الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2. باب ما جاء فى فضائل الأنصار ومناقبهم رضى الله عنهم
انصار کے فضائل و مناقب
حدیث نمبر: 11531
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ قَالَ بَلَغَ مُصْعَبَ بْنَ الزُّبَيْرِ عَنْ عَرِيفِ الْأَنْصَارِ شَيْءٌ فَهَمَّ بِهِ فَدَخَلَ عَلَيْهِ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ فَقَالَ لَهُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”اسْتَوْصُوا بِالْأَنْصَارِ خَيْرًا أَوْ قَالَ مَعْرُوفًا اقْبَلُوا مِنْ مُحْسِنِهِمْ وَتَجَاوَزُوا عَنْ مُسِيئِهِمْ“ فَأَلْقَى مُصْعَبٌ نَفْسَهُ عَنْ سَرِيرِهِ وَأَلْزَقَ خَدَّهُ بِالْبِسَاطِ وَقَالَ أَمْرُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى الرَّأْسِ وَالْعَيْنِ فَتَرَكَهُ
علی بن زید سے مروی ہے کہ سیدنا مصعب بن زبیر تک انصار کے ایک نمائندے کی کوئی شکایت پہنچی تو انہوں نے اس کے متعلق (برا بھلا یا سزا دینے کا) ارادہ کیا، سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے سیدنا مصعب کے ہاں جا کر ان سے کہا:میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یوں فرماتے ہوئے سنا کہ میں تمہیں انصار کے ساتھ حسن سلوک کرنے کی وصیت کرتا ہوں، ان میں سے جو آدمی نیکوکار ہو تم اس کی بات کو قبول کرو اور جس سے کوئی کوتاہی سرزد ہو جائے تم اس سے در گزر کرو۔ یہ سن کر سیدنا مصعب نے اپنے آپ کو چارپائی سے نیچے گرا دیا اور اپنا رخسار چٹائی پر رکھ کر کہا:اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا حکم سر آنکھوں پر، پھر اس انصاری کو چھوڑ دیا اور کچھ نہ کہا۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل والمناقب/حدیث: 11531]
تخریج الحدیث: «المرفوع منه صحيح، وھذا اسناد ضعيف لضعف علي بن زيد بن جدعان، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13528 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13562»
الحكم على الحديث: المرفوع منه صحيح
Al-Fath al-Rabbani Hadith 11531 in Urdu