الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
4. بَابُ مَا جَاءَ فِي عَدَمِ قُنُوطِ الْمُدْنِبِ مِنَ الْمَغْفِرَةِ لِكَثْرَةِ ذُنُوبِهِ مَا دَامَ مُوَحَدًا
گنہگارکا زیادہ گناہوں کی وجہ سے ناامید نہ ہونے کا بیان، جب تک وہ توحید پرست ہو
حدیث نمبر: 10183
عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ حِينَ حَضَرَتْهُ الْوَفَاةُ قَدْ كُنْتُ كَتَمْتُ عَنْكُمْ شَيْئًا سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَوْ لَا أَنَّكُمْ تُذْنِبُونَ لَخَلَقَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى قَوْمًا يُذْنِبُونَ فَيَغْفِرُ لَهُمْ
۔ سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب ان کی وفات کا وقت آ پہنچا تو انھوں نے کہا: میں تم سے ایک حدیث چھپاتا تھا، جو میں نے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر تم گناہ نہیں کرو گے، تو اللہ تعالیٰ ایسے لوگ پیدا کرے گا، جو گناہ کریں گے اور پھر اللہ تعالیٰ ان کو بخشے گا۔ [الفتح الربانی/كتاب التوبة/حدیث: 10183]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2748، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23515 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23912»
وضاحت: فوائد: … چھپانے کی وجہ یہ تھی کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ لوگ اللہ تعالیٰ کی وسیع رحمت پر توکل کر کے نافرمانیوں میں پڑ جائیں، پھر وفات کے وقت یہ حدیث بیان کر دی تاکہ کتمانِ علم کے الزام سے بری ہو جائیں۔
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 2748
Al-Fath al-Rabbani Hadith 10183 in Urdu