سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
3. باب : فى حبس المشاع
باب: زمین کو اپنے پاس رکھنا (اور پیداوارکو وقف کردینا)
ترقیم العلمیہ : 4354 ترقیم الرسالہ : -- 4434
نَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ الْوَاسِطِيُّ ، نَا مُوسَى بْنُ هَارُونَ ، نَا أَبُو بَكْرٍ الأَثْرَمُ ، نَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ دُبَيْسٍ الْكِنْدِيُّ ، نَا صَالِحُ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ، أَصَابَ أَرْضًا بِخَيْبَرَ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" إِنِّي أَصَبْتُ أَرْضًا بِخَيْبَرَ مَا أَصَبْتُ مَالا هُوَ أَنْفَسُ عِنْدِي مِنْهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنْ شِئْتَ حَبَسْتَ أَصْلَهَا، وَتَصَدَّقْتَ بِهَا، فَقَالَ: فَحَبَسَ عُمَرُ أَصْلَهَا وَتَصَدَّقَ بِهَا، لا تُبَاعُ، وَلا تُوهَبُ، وَلا تُورَثُ، فِي الْفُقَرَاءِ، وَذَوِي الْقُرْبَى، وَالرِّقَابِ، وَالضَّيْفِ، وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَابْنِ السَّبِيلِ، وَلا جُنَاحَ عَلَى مَنْ وَلِيَهَا أَنْ يَأْكُلَ بِالْمَعْرُوفِ وَيُطْعِمَ صَدِيقًا غَيْرَ مُتَمَوِّلٍ مِنْهُ مَالا" ، قَالَ الأَثْرَمُ: أَفَادَنا ابْنُ نُمَيْرٍ هَذَا الشَّيْخَ.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو خیبر میں زمین ملی، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، انہوں نے عرض کی: ”مجھے خیبر میں زمین ملی ہے، مجھے کبھی ایسی زمین نہیں ملی، جو میرے نزدیک اس زمین سے زیادہ بہترین ہو۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اگر تم چاہو، تو اصل زمین کو اپنے پاس رکھو اور اس کی پیداوار کو صدقہ کر دو۔“ راوی بیان کرتے ہیں: تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اصل زمین کو اپنے پاس رکھا اور اس کی پیداوار کو صدقہ کر دیا، اس طرح کہ اس زمین کو فروخت نہیں کیا جا سکے گا، ہبہ نہیں کیا جا سکے گا، اسے وراثت میں تقسیم نہیں کیا جا سکے گا، اس کی پیداوار غریبوں، قریبی رشتے داروں، مہمانوں، مجاہدین اور مسافروں میں تقسیم ہو گی۔ جو شخص اس کا نگران ہو گا، اسے کوئی گناہ نہیں ہو گا، اگر وہ مناسب طریقے سے اس میں سے کھا لیتا ہے، یا اپنے دوست کو کھلا دیتا ہے، جبکہ وہ مال جمع کرنے والا نہ ہو۔ [سنن الدارقطني/ كتاب الأحباس/حدیث: 4434]
ترقیم العلمیہ: 4354
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 2313، 2737، 2764، 2772، 2773، 2777، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1633،وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 2483، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2878،والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 3627، 3629، 3630، 3631، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1375، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 3340، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2396، 2397، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4402، 4403، 4404، 4405، 4406، 4407، 4408، 4409، 4410، 4411، 4412، 4413، 4414، 4415، 4416، 4417، 4418، 4419، 4420، 4425، 4426، 4427، 4428، 4429، 4430، 4431، 4432، 4433، 4434، 4435، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 4698، والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 667، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 21333»
«قال الدارقطني: وهو حديث ص
«قال الدارقطني: وهو حديث ص
الرواة الحديث:
عبد الله بن عمر العدوي ← عمر بن الخطاب العدوي