سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
1. كتاب الأشربة وغيره
مشروبات وغیرہ کے بارے میں روایات
ترقیم العلمیہ : 4611 ترقیم الرسالہ : -- 4694
نَا إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْفَضْلِ الزَّيَّاتُ ، نَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، نَا جَرِيرٌ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ الشَّيْبَانِيِّ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ الْقَعْقَاعِ ، قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ " عَنِ النَّبِيذِ الشَّدِيدِ، فَقَالَ: جَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَجْلِسٍ فَوَجَدَ مِنْ رَجُلٍ رِيحَ نَبِيذٍ، فَقَالَ: مَا هَذِهِ الرِّيحُ؟، قَالَ: رِيحُ نَبِيذٍ، قَالَ: فَأَرْسَلَ فَلْيُؤْتَ مِنْهُ، فَأَرْسَلَ فَأُتِيَ بِهِ فَوَضَعَ فِيهِ رَأْسَهُ، فَشَمَّهُ، ثُمَّ رَجَعَ فَرَدَّهُ، حَتَّى إِذَا قَطَعَ الرَّجُلُ الْبَطْحَاءَ رَجَعَ، فَقَالَ: أَحَرَامٌ أَمْ حَلالٌ؟ قَالَ: فَوَضَعَ رَأْسَهُ فِيهِ فَوَجَدَهُ شَدِيدًا فَصَبَّ عَلَيْهِ الْمَاءَ، ثُمَّ شَرِبَ، فَقَالَ: إِذَا اغْتَلَمَتْ أَسْقِيَتُكُمْ فَأَكْسِرُوهَا بِالْمَاءِ" ، كَذَا قَالَ مَالِكُ بْنُ الْقَعْقَاعِ، وَقَالَ غَيْرُهُ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ نَافِعِ بْنِ أَخِي الْقَعْقَاعِ، وَهُوَ رَجُلٌ مَجْهُولٌ ضَعِيفٌ، وَالصَّحِيحُ عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَا أَسْكَرَ كَثِيرُهُ فَقَلِيلُهُ حَرَامٌ"، وَقَدْ تَقَدَّمَ ذِكْرُهُ.
مالک بن ثقفی بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے تیز نبیذ کے بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا: ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک محفل میں بیٹھے ہوئے تھے، آپ کو ایک شخص سے نبیذ کی بو محسوس ہوئی، آپ نے دریافت کیا: ”یہ کس چیز کی بو ہے؟“ اس نے عرض کی: یہ نبیذ کی بو ہے۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے تحت وہ نبیذ منگوائی گئی، اس شخص نے وہ نبیذ بھجوائی، وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لائی گئی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنا چہرہ مبارک اس کے پاس لے گئے اور اسے سونگھا، پھر آپ چہرہ واپس لے آئے اور اس کو واپس کر دیا۔ جب وہ شخص بطحا سے جا چکا تھا تو وہ شخص پھر واپس آیا اور اس نے دریافت کیا: کیا یہ حرام ہے یا حلال ہے؟ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سر مبارک پھر اس کے قریب کیا اور اس کی تیز بو کو محسوس کر کے اس میں پانی ملا دیا، پھر اسے پی لیا، آپ نے فرمایا: ”جب تمہارے مشکیزوں میں جوش پیدا ہو جائے تو اسے پانی کے ذریعے ختم کرو۔“ یہ روایت اسی طرح منقول ہے، تاہم سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے حوالے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مستند طور پر یہ بات منقول ہے: ”جس چیز کی زیادہ مقدار نشہ پیدا کرے، اس کی تھوڑی مقدار بھی حرام ہوتی ہے۔“ یہ روایت پہلے گزر چکی ہے۔ [سنن الدارقطني/ كتاب الأشربة وغيرها/حدیث: 4694]
ترقیم العلمیہ: 4611
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه النسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 5710، برقم: 5711، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 5184، 5185، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 17528،والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4694، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 24338، 24359، 24691»
«قال البخاري: لا يتابع عليه، تهذيب التهذيب: (2 / 627)»
«قال البخاري: لا يتابع عليه، تهذيب التهذيب: (2 / 627)»
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
الرواة الحديث:
Sunan al-Daraqutni Hadith 4694 in Urdu
مالك بن القعقاع ← عبد الله بن عمر العدوي