الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
10. باب ذكر مها جرة إبراهيم بابنه إسماعيل و أمه هاجر إلى جبال فاران و هي أرض مكة و سبب وجود زمزم وبنائه البيت العتيق
ابراہیم علیہ السلام کا اپنے بیٹے اسماعیل علیہ السلام اور ان کی ماں سیدہ ہاجر رحمتہ اللہ علیہ کے ساتھ مکہ مکرمہ کے¤علاقے کے فاران کے پہاڑوں کی طرف ہجرت کرنا اور اس کے سبب سے زمزم کا وجود میں آنا¤اور بیت ِ عتیق کا تعمیر ہونا
حدیث نمبر: 10346
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ أَخْبَرَهُ أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَلَمْ تَرَيْ إِلَى قَوْمِكِ حِينَ بَنَوُا الْكَعْبَةَ اقْتَصَرُوا عَنْ قَوَاعِدِ إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ قَالَتْ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَفَلَا تَرُدُّهَا عَلَى قَوَاعِدِ إِبْرَاهِيمَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَوْلَا حِدْثَانُ قَوْمِكِ بِالْكُفْرِ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ فَوَاللَّهِ لَئِنْ كَانَتْ عَائِشَةُ سَمِعَتْ ذَلِكَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَا أُرَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ تَرَكَ اسْتِلَامَ الرُّكْنَيْنِ اللَّذَيْنِ يَلِيَانِ الْحِجْرَ إِلَّا أَنَّ الْبَيْتَ لَمْ يُتَمَّمْ عَلَى قَوَاعِدِ إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ إِرَادَةَ أَنْ يَسْتَوْعِبَ النَّاسُ الطَّوَافَ بِالْبَيْتِ كُلِّهِ مِنْ وَرَاءِ قَوَاعِدِ إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا: کیا تم اپنی قوم کی طرف نہیں دیکھتی، جب انھوں نے کعبہ کی تعمیر کی تو اس کو ابراہیم علیہ السلام کی بنیادوں سے کم کر دیا؟ سیدہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! تو کیا آپ اس کو ابراہیم علیہ السلام کی بنیادوں پر تعمیر نہیں کر دیتے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر تیری قوم نے کفر کو نیا نیا نہ چھوڑا ہوتا (تو میں اس طرح کر دیتا)۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہمانے کہا: اگر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنی ہے تو میرا خیال ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حطیم کی طرف والے کعبہ کے دو کونوں کا استلام اس بنا پر نہیں کیا کہ اس طرف سے کعبہ ابراہیم علیہ السلام کی بنیادوں پر نہیں تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارادہ یہ تھا کہ لوگ بیت اللہ کا پوری طرح طواف کریں اور ابراہیم علیہ السلام کی بنیادوں کے پیچھے سے چکر کاٹیں۔ [الفتح الربانی/بيان قصص أنبياء الله عليهم السلام/حدیث: 10346]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه البخاري: 1585، ومسلم: 1333، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24827 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25338»
وضاحت: فوائد: … جب قریشیوں نے کعبہ کی تعمیر کی تو وہ بیت اللہ کی شمالی جانب قواعد ِ ابراہیم کا لحاظ نہ کر سکے اور ایک جزو کو خالی چھوڑ دیا، اسی کو حِجْرکہتے ہیں۔ ویسے حِجْرکے معنی ہیں وہ جگہ جس کے ارد گرد دیوار بنائی گئی ہو، اس جگہ کو حطیم بھی کہتے ہیں، حطیم کے معنی ہیں: جدا کیا گیا، کیونکہ اس حصے کو بیت اللہ سے جدا کیا گیا، بیت اللہ کی دیوار سے پانچ یا چھ یا سات ہاتھ تک بیت اللہ کا حصہ ہے، سارا حطیم بیت اللہ کا حصہ نہیں ہے، کیونکہ دیوار بناتے وقت کچھ بیرونی جگہ بھی شامل کر دی گئی، جو آدمی پانچ چھ ہاتھ کے احاطے کے اندر اندر نماز پڑھے، وہ یوں سمجھے کہ اس نے بیت اللہ کے اندر نماز پڑھی، اسی طرح طواف کرنے والے کا چکر حطیم کے باہر سے ہونا چاہیے۔
الحكم على الحديث: صحیح
Al-Fath al-Rabbani Hadith 10346 in Urdu