🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
14. بَابُ مَا جَاءَ فِي تَارِيخ غَزْوَةِ بَدْرٍ وَعَدَدِ رِجَالِهَا مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ وَ وَأُمُورٍ مُتَفَرِّقَةٍ تَتَعَلَّقُ بِهَا
غزوۂ بدر کی تاریخ، اس غزوہ میں مہاجرین وانصار کی تعداد اور اس غزوہ سے متعلقہ متفرق امور کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10716
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قِيلَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حِينَ فَرَغَ مِنْ بَدْرٍ عَلَيْكَ الْعِيرَ لَيْسَ دُونَهَا شَيْءٌ قَالَ فَنَادَاهُ الْعَبَّاسُ وَهُوَ أَسِيرٌ فِي وَثَاقِهِ لَا يَصْلُحُ قَالَ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِمَ قَالَ لِأَنَّ اللَّهَ قَدْ وَعَدَكَ إِحْدَى الطَّائِفَتَيْنِ وَقَدْ أَعْطَاكَ مَا وَعَدَكَ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غزوۂ بدر سے فارغ ہوئے تو کسی نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا: آپ ابو سفیان کے قافلہ کی خبر لیں، اب کوئی آپ کی مزاحمت نہیں کر سکے گا، لیکن عباس جو کہ اس وقت اسیر تھے اور بندھے ہوئے تھے، انہوں نے کہا: اب ابو سفیان کا پیچھا کرنا آپ کے شایانِ شان نہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا: وہ کیوں؟ اس نے کہا: اللہ تعالیٰ نے آپ کے ساتھ دو گروہوں میں سے ایک کا وعدہ کیا تھا اور اس نے اپنے وعدے کے مطابق آپ کو ایک گروہ پر غلبہ دے دیا ہے۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الثانية للهجرة/حدیث: 10716]
تخریج الحدیث: «رواية سماك عن عكرمة فيھا اضطراب، أخرجه الترمذي: 3080، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2873 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2873»
وضاحت: فوائد: … لیکنیہ بات درست ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ دو گروہوں میں سے ایک کا وعدہ کیا تھا، جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
{وَإِذْ یَعِدُکُمُ اللّٰہُ إِحْدَی الطَّائِفَتِیْنِ أَنَّہَا لَکُمْ وَتَوَدُّونَ أَنَّ غَیْرَ ذَاتِ الشَّوْکَۃِ تَکُونُ لَکُمْ وَیُرِیدُ اللّٰہُ أَن یُحِقَّ الحَقَّ بِکَلِمَاتِہِ وَیَقْطَعَ دَابِرَ الْکَافِرِینَ۔} … اور جب اللہ تم سے دو گروہوں میں سے ایک کا وعدہ کر رہا تھا کہ یقینا وہ تمھارے لیے ہوگا اور تم چاہتے تھے کہ جو کانٹے والا نہیں وہ تمھارے لیے ہو اور اللہ چاہتا تھا کہ حق کو اپنی باتوں کے ساتھ سچا کر دے اور کافروں کی جڑ کاٹ دے۔ (سورۂ انفال: ۷)
ایک گروہ سے مراد تجارتی قافلہ ہے کہ وہ لڑائی کے بغیر مسلمانوںکو مل جائے گا اور اس میں وافر مال و اسباب بھی ہوں گے۔
دوسرے گروہ سے مراد لشکرِ قریش ہے کہ اس کے ساتھ صحابہ کا مقابلہ ہو گا، جس میں مسلمان غالب آ جائیں گے اور ان کو مال غنیمت ملے گا۔

الحكم على الحديث:
رواية سماك عن عكرمة فيھا اضطراب


Al-Fath al-Rabbani Hadith 10716 in Urdu