🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

New یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
17. باب ما جاء فى سبب خطيئة آدم وخروجه من الجنة والدليل على نبوته
آدم علیہ السلام کی خطا کے سبب، ان کے جنت سے نکلنے اور ان کی نبوت کی دلیل کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10310
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ أَنَّ أَبَا ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قُلْتُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ فَأَيُّ الْأَنْبِيَاءِ كَانَ أَوَّلُ قَالَ ( (آدَمُ عَلَيْهِ السَّلَامُ) ) قَالَ قُلْتُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ أَوَنَبِيٌّ كَانَ آدَمُ قَالَ ( (نَعَمْ نَبِيٌّ مُكَلَّمٌ خَلَقَهُ اللَّهُ بِيَدِهِ ثُمَّ نَفَخَ فِيهِ رُوحَهُ ثُمَّ قَالَ لَهُ يَا آدَمُ قُبُلًا) )
۔ سیدنا ابو امامہ باہلی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے نبی! انبیاء میں سب سے پہلا نبی کون تھا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: آدم علیہ السلام۔ میں نے کہا: اے اللہ کے نبی! کیا آدم علیہ السلام نبی تھے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں، وہ نبی تھے، ان سے کلام کیا گیا، اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنے ہاتھ سے پیدا کیا، پھر ان میں اپنی روح پھونکی اور ان کو آمنے سامنے کہا: اے آدم۔ [الفتح الربانی/كتاب خلق العالم/حدیث: 10310]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف جدا من اجل علي بن يزيد، أخرجه الطبراني في الكبير: 8771، وابن حبان: 6190، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22288 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22644»
وضاحت: فوائد: … شیخ البانی رحمتہ اللہ علیہ نے اس موضوع سے متعلقہ درج دو احادیث کو شواہد کی بنا پر صحیح قرار دیا ہے:
سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ایک آدمی نے کہا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! أَنَبِيٌّکَانَ آدَمَ؟ قَالَ: ((نَعَمْ، مُعَلَّمٌ، مُکَلَّمٌ۔)) قَالَ: کَمْ بَیْنَہٗ وَبَیْنَ نُوْحٍ؟ قَالَ: ((عَشْرَۃُ قُرُوْنٍ۔)) قَالَ: کَمْ کَانَ بَیْنَ نُوْحٍ وَاِبْرَاھِیْمَ؟ قَالَ: ((عَشْرَۃُ قُرُوْنٍ۔)) قَالُوْا: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! کَمْ کَانَتِ الرُّسُلُ؟ قَالَ: ((ثَلَاثُ مِئَۃٍ وَخَمْسَۃَ عَشَرَ، جَمًّا غَفِیْرًا۔)) … اے اللہ کے رسول! کیا آدم علیہ السلام نبی تھے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں، وہ تعلیم دیے گئے تھے اور ان سے (اللہ تعالیٰ کی طرف سے) کلام بھی کیا گیا تھا۔ اس نے کہا: ان کے اور نوح علیہ السلام کے مابین کتنی مدت ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’دس صدیاں (یا دس زمانے)۔ اس نے کہا: نوح علیہ السلام اور ابراہیم علیہ السلام کے درمیان کتنی مدت ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دس صدیاں۔ پھر صحابہ نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! کل کتنے رسول ہو گزرے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تین سو پندرہ، جم غفیرہے۔
(حاکم: ۲/ ۲۶۲، معجم کبیر لطبرانی: ۸/ ۱۳۹، صحیحہ: ۳۲۸۹)
شیخ البانی رحمتہ اللہ علیہ نے اس حدیث کا ایک موقوف شاہد ذکر کرتے ہوئے کہا: سیدنا عبد اللہ بن عباس نے کہا: نوح اور آدم کے مابین دس صدیاں تھیں، سارے لوگ شریعت ِ حقہ پر تھے، پھر اختلاف پڑ گیا، پس اللہ تعالیٰ نے نبیوں کو بھیجنا شروع کیا، تاکہ وہ خوشخبریاں دیں اور ڈرائیں، عبد اللہ بن مسعود کی قراء ت یوں تھی: {کَانَ النَّاسُ اُمَّۃً وَّاحِدَۃً فَاخْتَلَفُوْا} (تفسیرطبری: ۲/ ۱۹۴، حاکم: ۲/ ۵۴۶)
اس میں ایک اہم فائدے کا بیان ہے کہ لوگ شروع میں ایک امت تھے، خالص توحید ان کا مذہب تھا، پھر بعد میں ان پر شرک کے آثار طاری ہوئے۔ اس سے ان فلسفیوں اور ملحدوں کا ردّ ہوتا ہے، جو کہتے ہیں کہ اصل میں شرک تھا، بعد میں توحید کو وجود ملا۔ (صحیحہ: ۳۲۸۹)
سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے کہا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اَنَبِیًّا کَانَ آدَمُ؟ قَالَ: ((نَعَمْ مُکَلَّمٌ۔)) قَالَ: کَمْ بَیْنَہٗ وَبَیْنَ نُوْحٍ؟ قَالَ: ((عَشْرَۃُ قُرُوْنٍ۔)) قَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! کَمْ کَانَتِ الرُّسُلُ؟ قَاَل: ((ثَلَاثُ مِئَۃٍ وَّخَمَسْۃَ عَشَرَ۔)) … اے اللہ کے رسول! کیا آدم علیہ السلام نبی تھے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں، ان سے کلام بھی کیا گیا تھا۔ اس نے کہا: ان کے اور نوح علیہ السلام کے درمیان کتنی مدت تھی؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دس صدیاں۔ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! کل کتنے رسول تھے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تین سو پندرہ۔ (صحیح ابن حبان: ۲۰۸۵، حاکم: ۲/ ۲۶۲، صحیحہ:۲۶۶۸)
شیخ البانی رحمتہ اللہ علیہ نے شواہد کا ذکر کرتے ہوئے کہا: ابو امامہ رضی اللہ عنہ کی طویل حدیث کا ایک اقتباس یہ ہے: میں نے کہا: اے اللہ کے نبی! پہلا نبی کون تھا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: آدم علیہ السلام۔ میں نے کہا: اے اللہ کے نبی! کیا آدم نبی تھے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہاںہاں، وہ نبی تھے، جن سے کلام بھی کیا گیا، اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنے ہاتھ سے بنایا اور پھر ان میں اپنی روح پھونکی، پھر ان سے کہا: آدم! پتلا بن جا۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! انبیا کی تعداد کتنی تھی؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک لاکھ چوبیس ہزار نبی تھے، ان میں رسولوں کی تعداد (۳۱۵) تھی، جم غفیر ہے۔ (احمد: ۵/ ۲۶۵)

الحكم على الحديث: ضعیف

Al-Fath al-Rabbani Hadith 10310 in Urdu