یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
17. باب ما جاء فى سبب خطيئة آدم وخروجه من الجنة والدليل على نبوته
آدم علیہ السلام کی خطا کے سبب، ان کے جنت سے نکلنے اور ان کی نبوت کی دلیل کا بیان
حدیث نمبر: 10311
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ( (خَيْرُ يَوْمٍ طَلَعَتْ فِيهِ الشَّمْسُ يَوْمُ الْجُمُعَةِ فِيهِ خُلِقَ آدَمُ وَفِيهِ أُدْخِلَ الْجَنَّةَ وَفِيهِ أُخْرِجَ مِنْهَا) ) زَادَ فِي أُخْرَى وَأَهْبَطَ اللَّهُ فِيهِ آدَمَ إِلَى الْأَرْضِ وَفِيهِ تَوَفَّى اللَّهُ آدَمَ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بہترین دن جس پر سورج طلوع ہوتا ہے، وہ جمعہ کا دن ہے، اس میں آدم علیہ السلام کو پیدا کیا گیا، اسی میں ان کو جنت میں داخل کیا گیا، اسی دن میں ان کو اس سے نکالا گیا، ایک روایت میں ہے: اللہ تعالیٰ نے اسی دن آدم علیہ السلام کو زمین کی طرف اتارا اور اس دن کو ان کو وفات دی۔ [الفتح الربانی/كتاب خلق العالم/حدیث: 10311]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 854، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 10645 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10653»
الحكم على الحديث: صحیح
Al-Fath al-Rabbani Hadith 10311 in Urdu