الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
17. باب ما جاء فى سبب خطيئة آدم وخروجه من الجنة والدليل على نبوته
آدم علیہ السلام کی خطا کے سبب، ان کے جنت سے نکلنے اور ان کی نبوت کی دلیل کا بیان
حدیث نمبر: 10309
وَمِمَّا رُوِيَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي حَدِيثِ الشَّفَاعَةِ أَيْضًا قَالَ ( (فَيَقُولُ آدَمُ عَلَيْهِ السَّلَامُ إِنَّ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ قَدْ غَضِبَ الْيَوْمَ غَضَبًا لَمْ يَغْضَبْ قَبْلَهُ مِثْلَهُ وَلَنْ يَغْضَبَ بَعْدَهُ مِثْلَهُ وَأَنَّهُ نَهَانِي عَنِ الشَّجَرَةِ فَعَصَيْتُهُ نَفْسِي نَفْسِي نَفْسِي) )
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں،یہ شفاعت سے متعلقہ طویل حدیث ہیں، اس میں ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پس آدم علیہ السلام کہیں گے: بیشک میرا ربّ آج اتنے غصے میں ہے کہ نہ اس سے پہلے اتنے غصے میں آیا تھا اور نہ بعد میں اتنے غصے میں آئے گا، اور اس نے مجھے ایک درخت سے منع کیا تھا، لیکن میں نے اس کی نافرمانی کر دی تھی، ہائے میری جان، میری جان، میری جان۔ [الفتح الربانی/كتاب خلق العالم/حدیث: 10309]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3340، 3361،ومسلم: 195، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9623 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9621»
الحكم على الحديث: صحیح
Al-Fath al-Rabbani Hadith 10309 in Urdu