الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
4. بَابُ مَا جَاءَ فِي عَدَمِ قُنُوطِ الْمُدْنِبِ مِنَ الْمَغْفِرَةِ لِكَثْرَةِ ذُنُوبِهِ مَا دَامَ مُوَحَدًا
گنہگارکا زیادہ گناہوں کی وجہ سے ناامید نہ ہونے کا بیان، جب تک وہ توحید پرست ہو
حدیث نمبر: 10182
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَوْ لَمْ تُذْنِبُوا لَجَاءَ اللَّهُ بِقَوْمٍ يُذْنِبُونَ كَيْ يَغْفِرَ لَهُمْ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر تم نے گناہ نہ کیے تو اللہ تعالیٰ ایسی قوم کو لے آئے گا، جو گناہ کریں گے، تاکہ وہ ان کو بخشے۔ [الفتح الربانی/كتاب التوبة/حدیث: 10182]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح بطرقه وشواھده، أخرجه الترمذي: 2526، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8043 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8030»
وضاحت: فوائد: … اگرتم گناہ نہیں کرو گے تو اللہ تعالیٰ تم کو ختم کر دے گا، … اس کے مفہوم کو سمجھنے کے لیے ملاحظہ ہو حدیث نمبر (۱۰۱۷۶)
ان احادیث میں دراصل توبہ کرنے کی ترغیب دلائی گئی ہے، نہ کہ گناہ کرنے کی جرأت، عصر حاضر کے مسلمانوں کا جائزہ لے لیں، کیا کوئی ایسا فرد نظر آ رہا ہے کہ اس نے اپنی زندگی میں کوئی گناہ نہ کیا ہو، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مقصود یہ ہے کہ چونکہ سارے لوگ گنہگار ہیں، اس لیے سب کو اللہ تعالیٰ کی بخشش طلب کرنی چاہیے۔
ان احادیث میں دراصل توبہ کرنے کی ترغیب دلائی گئی ہے، نہ کہ گناہ کرنے کی جرأت، عصر حاضر کے مسلمانوں کا جائزہ لے لیں، کیا کوئی ایسا فرد نظر آ رہا ہے کہ اس نے اپنی زندگی میں کوئی گناہ نہ کیا ہو، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مقصود یہ ہے کہ چونکہ سارے لوگ گنہگار ہیں، اس لیے سب کو اللہ تعالیٰ کی بخشش طلب کرنی چاہیے۔
الحكم على الحديث:
حديث صحيح بطرقه وشواھده
Al-Fath al-Rabbani Hadith 10182 in Urdu