الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
10. باب ذكر مها جرة إبراهيم بابنه إسماعيل و أمه هاجر إلى جبال فاران و هي أرض مكة و سبب وجود زمزم وبنائه البيت العتيق
ابراہیم علیہ السلام کا اپنے بیٹے اسماعیل علیہ السلام اور ان کی ماں سیدہ ہاجر رحمتہ اللہ علیہ کے ساتھ مکہ مکرمہ کے¤علاقے کے فاران کے پہاڑوں کی طرف ہجرت کرنا اور اس کے سبب سے زمزم کا وجود میں آنا¤اور بیت ِ عتیق کا تعمیر ہونا
حدیث نمبر: 10345
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ثَنَا أَيُّوبُ قَالَ أُنْبِئْتُ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ قَالَ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فَجَاءَ الْمَلَكُ بِهَا حَتَّى انْتَهَى إِلَى مَوْضِعِ زَمْزَمَ فَضَرَبَ بِعَقِبِهِ فَفَارَتْ عَيْنًا فَعَجِلَتِ الْإِنْسَانَةُ فَجَعَلَتْ تَقْدَحُ فِي شَنَّتِهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَحِمَ اللَّهُ أُمَّ إِسْمَاعِيلَ لَوْ لَا أَنَّهَا عَجِلَتْ لَكَانَتْ زَمْزَمُ عَيْنًا مَعِينًا
۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: پھر فرشتہ سیدہ ہاجرہ رحمۃ اللہ علیہ کو لے کر آیا،یہاں تک کہ جب زمزم والی جگہ پر پہنچا تو وہاں اپنی ایڑھی ماری، پس اس جگہ سے چشمہ ابل پڑا، اب اس خاتون نے پیالے کی مدد سے پانی کو اپنے مشکیزے میں ڈالنا شروع کر دیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ ام اسماعیل پر رحم کرے، اگر انھوں نے جلدی نہ کی ہوتی تو زمزم جاری چشمہ ہوتا۔ [الفتح الربانی/بيان قصص أنبياء الله عليهم السلام/حدیث: 10345]
تخریج الحدیث: «انظر الحديثين السابقين ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3390»
وضاحت: فوائد: … زمزم جاری چشمہ ہوتا، یعنی روئے زمین پر بہنے والا واضح اور ظاہری چشمہ ہوتا، ابن جوزی نے کہا: زمزم کا ظہور محض اللہ تعالیٰ کی نعمت تھی، اس میں کسی عامل کے عمل کا کوئی دخل نہیں تھا، جب سیدہ ہاجرہ رحمتہ اللہ علیہ نے اس کو پابند کرنا چاہا تو بیچ میں بشر کی محنت آ گھسی، سو وہ پابند ہو گیا۔ (فتح الباری: ۶/ ۴۰۲)
الحكم على الحديث: صحیح
Al-Fath al-Rabbani Hadith 10345 in Urdu