھنے والا ایک شخص جا رہا تھا، اس کا انتقال ایسی جگہ پر ہو گیا، جہاں کوئی مسلمان نہیں رہتا تھا، اس نے مرتے وقت ان دونوں کو وصیت کی کہ وہ اس کا مال اس کے گھر والوں تک پہنچا دیں، ان لوگوں نے اس میں سے چاندی کا ایک پیالہ روک لیا، جس پر سونے کا کام کیا گیا تھا۔ جب یہ مقدمہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش ہوا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں قسم اٹھانے کے لیے کہا اور فرمایا: ”تم اللہ کے نام کی قسم اٹھا کر یہ بات کہو کہ تم نے اس میں سے کچھ بھی نہیں چھپایا ہے اور تمہیں اس کے بارے میں کوئی علم بھی نہیں ہے۔“ اس کے بعد مکہ میں وہ پیالہ مل گیا، تو جس شخص کے پاس سے ملا، اس نے بتایا کہ ”میں نے یہ عدی بن بداء اور تمیم سے خریدا ہے۔“ تو سہم قبیلے سے تعلق رکھنے والے اس شخص کے وارثوں میں سے دو آدمی آگئے، انہوں نے یہ قسم اٹھائی کہ ”یہ پیالہ سہم قبیلے کے اس شخص کا ہے اور ہم دونوں کی گواہی ان کی گواہی کے مقابلے میں زیادہ سچی ہے، ہم نے کوئی زیادتی نہیں کی ہے، ورنہ ایسی صورت میں ہمیں ظالم شمار کیا جائے۔“ چنانچہ ان وارثوں نے وہ پیالہ حاصل کر لیا اور ان کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی۔ [سنن الدارقطني/ النذور/حدیث: 4348]
ترقیم العلمیہ: 4269
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 2780، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 3606، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 3060، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 20691، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4348، 4349»
«قال النسائي: غريب وهو حديث ابن أبي زائدة، تهذيب الكمال: (18 / 310)»
«قال النسائي: غريب وهو حديث ابن أبي زائدة، تهذيب الكمال: (18 / 310)»
الرواة الحديث:
سعيد بن جبير الأسدي ← عبد الله بن العباس القرشي