یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
62. باب: ما جاء فى القيء أو التجشؤ الحامض فى الصلاة
باب: نماز کے دوران قے آنے یا کھٹا ڈکار آنے کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
ترقیم العلمیہ : 560 ترقیم الرسالہ : -- 570
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ النُّعْمَانِيُّ ، وَالْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْقَاضِي، قَالا: نا أَبُو عُتْبَةَ أَحْمَدُ بْنُ الْفَرَجِ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ حِمْيَرٍ ، نا سُلَيْمَانُ بْنُ أَرْقَمَ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِذَا رَعَفَ أَحَدُكُمْ فِي صَلاتِهِ أَوْ قَلَسَ فَلْيَنْصَرِفْ فَلْيَتَوَضَّأْ، وَلِيَرْجِعْ فَلْيُتِمَّ صَلاتَهُ عَلَى مَا مَضَى مِنْهَا مَا لَمْ يَتَكَلَّمْ" .
ابن جریج اپنے والد کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی: ”جب کسی شخص کی نماز کے دوران نکسیر پھوٹ پڑے یا اسے قے آ جائے، وہ واپس جائے، وضو کرے اور واپس آکر وہیں سے نماز کو آگے پورا کرے، جہاں سے وہ چھوڑ کر گیا تھا، (یہ حکم اس وقت تک ہے)، جب تک اس نے کلام نہ کیا ہو۔“ [سنن الدارقطني/كتاب الطهارة/حدیث: 570]
ترقیم العلمیہ: 560
تخریج الحدیث: «أخرجه ابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 1221، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 679، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 563، 564، 565، 566، 567، 568، 569، 570، 571، 572، 573، وعبد الرزاق فى ((مصنفه)) برقم: 524، 3618، والطبراني فى ((الأوسط)) برقم: 5429»
الرواة الحديث:
Sunan al-Daraqutni Hadith 570 in Urdu
ابن جريج المكي ← عبد العزيز بن جريج القرشي