سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
66. باب التيمم
باب۔ تیمم کا بیان
ترقیم العلمیہ : 672 ترقیم الرسالہ : -- 684
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُبَشِّرٍ ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ . ح وَحَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، قَالا: نا أَبُو مُعَاوِيَةَ، نا الأَعْمَشُ ، عَنْ شَقِيقٍ ، قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا مَعَ عَبْدِ اللَّهِ وَأَبِي مُوسَى ، فَقَالَ أَبُو مُوسَى: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَرَأَيْتَ لَوْ أَنَّ رَجُلا أَجْنَبَ فَلَمْ يَجِدِ الْمَاءَ شَهْرًا أَكَانَ يَتَيَمَّمُ؟ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: لا يَتَيَمَّمُ، وَإِنْ لَمْ يَجِدِ الْمَاءَ شَهْرًا، فَقَالَ لَهُ أَبُو مُوسَى: فَكَيْفَ تَصْنَعُونَ بِهَذِهِ الآيَةِ فِي سُورَةِ الْمَائِدَةِ: فَلَمْ تَجِدُوا مَاءً فَتَيَمَّمُوا صَعِيدًا طَيِّبًا سورة المائدة آية 6، فَقَالَ لَهُ: لَوْ رُخِّصَ لَهُمْ فِي هَذَا لأَوْشَكُوا إِذَا بَرُدَ عَلَيْهِمُ الْمَاءُ أَنْ يَتَيَمَّمُوا بِالصَّعِيدِ، قَالَ: فَقَالَ لَهُ أَبُو مُوسَى: فَإِنَّمَا كَرِهْتُمْ هَذَا لِهَذَا؟ قَالَ: نَعَمْ، فَقَالَ لَهُ أَبُو مُوسَى: أَلَمْ تَسْمَعْ قَوْلَ عَمَّارٍ لِعُمَرَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَاجَةٍ فَأَجْنَبْتُ فَلَمْ أَجِدِ الْمَاءَ فَتَمَرَّغْتُ فِي الصَّعِيدِ كَمَا تَمَرَّغُ الدَّابَّةُ، ثُمَّ جِئْتُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّمَا كَانَ يَكْفِيكَ أَنْ تَضْرِبَ بِيَدَيْكَ عَلَى الأَرْضِ ثُمَّ تَمْسَحَ إِحْدَاهُمَا عَلَى الأُخْرَى ثُمَّ تَمْسَحَ بِهِمَا وَجْهَكَ". فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: أَلَمْ تَرَ عُمَرُ لَمْ يَقْنَعْ بِقَوْلِ عَمَّارٍ، وَقَالَ يُوسُفُ:" أَنْ تَضْربَ بِكَفَّيْكَ عَلَى الأَرْضِ ثُمَّ تَمْسَحَهُمَا ثُمَّ تَمْسَحَ بِهِمَا وَجْهَكَ وَكَفَّيْكَ"، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: فَلَمْ تَرَ عُمَرَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، لَمْ يَقْنَعْ بِقَوْلِ عَمَّارٍ.
شقیق رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ میں سیدنا عبداللہ بن مسعود اور سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہما کے ساتھ بیٹھا تھا۔ سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اے ابوعبدالرحمن! آپ کا کیا خیال ہے اگر کوئی شخص جنبی ہو جائے اور اسے ایک ماہ تک پانی نہ ملے، کیا وہ تیمم کرتا رہے گا؟“ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”وہ تیمم نہیں کرے گا، اگرچہ اسے ایک ماہ تک پانی نہ ملے۔“ سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے کہا: ”پھر آپ سورۃ مائدہ کی اس آیت کے بارے میں کیا کہیں گے: ’اگر تم پانی نہ پاؤ تو پاک مٹی سے تیمم کر لو‘؟“ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اگر لوگوں کو اس کی اجازت دے دی گئی تو عنقریب وہ پانی ٹھنڈا لگنے پر بھی تیمم کرنے لگیں گے۔“ راوی بیان کرتے ہیں: سیدنا ابوموسیٰ نے پوچھا: ”آپ اس وجہ سے اسے ناپسند کرتے ہیں؟“ انہوں نے جواب دیا: ”ہاں۔“ سیدنا ابوموسیٰ نے کہا: ”کیا آپ نے وہ بات نہیں سنی جو سیدنا عمار رضی اللہ عنہ نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے کہی تھی؟“ انہوں نے بیان کیا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ایک کام کے سلسلے میں بھیجا۔ میں جنبی ہو گیا اور پانی نہ ملا۔ میں مٹی میں لوٹ پوٹ ہو گیا جیسے کوئی جانور ہوتا ہے۔ پھر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس کا تذکرہ کیا۔ آپ نے فرمایا: ”تمہارے لیے اتنا کافی تھا کہ تم اپنے دونوں ہاتھ زمین پر مار کر ایک سے دوسرے پر مسح کر لیتے، پھر ان سے اپنے چہرے کا مسح کر لیتے۔“ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: ”کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کے بیان پر قناعت نہیں کی؟“ یوسف رحمہ اللہ کے الفاظ ہیں: ”تم اپنے دونوں ہاتھ زمین پر مار کر ان کا مسح کرو، پھر ان سے اپنے چہرے اور دونوں بازوؤں کا مسح کر لو۔“ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ”کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کے بیان پر اکتفا نہیں کیا؟“ [سنن الدارقطني/كتاب الطهارة/حدیث: 684]
ترقیم العلمیہ: 672
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 345، 346، 347، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 368، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 270، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 1304، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 684، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 18618»
الحكم على الحديث: صحيح
الرواة الحديث:
عبد الله بن قيس الأشعري ← عمار بن ياسر العنسي