الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
14. بَابُ مَا جَاءَ فِي تَارِيخ غَزْوَةِ بَدْرٍ وَعَدَدِ رِجَالِهَا مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ وَ وَأُمُورٍ مُتَفَرِّقَةٍ تَتَعَلَّقُ بِهَا
غزوۂ بدر کی تاریخ، اس غزوہ میں مہاجرین وانصار کی تعداد اور اس غزوہ سے متعلقہ متفرق امور کا بیان
حدیث نمبر: 10717
عَنْ عَبَّاسِ بْنِ سَهْلٍ عَنْ حَمْزَةَ بْنِ أَبِي أُسَيْدٍ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَمَّا الْتَقَيْنَا نَحْنُ وَالْقَوْمُ يَوْمَ بَدْرٍ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمَئِذٍ لَنَا إِذَا أَكْثَبُوكُمْ يَعْنِي غَشُوكُمْ فَارْمُوهُمْ بِالنَّبْلِ وَأُرَاهُ قَالَ وَاسْتَبْقُوا نَبْلَكُمْ
سیدنا ابو اسید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: بدر کے دن جب ہماری اور کفار کی مڈبھیڑ ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہم سے فرمایا: جب دشمن تمہارے اوپر چڑھ آئے یعنی بالکل قریب آجائے تو تب تم ان پر تیر چلانا۔ اور میرا خیال ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ بھی فرمایا تھا کہ اندھا دھند تیر اندازی کرنے کی بجائے احتیاط سے تیر چلانا۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الثانية للهجرة/حدیث: 10717]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3984، 3985، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16060 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16157»
وضاحت: فوائد: … لشکر ِ اسلام میں اسلحہ کی قلت بھی تھی اور دور سے تیر فائر کر دینے سے تیر ضائع بھی ہو سکتا ہے، کیونکہ ممکن ہے کہ وہ دوری کی وجہ سے نشانے پر نہ لگے یا دشمن کو اس سے بچنے کا موقع مل جائے۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 3984
Al-Fath al-Rabbani Hadith 10717 in Urdu