🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (4836)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم العلمیہ سے تلاش کل احادیث (4750)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

6. بَابُ بَيَانِ الْمَوْضِعِ الَّذِي يَجُوزُ فِيهِ الصَّلَاةِ وَمَا يَجُوزُ فِيهِ مِنَ النِّيَابِ
باب: اس جگہ کا بیان جس میں نماز ادا کرنا جائز ہوتا ہے
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 868 ترقیم الرسالہ : -- 880
حَدَّثَنَا أَبُو شَيْبَةَ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ جَعْفَرٍ الْخُوَارِزْمِيُّ ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ ، نا أَبُو حَفْصٍ الأَبَّارُ ، عَنْ أَبَانَ بْنِ أَبِي عَيَّاشٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْحَائِطِ تُلْقَى فِيهِ الْعَذِرَةُ وَالنَّتْنُ، قَالَ:" إِذَا سُقِيَ ثَلاثَ مَرَّاتٍ فَصَلِّ فِيهِ" .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں: ایسی جگہ جہاں گندگی وغیرہ پھینکی جاتی ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب اس جگہ کو تین مرتبہ سیراب کر لیا جائے (یعنی دھو لیا جائے) تم اس میں نماز ادا کر لو۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الْحَيْضِ/حدیث: 880]
ترقیم العلمیہ: 868
تخریج الحدیث: «أخرجه ابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 744، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 880، 881، والطبراني فى ((الأوسط)) برقم: 1181»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 869 ترقیم الرسالہ : -- 881
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ نُوحٍ الْجُنْدِيسَابُورِيُّ ، نا هَارُونُ بْنُ إِسْحَاقَ ، نا ابْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ أَبَانَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّهُ سُئِلَ عَنْ هَذِهِ الْحِيطَانِ الَّتِي تُلْقَى فِيهَا هَذِهِ الْعَذِرَاتُ وَهَذَا الزَّبَلُ أَيُصَلَّى فِيهَا؟ قَالَ:" إِذَا سُقِيَتْ ثَلاثَ مَرَّاتٍ فَصَلِّ فِيهَا" ، وَرَفَعَ ذَلِكَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. اخْتَلَفَا فِي الإِسْنَادِ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ.
نافع بیان کرتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے ایسی جگہ کے بارے میں دریافت کیا گیا جہاں گندگی وغیرہ پھینکی جاتی ہے، کیا وہاں نماز ادا کی جا سکتی ہے؟ تو انہوں نے فرمایا: جب تین مرتبہ اسے سیراب کر لو تو تم وہاں نماز ادا کر لو۔ انہوں نے اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرفوع روایت کے طور پر نقل کیا ہے۔ تاہم اس روایت کی سند میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ باقی اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الْحَيْضِ/حدیث: 881]
ترقیم العلمیہ: 869
تخریج الحدیث: «أخرجه ابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 744، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 880، 881، والطبراني فى ((الأوسط)) برقم: 1181»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 870 ترقیم الرسالہ : -- 882
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، ثنا عَلِيُّ بْنُ مُجَاهِدٍ ، ثنا رَبَاحٌ النُّوبِيُّ أَبُو مُحَمَّدٍ مَوْلَى آلِ الزُّبَيْرِ، قَالَ: سَمِعْتُ أَسْمَاءَ بِنْتَ أَبِي بَكْرٍ ، تَقُولُ لِلْحَجَّاجِ:" إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ احْتَجَمَ فَدَفَعَ دَمَهُ إِلَى ابْنِي فَشَرِبَهُ، فَأَتَاهُ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلامُ فَأَخْبَرَهُ، فَقَالَ: مَا صَنَعْتَ؟، قَالَ: كَرِهْتُ أَنْ أَصُبَّ دَمَكَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لا تَمَسَّكَ النَّارُ، وَمَسَحَ عَلَى رَأْسِهِ، وَقَالَ: وَيْلٌ لِلنَّاسِ مِنْكَ وَوَيْلٌ لَكَ مِنَ النَّاسِ" .
سیدہ اسماء بنت ابوبکر رضی اللہ عنہا نے حجاج بن یوسف سے یہ کہا تھا: ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پچھنے لگوائے۔ آپ نے اپنا (نکالا ہوا خون) میرے بیٹے کو دیا تو میرے بیٹے نے اسے پی لیا۔ جبرائیل علیہ السلام آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اس بارے میں بتایا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے (میرے بیٹے) سے دریافت کیا: تم نے ایسا کیوں کیا؟ تو اس نے عرض کیا: مجھے یہ اچھا نہیں لگا کہ میں آپ کا خون بہا دوں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جہنم تمہیں کبھی بھی نہیں چھوئے گی۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا اور ارشاد فرمایا: ان لوگوں کے لیے بربادی ہے جو تمہارے حوالے سے (جرم کے مرتکب ہوں گے یعنی تمہیں شہید کر دیں گے)۔ ان لوگوں کے لیے بربادی ہے جو تمہارے حوالے سے (جرم کے مرتکب ہوں گے یعنی تمہیں شہید کریں گے)۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الْحَيْضِ/حدیث: 882]
ترقیم العلمیہ: 870
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف،وأخرجه الدارقطني فى ((سننه)) برقم: 882، انفرد به المصنف من هذا الطريق وقال ابن حجر: وفيه على بن مجاهد وهو ضعيف، التلخيص الحبير فى تخريج أحاديث الرافعي الكبير: 44/1»

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں