الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
4. بَابُ مَا جَاءَ فِي عَدَمِ قُنُوطِ الْمُدْنِبِ مِنَ الْمَغْفِرَةِ لِكَثْرَةِ ذُنُوبِهِ مَا دَامَ مُوَحَدًا
گنہگارکا زیادہ گناہوں کی وجہ سے ناامید نہ ہونے کا بیان، جب تک وہ توحید پرست ہو
حدیث نمبر: 10180
عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ قَالَ قُلْنَا لِجَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَكُنْتُمْ تَعُدُّونَ الذُّنُوبَ شِرْكًا قَالَ مَعَاذَ اللَّهِ
۔ ابو زبیر سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نے سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے کہا: کیا تم گناہوں کو شرک سمجھتے تھے؟ انھوں نے کہا: اللہ کی پناہ۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ التَّوْبَةِ/حدیث: 10180]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، أخرجه الطبراني في الاوسط: 5214، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15184 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15252»
وضاحت: فوائد: … سیدنا جابر رضی اللہ عنہ گناہوں کی وجہ سے مسلمان کو مشرک قرار دینے کا ردّ کر رہے ہیں۔ اہل حق کا یہی مذہب ہے۔
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره
حدیث نمبر: 10181
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ أَوْ وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَوْ أَخْطَأْتُمْ حَتَّى تَمْلَأَ خَطَايَاكُمْ مَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ ثُمَّ اسْتَغْفَرْتُمُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَغَفَرَ لَكُمْ وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ أَوْ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْ لَمْ تُخْطِئُوا لَجَاءَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِقَوْمٍ يُخْطِئُونَ ثُمَّ يَسْتَغْفِرُونَ اللَّهَ فَيَغْفِرُ لَهُمْ
۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی جان ہے! اگر تم گناہ کرتے رہو، یہاں تک کہ تمہارے گناہوں کی وجہ سے زمین و آسمان کا درمیانی خلا بھر جائے، پھر جب تم اللہ تعالیٰ سے بخشش طلب کرو گے تو وہ تم کو بخش دے گا، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اگر تم لوگ گناہ نہیں کرو گے، تو اللہ تعالیٰ ایسے لوگ پیدا کر دے گا، جو گناہ کریں اور پھر وہ اللہ تعالیٰ سے بخشش طلب کریں گے اور وہ ان کو معاف کرے گا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ التَّوْبَةِ/حدیث: 10181]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، أخرجه ابويعلي: 4226، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13493 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13527»
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره
حدیث نمبر: 10182
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَوْ لَمْ تُذْنِبُوا لَجَاءَ اللَّهُ بِقَوْمٍ يُذْنِبُونَ كَيْ يَغْفِرَ لَهُمْ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر تم نے گناہ نہ کیے تو اللہ تعالیٰ ایسی قوم کو لے آئے گا، جو گناہ کریں گے، تاکہ وہ ان کو بخشے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ التَّوْبَةِ/حدیث: 10182]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح بطرقه وشواھده، أخرجه الترمذي: 2526، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8043 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8030»
وضاحت: فوائد: … اگرتم گناہ نہیں کرو گے تو اللہ تعالیٰ تم کو ختم کر دے گا، … اس کے مفہوم کو سمجھنے کے لیے ملاحظہ ہو حدیث نمبر (۱۰۱۷۶)
ان احادیث میں دراصل توبہ کرنے کی ترغیب دلائی گئی ہے، نہ کہ گناہ کرنے کی جرأت، عصر حاضر کے مسلمانوں کا جائزہ لے لیں، کیا کوئی ایسا فرد نظر آ رہا ہے کہ اس نے اپنی زندگی میں کوئی گناہ نہ کیا ہو، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مقصود یہ ہے کہ چونکہ سارے لوگ گنہگار ہیں، اس لیے سب کو اللہ تعالیٰ کی بخشش طلب کرنی چاہیے۔
ان احادیث میں دراصل توبہ کرنے کی ترغیب دلائی گئی ہے، نہ کہ گناہ کرنے کی جرأت، عصر حاضر کے مسلمانوں کا جائزہ لے لیں، کیا کوئی ایسا فرد نظر آ رہا ہے کہ اس نے اپنی زندگی میں کوئی گناہ نہ کیا ہو، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مقصود یہ ہے کہ چونکہ سارے لوگ گنہگار ہیں، اس لیے سب کو اللہ تعالیٰ کی بخشش طلب کرنی چاہیے۔
الحكم على الحديث:
حديث صحيح بطرقه وشواھده
حدیث نمبر: 10183
عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ حِينَ حَضَرَتْهُ الْوَفَاةُ قَدْ كُنْتُ كَتَمْتُ عَنْكُمْ شَيْئًا سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَوْ لَا أَنَّكُمْ تُذْنِبُونَ لَخَلَقَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى قَوْمًا يُذْنِبُونَ فَيَغْفِرُ لَهُمْ
۔ سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب ان کی وفات کا وقت آ پہنچا تو انھوں نے کہا: میں تم سے ایک حدیث چھپاتا تھا، جو میں نے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر تم گناہ نہیں کرو گے، تو اللہ تعالیٰ ایسے لوگ پیدا کرے گا، جو گناہ کریں گے اور پھر اللہ تعالیٰ ان کو بخشے گا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ التَّوْبَةِ/حدیث: 10183]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2748، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23515 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23912»
وضاحت: فوائد: … چھپانے کی وجہ یہ تھی کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ لوگ اللہ تعالیٰ کی وسیع رحمت پر توکل کر کے نافرمانیوں میں پڑ جائیں، پھر وفات کے وقت یہ حدیث بیان کر دی تاکہ کتمانِ علم کے الزام سے بری ہو جائیں۔
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 2748
حدیث نمبر: 10184
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّ رَجُلًا أَذْنَبَ ذَنْبًا فَقَالَ رَبِّ إِنِّي أَذْنَبْتُ ذَنْبًا أَوْ قَالَ عَمِلْتُ عَمَلًا ذَنْبًا فَاغْفِرْهُ فَقَالَ عَزَّ وَجَلَّ عَبْدِي عَمِلَ ذَنْبًا فَعَلِمَ أَنَّ لَهُ رَبًّا يَغْفِرُ الذَّنْبَ وَيَأْخُذُ بِهِ قَدْ غَفَرْتُ لِعَبْدِي ثُمَّ عَمِلَ ذَنْبًا آخَرَ أَوْ أَذْنَبَ ذَنْبًا آخَرَ فَقَالَ رَبِّ إِنِّي عَمِلْتُ ذَنْبًا فَاغْفِرْهُ فَقَالَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى عَلِمَ عَبْدِي أَنَّ لَهُ رَبًّا يَغْفِرُ الذَّنْبَ وَيَأْخُذُ بِهِ قَدْ غَفَرْتُ لِعَبْدِي ثُمَّ عَمِلَ ذَنْبًا آخَرَ أَوْ أَذْنَبَ ذَنْبًا آخَرَ فَقَالَ رَبِّ إِنِّي عَمِلْتُ ذَنْبًا فَاغْفِرْهُ فَقَالَ عَلِمَ عَبْدِي أَنَّ لَهُ رَبًّا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ وَيَأْخُذُ بِهِ قَدْ غَفَرْتُ لِعَبْدِي فَلْيَعْمَلْ مَا شَاءَ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بے شک ایک آدمی نے گناہ کیا اور کہا: اے میرے ربّ! میں نے گناہ کیا ہے، تو اس کو بخش دے، اللہ تعالیٰ نے کہا: میرے بندے نے گناہ کیا ہے اور یہ بھی جان لیا ہے کہ اس کا ایک ربّ ہے جو گناہ کو بخش بھی سکتا ہے اور اس کی وجہ سے گرفت بھی کر سکتا ہے، تحقیق میں نے اپنے بندے کو معاف کر دیا ہے۔ پھر اس بندے نے ایک اور گناہ کر دیا اور کہا: اے میرے ربّ! میں نے ایک گناہ کیا ہے، پس تو اس کو بخش دے، اُدھر اللہ تعالیٰ نے کہا: میرے بندے نے جان لیا ہے کہ اس کا ایک ربّ ہے، جو گناہ کو بخشتا بھی ہے اور اس کی وجہ سے پکڑ بھی لیتا ہے، تحقیق میں نے اپنے بندے کو بخش دیا ہے۔ پھر اس نے ایک اور گناہ کر دیا اور کہا: اے میرے ربّ! میں نے گناہ کر دیا ہے، پس تو اس کومعاف کر دے، اللہ تعالیٰ نے کہا: میرے بندے نے جان لیا ہے کہ اس کا ایک ربّ ہے، جو گناہ کو بخشتا بھی ہے اور اس کی وجہ سے پکڑ بھی لیتا ہے، تحقیق میں نے اپنے بندے کو معاف کر دیا ہے، وہ جو چاہے عمل کرتا رہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ التَّوْبَةِ/حدیث: 10184]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 7507، ومسلم: 2758، ولم يذكرا فيه الرابعة، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7948 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7935»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 7507
حدیث نمبر: 10185
عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ سَرِيعٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِأَسِيرٍ فَقَالَ اللَّهُمَّ إِنِّي أَتُوبُ إِلَيْكَ وَلَا أَتُوبُ إِلَى مُحَمَّدٍ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَرَفَ الْحَقَّ لِأَهْلِهِ
۔ سیدنا اسود بن سریع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ایک قیدی کو لایا گیا، اس نے کہا: اے اللہ! میں تیری طرف توبہ کرتا ہوں، میں محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف توبہ نہیں کرتا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس قیدی نے حق کو اس کے اہل کے لیے پہچان لیا ہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ التَّوْبَةِ/حدیث: 10185]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لانقطاعه، الحسن البصري لم يسمع من الاسود بن سريع، أخرجه الطبراني في الكبير: 839، والحاكم: 4/ 255، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15587 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15672»
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لانقطاعه