سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
71. باب جواز التيمم لصاحب الجراح مع استعمال الماء وتعصيب الجرح
باب: زخمی شخص کے لیے پانی استعمال کرنے اور زخم پر متی کے ہمراہ، تیمم کا جائز ہونا
ترقیم العلمیہ : 718 ترقیم الرسالہ : -- 729
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ الأَشْعَثِ لَفْظًا فِي كِتَابِ النَّاسِخِ وَالْمَنْسُوخِ، نا مُوسَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحَلَبِيُّ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ خُرَيْقٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: خَرَجْنَا فِي سَفَرٍ فَأَصَابَ رَجُلا مِنَّا حَجَرٌ فَشَجَّهُ فِي رَأْسِهِ، ثُمَّ احْتَلَمَ. فَسَأَلَ أَصْحَابَهُ هَلْ تَجِدُونَ فِيَّ رُخْصَةً فِي التَّيَمُّمِ؟ قَالُوا: مَا نَجْدُ لَكَ رُخْصَةً وَأَنْتَ تَقْدِرُ عَلَى الْمَاءِ، فَاغْتَسَلَ فَمَاتَ، فَلَمَّا قَدِمْنَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أُخْبِرَ بِذَلِكَ، فَقَالَ:" قَتَلُوهُ قَتَلَهُمُ اللَّهُ، أَلا سَأَلُوا إِذَا لَمْ يَعْلَمُوا فَإِنَّمَا شِفَاءُ الْعِيِّ السُّؤَالُ، إِنَّمَا كَانَ يَكْفِيهِ أَنْ يَتَيَمَّمَ وَيَعْصِرَ أَوْ يَعْصِبَ عَلَى جَرْحِهِ ثُمَّ يَمْسَحَ عَلَيْهِ وَيَغْسِلَ سَائِرَ جَسَدِهِ" . شَكَّ مُوسَى، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: هَذِهِ سُنَّةٌ تَفَرَّدَ بِهَا أَهْلُ مَكَّةَ، وَحَمَلَهَا أَهْلُ الْجَزِيرَةِ. لَمْ يَرْوِهِ عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ جَابِرٍ، غَيْرُ الزُّبَيْرِ بْنِ خُرَيْقٍ وَلَيْسَ بِالْقَوِيِّ، وَخَالَفَهُ الأَوْزَاعِيُّ، فَرَوَاهُ عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسِ وَاخْتُلِفَ عَلَى الأَوْزَاعِيِّ، فَقِيلَ عَنْهُ عَنْ عَطَاءٍ، وَقِيلَ عَنْهُ بَلَغَنِي عَنْ عَطَاءٍ، وَأَرْسَلَ الأَوْزَاعِيُّ آخِرَهُ عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُوَ الصَّوَابُ، وَقَالَ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ: سَأَلْتُ أَبِي، وَأَبَا زُرْعَةَ عَنْهُ، فَقَالا: رَوَاهُ ابْنُ أَبِي الْعِشْرِينَ ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُسْلِمٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسِ وَأَسْنَدَ الْحَدِيثَ.
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ ہم سفر پر روانہ ہوئے۔ ہم میں سے ایک شخص کو پتھر لگا جس نے اس کے سر کو زخمی کر دیا پھر اس شخص کو احتلام ہو گیا۔ اس نے اپنے ساتھیوں سے دریافت کیا: ”کیا آپ سمجھتے ہیں مجھے تیمم کرنے کی ضرورت ہے؟“ ساتھیوں نے جواب دیا: ”جب تم پانی کے استعمال پر قادر ہو تو ہمارے نزدیک تمہارے لیے رخصت نہیں ہو گی۔“ اس شخص نے غسل کیا تو اس کا انتقال ہو گیا۔ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ آپ کو اس کے بارے میں بتایا گیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ان لوگوں نے اسے مار دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کو برباد کرے۔ جب انہیں علم نہیں تھا تو انہوں نے دریافت کیوں نہیں کیا، بیمار شخص کی شفاء سوال کرنے میں ہے۔ اس شخص کے لیے اتنا کافی تھا کہ وہ تیمم کر لیتا (پٹی باندھ لیتا) اور (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) اپنے زخم پر پٹی لپیٹ لیتا اور اس پر مسح کر لیتا اور باقی جسم کو دھو لیتا۔“ یہاں پر شک موسیٰ نامی راوی کو ہے۔ شیخ ابوبکر بیان کرتے ہیں: اس روایت کو نقل کرنے میں اہل مکہ منفرد ہیں اور اہل جزیرہ نے اسے محمول کیا ہے۔ انہوں نے اسے عطاء کے حوالے سے سیدنا جابر سے روایت نہیں کیا ہے۔ اس روایت کو صرف زبیر نامی راوی نے نقل کیا ہے اور مستند نہیں ہے। امام اوزاعی نے اس کے برعکس روایت نقل کی ہے جو عطاء کے حوالے سے سیدنا عبداللہ سے منقول ہے۔ امام اوزاعی سے نقل کرنے میں بھی اختلاف کیا گیا ہے۔ ایک روایت کے مطابق یہ عطاء سے منقول ہے اور ایک روایت کے مطابق ان سے یہ بات منقول ہے: ”مجھے عطاء کے حوالے سے یہ بات پتا چلی ہے۔“ اور امام اوزاعی نے اس کے آخری حصے کو مرسل روایت کے طور پر عطاء کے حوالے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کیا ہے اور یہی درست ہے۔ ابن ابی حاتم بیان کرتے ہیں: میں نے اپنے والد اور شیخ ابی زرعہ نامی راوی سے اس کے بارے میں دریافت کیا تو ان دونوں نے اس بات کا جواب دیا: اس روایت کو ابن العشیرین، اوزاعی کے حوالے سے، اسماعیل کے حوالے سے، عطاء کے حوالے سے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل کیا ہے۔ ان حضرات نے اسے مستند روایت کے طور پر نقل کیا ہے۔ [سنن الدارقطني/كتاب الطهارة/حدیث: 729]
ترقیم العلمیہ: 718
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه ابن الجارود فى "المنتقى"، 144، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 273، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 1314، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 589، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 336، 337، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 779، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 572، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 729، 730، 731، 732، 733، 734، 735، 736، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 3114»
«قال الدارقطني: لم يروه عن عطاء عن جابر غير الزبير بن خريق وليس بالقوي وخالفه الأوزاعي فرواه عن عطاء عن ابن عباس وهو الصواب، سنن الدارقطني: (1 / 349) برقم: (729)»
«قال الدارقطني: لم يروه عن عطاء عن جابر غير الزبير بن خريق وليس بالقوي وخالفه الأوزاعي فرواه عن عطاء عن ابن عباس وهو الصواب، سنن الدارقطني: (1 / 349) برقم: (729)»
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
الرواة الحديث:
عطاء بن أبي رباح القرشي ← عبد الله بن العباس القرشي