سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
6. باب بيان الموضع الذى يجوز فيه الصلاة وما يجوز فيه من النياب
باب: اس جگہ کا بیان جس میں نماز ادا کرنا جائز ہوتا ہے
ترقیم العلمیہ : 870 ترقیم الرسالہ : -- 882
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، ثنا عَلِيُّ بْنُ مُجَاهِدٍ ، ثنا رَبَاحٌ النُّوبِيُّ أَبُو مُحَمَّدٍ مَوْلَى آلِ الزُّبَيْرِ، قَالَ: سَمِعْتُ أَسْمَاءَ بِنْتَ أَبِي بَكْرٍ ، تَقُولُ لِلْحَجَّاجِ:" إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ احْتَجَمَ فَدَفَعَ دَمَهُ إِلَى ابْنِي فَشَرِبَهُ، فَأَتَاهُ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلامُ فَأَخْبَرَهُ، فَقَالَ: مَا صَنَعْتَ؟، قَالَ: كَرِهْتُ أَنْ أَصُبَّ دَمَكَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لا تَمَسَّكَ النَّارُ، وَمَسَحَ عَلَى رَأْسِهِ، وَقَالَ: وَيْلٌ لِلنَّاسِ مِنْكَ وَوَيْلٌ لَكَ مِنَ النَّاسِ" .
سیدہ اسماء بنت ابوبکر رضی اللہ عنہا نے حجاج بن یوسف سے یہ کہا تھا: ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پچھنے لگوائے۔ آپ نے اپنا (نکالا ہوا خون) میرے بیٹے کو دیا تو میرے بیٹے نے اسے پی لیا۔ جبرائیل علیہ السلام آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اس بارے میں بتایا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے (میرے بیٹے) سے دریافت کیا: ”تم نے ایسا کیوں کیا؟“ تو اس نے عرض کیا: ”مجھے یہ اچھا نہیں لگا کہ میں آپ کا خون بہا دوں۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جہنم تمہیں کبھی بھی نہیں چھوئے گی۔“ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا اور ارشاد فرمایا: ”ان لوگوں کے لیے بربادی ہے جو تمہارے حوالے سے (جرم کے مرتکب ہوں گے یعنی تمہیں شہید کر دیں گے)۔ ان لوگوں کے لیے بربادی ہے جو تمہارے حوالے سے (جرم کے مرتکب ہوں گے یعنی تمہیں شہید کریں گے)۔“ [سنن الدارقطني/ كتاب الحيض/حدیث: 882]
ترقیم العلمیہ: 870
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف،وأخرجه الدارقطني فى ((سننه)) برقم: 882، انفرد به المصنف من هذا الطريق وقال ابن حجر: وفيه على بن مجاهد وهو ضعيف، التلخيص الحبير فى تخريج أحاديث الرافعي الكبير: 44/1»
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
الرواة الحديث:
رباح النوبي ← أسماء بنت أبي بكر القرشية