سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
6. باب الشفعة
باب: حق شفعہ کا بیان
ترقیم العلمیہ : 4490 ترقیم الرسالہ : -- 4570
نَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، نَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، وَهِشَامُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، أَنَّ رَجُلا مِنْ مُزَيْنَةَ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" كَيْفَ تَرَى يَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَرِيسَةِ الْجَبَلِ؟ قَالَ: هِيَ وَمِثْلُهَا، وَالنَّكَالُ لَيْسَ فِي شَيْءٍ مِنَ الْمَاشِيَةِ قَطْعٌ إِلا مَا أَوَاهُ الْمُرَاحُ فَبَلَغَ ثَمَنَ الْمِجَنِّ فَفِيهِ قَطْعُ الْيَدِ، وَمَا لَمْ يَبْلُغْ ثَمَنَ الْمِجَنِّ فَفِيهِ غَرَامَتُهُ وَجَلَدَاتُ نَكَالٍ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَيْفَ تَرَى فِي الثَّمَرِ الْمُعَلَّقِ؟، قَالَ: هُوَ وَمِثْلُهُ مَعَهُ وَالنَّكَالُ، وَلَيْسَ فِي شَيْءٍ مِنَ الثَّمَرِ الْمُعَلَّقِ قَطْعٌ إِلا مَا أَوَاهُ الْجَرِينُ فَمَا أُخِذَ مِنَ الْجَرِينِ فَبَلَغَ ثَمَنَ الْمِجَنِّ فَفِيهِ الْقَطْعُ، وَمَا لَمْ يَبْلُغْ ثَمَنَ الْمِجَنِّ فَفِيهِ غَرَامَتُهُ، وَجَلَدَاتُ نَكَالٍ، قَالَ: فَكَيْفَ تَرَى فِيمَا يُوجَدُ فِي الطَّرِيقِ الْمِيتَاءِ وَفِي الْقَرْيَةِ الْمَسْكُونَةِ؟، قَالَ: عَرِّفْهُ سَنَةً، فَإِنْ جَاءَ بَاغِيهِ فَادْفَعْهُ إِلَيْهِ، وَإِلا فَشَأْنُكَ بِهِ فَإِنْ جَاءَ طَالِبُهَا يَوْمًا مِنَ الدَّهْرِ، فَأَدِّهَا إِلَيْهِ، وَمَا كَانَ فِي الْمِيتَاءِ الْمَسْكُونَةِ فَفِيهِ وَفِي الرِّكَازِ الْخُمُسُ، قَالَ: كَيْفَ تَرَى فِي ضَالَّةِ الْغَنَمِ؟ قَالَ: طَعَامٌ مَأْكُولٌ لَكَ، أَوْ لأَخِيكَ، أَوْ لِلذِّئْبِ احْبِسْ عَلَى أَخِيكَ ضَالَّتَهُ"، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَيْفَ تَرَى فِي ضَالَّةِ الإِبِلِ؟، قَالَ: مَا لَكَ وَلَهَا مَعَهَا سِقَاؤُهَا وَحِذَاؤُهَا، وَلا يُخَافُ عَلَيْهَا الذِّئْبَ، تَأْكُلُ الْكَلأَ وَتَرِدُ الْمَاءَ دَعْهَا حَتَّى يَأْتِيَ طَالِبُهَا" .
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ مزینہ قبیلے سے تعلق رکھنے والا ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اس نے عرض کی: یا رسول اللہ! اگر کوئی شخص رسی چرا لیتا ہے، تو اس بارے میں آپ کیا ارشاد فرماتے ہیں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس اور اس طرح کی (دوسری چیزوں) میں سزا دی جائے گی۔ کسی جانور کی چوری پر ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا، البتہ جس جانور کو حفاظت کے ساتھ رکھا گیا ہو اس کو چرانے پر ہاتھ کاٹا جائے گا، جس کی قیمت ڈھال کی قیمت کی جتنی ہو گی، اس صورت میں ہاتھ کاٹا جائے گا، اگر اس کی قیمت کم ہو گی تو اس صورت میں تاوان وصول کیا جائے گا اور ساتھ کوڑے لگائے جائیں گے۔“ اس شخص نے دریافت کیا: درخت پر لگے ہوئے پھل کو چوری کرنے کا کیا حکم ہو گا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس طرح کی چیز کی چوری پر کوڑے لگائے جائیں گے، درخت پر لگے پھل کو چوری کرنے پر ہاتھ نہیں کاٹے جائیں گے۔ اگر پھل کو کسی جگہ سکھانے کے لیے رکھا ہو اور وہاں سے چوری ہو، تو پھر ہاتھ کاٹا جائے گا۔ اس لیے وہاں سے چوری کیا گیا پھل اگر ڈھال کی قیمت جتنا ہو گا تو ہاتھ کاٹا جائے گا، لیکن اگر اتنی قیمت نہ ہو گی تو ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔“ اس نے عرض کی: جو چیز راستے میں یا کسی رہائشی علاقے میں سے چوری جاتی ہے، تو اس کے بارے میں کیا حکم ہے؟ یا کوئی چیز گری ہوئی ملتی ہے؟ تو اس کے بارے میں کیا حکم ہو گا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم سال بھر اس کا اعلان کرتے رہو، اگر اس کا مالک آ جائے تو اسے ادا کر دو، ورنہ اسے استعمال کر لو۔ اس کا مالک جس وقت بھی تمہارے پاس آئے گا، تم اسے ادا کر دو گے۔ اگر کوئی چیز غیر آباد بستی میں یا انجان راستے میں سے ملے، اس میں سے نکلنے والے خزانے میں پانچویں حصے کی ادائیگی کا حکم ہے۔“ اس شخص نے دریافت کیا: اگر گم شدہ بکری ملتی ہے، تو اس کے بارے میں آپ کا کیا حکم ہے؟ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ تمہیں ملے گی یا تمہارے کسی بھائی کو ملے گی یا بھیڑیے کو مل جائے گی، اس لیے اسے اپنے بھائی کی گم شدہ چیز کے طور پر سنبھالو۔“ اس شخص نے عرض کی: گم شدہ اونٹ کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کو کوئی پروا نہیں ہے، اس کا پیٹ اور اس کا پاؤں اس کے ساتھ ہے، وہ خود کھا لے گا، پانی پی لے گا، یہاں تک کہ اس کا مالک اس تک پہنچ جائے گا۔“ [سنن الدارقطني/ كتاب فى الأقضية والأحكام وغير ذلك/حدیث: 4570]
ترقیم العلمیہ: 4490
تخریج الحدیث: «أخرجه ابن الجارود فى "المنتقى"، 727، 893، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 2327، 2328، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 2387، 8243،والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 4961، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: بدون ترقيم، 1710،برقم: 4390، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1289، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2596، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3421، 3422، 3428، 3429، 3430، 3431، 3436، 4567، 4570، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 6797، والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 608،وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 10871، 20678»
الرواة الحديث:
شعيب بن محمد السهمي ← عبد الله بن عمرو السهمي