🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

New یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
4. باب ما جاء فى كيد بعضهن له واحتماله إبداء هن وعفوه عنهن وتواضعه فى بيته ﷺ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ آپ کی بعض ازواج کا حیلہ کرنے کا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ان کی ایذائوں کو برداشت کرنے، ان سے درگزر کرنے اور گھر کے اندر انکساری کا رویہ اختیار کرنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11486
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُحِبُّ الْحَلْوَى وَيُحِبُّ الْعَسَلَ وَكَانَ إِذَا صَلَّى الْعَصْرَ دَارَ عَلَى نِسَائِهِ فَيَدْنُو مِنْهُنَّ فَدَخَلَ عَلَى حَفْصَةَ فَاحْتَبَسَ عِنْدَهَا أَكْثَرَ مِمَّا كَانَ يَحْتَبِسُ فَسَأَلْتُ عَنْ ذَلِكَ فَقِيلَ لِي أَهْدَتْ لَهَا امْرَأَةٌ مِنْ قَوْمِهَا عُكَّةَ عَسَلٍ فَسَقَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنْهُ فَقُلْتُ أَمَا وَاللَّهِ لَنَحْتَالَنَّ لَهُ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِسَوْدَةَ وَقُلْتُ إِذَا دَخَلَ عَلَيْكِ فَإِنَّهُ سَيَدْنُو مِنْكِ فَقُولِي لَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَكَلْتَ مَغَافِيرَ فَإِنَّهُ سَيَقُولُ لَكِ لَا فَقُولِي لَهُ مَا هَذِهِ الرِّيحُ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَشْتَدُّ عَلَيْهِ أَنْ يُوجَدَ مِنْهُ رِيحٌ فَإِنَّهُ سَيَقُولُ لَكِ سَقَتْنِي حَفْصَةُ شَرْبَةَ عَسَلٍ فَقُولِي لَهُ جَرَسَتْ نَحْلُهُ الْعُرْفُطَ وَسَأَقُولُ لَهُ ذَلِكَ فَقُولِي لَهُ أَنْتِ يَا صَفِيَّةُ فَلَمَّا دَخَلَ عَلَى سَوْدَةَ قَالَتْ سَوْدَةُ وَالَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ لَقَدْ كِدْتُ أَنْ أُبَادِئَهُ بِالَّذِي قُلْتِ لِي وَإِنَّهُ لَعَلَى الْبَابِ فَرَقًا مِنْكِ فَلَمَّا دَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَكَلْتَ مَغَافِيرَ قَالَ ”لَا“ قُلْتُ فَمَا هَذِهِ الرِّيحُ قَالَ ”سَقَتْنِي حَفْصَةُ شَرْبَةَ عَسَلٍ“ قُلْتُ جَرَسَتْ نَحْلُهُ الْعُرْفُطَ فَلَمَّا دَخَلَ عَلَيَّ قُلْتُ لَهُ مِثْلَ ذَلِكَ ثُمَّ دَخَلَ عَلَى صَفِيَّةَ فَقَالَتْ لَهُ مِثْلَ ذَلِكَ فَلَمَّا دَخَلَ عَلَى حَفْصَةَ قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَا أَسْقِيكَ مِنْهُ قَالَ ”لَا حَاجَةَ لِي بِهِ“ قَالَ تَقُولُ سَوْدَةُ سُبْحَانَ اللَّهِ وَاللَّهِ لَقَدْ حَرَمْنَاهُ قُلْتُ لَهَا اسْكُتِي
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو میٹھی چیز اور شہد خوب مرغوب تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عصر کی نماز ادا فرمانے کے بعد اپنی ازواج کے ہاں چکر لگایا کرتے اور ان کے پاس جایا کرتے تھے، ایک بار آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کے ہاں تشریف لے گئے اور سابقہ معمول سے ذرا زیادہ دیر تک وہاں ٹھہرے، میں نے اس کی وجہ دریافت کی تو مجھے بتلایا گیا کہ سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کو ان کی قوم کی ایک عورت نے شہد کا ایک بڑا ڈبہ ہدیہ بھیجا ہے۔ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس شہد میں سے پلایا ہے۔ میں نے سوچا کہ اللہ کی قسم! ہم اس سلسلہ میں ضرور کوئی پروگرام بنائیں۔ تو میں نے اس بات کا سیدہ سودہ رضی اللہ عنہ سے ذکر کیا، میں نے ان سے کہا کہ اللہ کے رسول جب آپ کے پاس آکر آپ کے قریب آئیں تو کہہ دینا کہ اے اللہ کے رسول! کیا آپ نے مغافیر کھایا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کہیں گے کہ نہیں، تو تم نے کہنا ہے کہ تو پھر آپ سے یہ کیسی مہک (بو) آرہی ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ بات بالکل گوارا نہ تھی کہ آپ سے کسی قسم کی بو آئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرمائیں گے کہ مجھے حفصہ رضی اللہ عنہا نے شہد پلایا ہے۔ تو تم کہہ دینا کہ شہد کی مکھی اس درخت پر جا بیٹھی ہو گی، جب آپ میرے پاس تشریف لائیں گے تو میں بھییہی بات آپ سے کہوں گی۔ اور صفیہ! جب اللہ کے رسول آپ کے ہاں آئیں تو تم بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اسی طرح کہنا۔ چنانچہ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا کے ہاں گئے تو وہ بیان کرتی ہیں۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! ابھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دروازے پر ہی تھے کہ میں تمہارے ڈر کی وجہ سے جلدی میں آپ سے وہ بات کہنے والی تھی، جو تم نے مجھ سے کہی تھی۔ بہر حال جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آئے تو میں نے کہہ دیا: اللہ کے رسول! کیا آپ نے مغافیر کھایا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں۔ میں نے عرض کیا: تو پھر یہ بو کیسی ہے؟ آپ نے فرمایا: مجھے تو حفصہ نے شہد پلایا ہے۔ میں نے کہا: پھر شہد کی مکھی مغافیر پر جا بیٹھی ہوگی، اسی طرح جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے ہاں تشریف لائے تو میں نے بھی اسی طرح کہا۔ اس کے بعد جب آپ سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کے ہاں گئے تو انہوں نے بھی آپ سے ایسی ہی بات کی۔ بعد میں جب آپ سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کے ہاں تشریف لے گئے تو انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا میں آپ کووہ شہد نہ پلاؤں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں، مجھے اس کی حاجت نہیں۔ سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: سبحان اللہ! ہم نے آپ کو اس شہد سے محروم کر دیا ہے۔ تو میں نے ان سے کہا: چپ رہو۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11486]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 5431، 5599، 5614،ومسلم: 1474، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24316 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24820»
وضاحت: فوائد: … مغافیر ایک قسم کا پھول ہوتا ہے، جس میںبساند ہوتی ہے۔

الحكم على الحديث: صحیح

Al-Fath al-Rabbani Hadith 11486 in Urdu