یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
4. باب ما جاء فى كيد بعضهن له واحتماله إبداء هن وعفوه عنهن وتواضعه فى بيته ﷺ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ آپ کی بعض ازواج کا حیلہ کرنے کا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ان کی ایذائوں کو برداشت کرنے، ان سے درگزر کرنے اور گھر کے اندر انکساری کا رویہ اختیار کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 11487
عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ وَقَدْ كَانَ بَيْنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَبَيْنَ نِسَائِهِ شَيْءٌ فَجَعَلَ يَرُدُّ بَعْضَهُنَّ عَنْ بَعْضٍ فَجَاءَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ احْثُ يَا رَسُولَ اللَّهِ فِي أَفْوَاهِهِنَّ التُّرَابَ وَاخْرُجْ إِلَى الصَّلَاةِ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نماز کے لیے اقامت ہو چکی تھییا نماز کی اقامت کا وقت ہو چکا تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ کی ازواج کے مابین کوئی بحث ہو رہی تھی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کو ایک دوسری سے چھڑانے کی کوشش کر رہے تھے۔ اتنے میں سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ تشریف لے آئے اور انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ان کے مونہوں میں مٹی ڈالیں اور آپ نماز کے لیے تشریف لے چلیں۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11487]
تخریج الحدیث: «اخرجه مسلم مطولا: 1462، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12014 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12037»
الحكم على الحديث: صحیح
Al-Fath al-Rabbani Hadith 11487 in Urdu