الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2. بَابُ مَا جَاءَ فِي فَضَائِلِ الْأَنْصَارِ وَمَنَاقِبِهِمْ رَضِىَ اللَّهُ عَنْهُمْ
انصار کے فضائل و مناقب
حدیث نمبر: 11530
عَنْ أَبِي قَتَادَةَ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ عَلَى الْمِنْبَرِ لِلْأَنْصَارِ ”أَلَا إِنَّ النَّاسَ دِثَارِي وَالْأَنْصَارَ شِعَارِي لَوْ سَلَكَ النَّاسُ وَادِيًا وَسَلَكَتِ الْأَنْصَارُ شِعْبَةً لَاتَّبَعْتُ شِعْبَةَ الْأَنْصَارِ وَلَوْلَا الْهِجْرَةُ لَكُنْتُ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ فَمَنْ وَلِيَ مِنَ الْأَنْصَارِ فَلْيُحْسِنْ إِلَى مُحْسِنِهِمْ وَلْيَتَجَاوَزْ عَنْ مُسِيئِهِمْ وَمَنْ أَفْزَعَهُمْ فَقَدْ أَفْزَعَ هَذَا الَّذِي بَيْنَ هَاتَيْنِ“ وَأَشَارَ إِلَى نَفْسِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منبر پر تشریف فرما تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انصار کے حق میں فرمایا: عام لوگوں کے میرے ساتھ تعلق کی مثال ایسے ہے جیسے اوپر اوڑھا ہوا کپڑا ہو اور انصار کا میرے ساتھ یوں تعلق ہے جیسے کوئی کپڑا جسم کے ساتھ متصل ہو (یعنی انصاری آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خاص لوگ ہیں)۔ اگر عام لوگ ایک وادی میں چلیں اور انصار دوسری پہاڑی گھاٹی میں تو میں انصار والی گھاٹی میں چلنا پسند کروں گا اور اگر ہجرت والی فضیلت نہ ہوتی تو میں بھی انصار کا ایک فرد ہوتا۔ کسی کو انصار پر امارت و حکومت حاصل ہو تو وہ ان کے نیکوکاروں کے ساتھ حسن سلوک کا برتاؤ کرے، اور اگر ان میں سے کوئی کوتاہی ہو جائے تو وہ اس سے در گزر کرے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی طرف اشارہ کرکے فرمایا: جس کسی نے ان کو خوف زدہ کیا تو گویا اس نے مجھے خوف زدہ کیا۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل والمناقب/حدیث: 11530]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، اخرجه الطبراني في الاوسط: 8892، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22615 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22989»
وضاحت: فوائد: … یہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا انصار کے ساتھ کمال محبت کا اظہار ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اُن کی گھاٹی میں چلنا پسند کریں گے۔! یہ حدیث موقوف یعنی عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا قول ہے، اس لیے اس سے کسی شرعی مسئلہ کا استدلال نہیں ہو سکتا۔ (عبداللہ رفیق)
انصار وہ لوگ ہیں، جو مدینہ میں رہائش پذیر تھے، انھوں نے پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنے شہر میں پناہ دی، پھر ہر موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مدد اور حفاظت فرمائی اور مدینہ آنے والے مہاجرین کی بھی خوب دل پذیرائی اور تواضع کی اور اپنا سب کچھ ان کی خدمت میں پیش کر دیا۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مکہ مکرمہ کی سرزمین میں دین ِ الہی کی تبلیغ شروع کی، توحید و سنت کی دعوت جاری رکھی، لیکن لوگ نہ صرف شرک و بدعت پر ڈٹے رہے، بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا قلعہ قمع کرنے کے لیے کوئی دقیقہ فروگذاشت نہ ہونے دیا۔ ایک انصاری صحابی سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں (خلاصہ یہ ہے): اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مکہ میں تقریبا دس سال مقیم رہے، لوگوں کے پیچھے ان کے گھروں، ڈیروں اور عکاظ و مجنہ کی مارکیٹوں میں جا کر نوائے حق بلند کرتے رہے، حج کے موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منٰی کے مقام پر لوگوں سے کہتے: ((مَنْ یُّؤْوِیْنِیْ؟ مَنْ یَّنْصُرُنِیْ؟ حَتّٰی أُبَلِّغَ رِسَالَاتِ رَبِّیْ وَلَہُ الْجَنَّۃ۔)) … کوئی ہے جو مجھے پناہ مہیا کرے؟ کوئی ہے جو میری مدد کرے؟ تاکہ میں اپنے ربّ کا پیغام پہنچا سکوں، (جو ایسا کرے گا) اسے جنت ملے گی۔
یہ سلسلہ جاری رہا، حتی کہ ہم انصاری لوگ یثرب (یعنی مدینہ) سے اٹھ کھڑے ہوئے، ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ٹھکانا مہیا کیا اور آپ کی سچائی کا اعلان کیا۔ ہم اکا دکا کر کے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس پہنچتے، قرآن سنتے اور گھر واپس پلٹ کر یہ پیغام اپنے گھر والوں تک پہنچاتے۔ بالآخر ہم نے مشورہ کیا کہ کب تک یہی سلسلہ جاری رہے گا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مکہ کے پہاڑوں میں مارے مارے ٹھوکریں کھاتے رہیں اور شرک پرستوں سے ڈرتے رہیں، چنانچہ سوچے سمجھے منصوبے کے مطابق حج کے موقع پر ہم ستر انصاری حج کے موسم میں عقبہ (گھاٹی) میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس پہنچ گئے اور آپ کی بیعت کی اور مدینہ منورہ میں تشریف لانے کی دعوت دی۔ (مسند احمد)
یہ انصار ہی وہ صحابہ تھے جو اسلام، بانی ٔ اسلام اور اہل اسلام کا سہارا بنے اور سارے عرب سے اعلانِ جنگ کیا۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جاں نثاروں سمیت ہجرت کی گھاٹیاں طے کر کے مدینہ منورہ جلوہ افروز ہوئے تو انصار صحابہ نے تائید و نصرت، محبت و الفت، اخوت و بھائی چارہ اور برادری و بھائی بندی کی جو مثال پیش کی، ماضی میں اس کی نظیر ملی نہ مستقبل میں امید ہے۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبد الرحمن بن عوف انصاری رضی اللہ عنہ نے اپنے مہاجر بھائی سیدنا سعد بن ربیع رضی اللہ عنہ سے کہا: تم میرا آدھا مال لے لو اور میری دو بیویاں ہیں، ان کو دیکھ لو، جو تمہیںپسند ہو، میں اسے طلاق دے دیتا ہوں، عدت گزرنے کے بعد شادی کر لینا۔ (بخاری) پھر دس سال کی طویل مدت تک یہ انصار، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دست و بازو بنے رہے۔ یہی وجوہات ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دل میں ان لوگوں کی محبت تھی۔
انصار نے اپنے خون سے شجرِ اسلام کی آبیاری کی، اپنے شہر کو مرکزِ اسلام قرار دیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مکہ میں یہ اعلان کرتے تھے کہ قریشیوںنے مجھے تبلیغِ اسلام سے روک رکھا ہے، کون ہے جو مجھے پناہ دے، تاکہ میں ربّ کا پیغام لوگوں تک پہنچا سکوں؟ انصاریوں نے مال و جان داؤ پر لگا کر اور دوستوں کی دشمنیاں مول لے کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آواز پر لبیک کہا۔ مہاجرین، جو اسلام کا سرمایہ تھے، کو اپنے گھروں اور جائدادوں میں حصہ دار قرار دیا۔ ان نفوس قدسیہ کی محبت کو ایمان کی علامت اور ان سے نفرت کو منافقت کی علامت قرار دیا گیا۔ جو بد بخت اسلام کے ان سپوتو ں اور ستونوں کا پاس لحاظ نہیں کرتا، اسے ایمان و ایقان کی نعمت کیسے نصیب ہو گی۔
انصار وہ لوگ ہیں، جو مدینہ میں رہائش پذیر تھے، انھوں نے پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنے شہر میں پناہ دی، پھر ہر موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مدد اور حفاظت فرمائی اور مدینہ آنے والے مہاجرین کی بھی خوب دل پذیرائی اور تواضع کی اور اپنا سب کچھ ان کی خدمت میں پیش کر دیا۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مکہ مکرمہ کی سرزمین میں دین ِ الہی کی تبلیغ شروع کی، توحید و سنت کی دعوت جاری رکھی، لیکن لوگ نہ صرف شرک و بدعت پر ڈٹے رہے، بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا قلعہ قمع کرنے کے لیے کوئی دقیقہ فروگذاشت نہ ہونے دیا۔ ایک انصاری صحابی سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں (خلاصہ یہ ہے): اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مکہ میں تقریبا دس سال مقیم رہے، لوگوں کے پیچھے ان کے گھروں، ڈیروں اور عکاظ و مجنہ کی مارکیٹوں میں جا کر نوائے حق بلند کرتے رہے، حج کے موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منٰی کے مقام پر لوگوں سے کہتے: ((مَنْ یُّؤْوِیْنِیْ؟ مَنْ یَّنْصُرُنِیْ؟ حَتّٰی أُبَلِّغَ رِسَالَاتِ رَبِّیْ وَلَہُ الْجَنَّۃ۔)) … کوئی ہے جو مجھے پناہ مہیا کرے؟ کوئی ہے جو میری مدد کرے؟ تاکہ میں اپنے ربّ کا پیغام پہنچا سکوں، (جو ایسا کرے گا) اسے جنت ملے گی۔
یہ سلسلہ جاری رہا، حتی کہ ہم انصاری لوگ یثرب (یعنی مدینہ) سے اٹھ کھڑے ہوئے، ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ٹھکانا مہیا کیا اور آپ کی سچائی کا اعلان کیا۔ ہم اکا دکا کر کے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس پہنچتے، قرآن سنتے اور گھر واپس پلٹ کر یہ پیغام اپنے گھر والوں تک پہنچاتے۔ بالآخر ہم نے مشورہ کیا کہ کب تک یہی سلسلہ جاری رہے گا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مکہ کے پہاڑوں میں مارے مارے ٹھوکریں کھاتے رہیں اور شرک پرستوں سے ڈرتے رہیں، چنانچہ سوچے سمجھے منصوبے کے مطابق حج کے موقع پر ہم ستر انصاری حج کے موسم میں عقبہ (گھاٹی) میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس پہنچ گئے اور آپ کی بیعت کی اور مدینہ منورہ میں تشریف لانے کی دعوت دی۔ (مسند احمد)
یہ انصار ہی وہ صحابہ تھے جو اسلام، بانی ٔ اسلام اور اہل اسلام کا سہارا بنے اور سارے عرب سے اعلانِ جنگ کیا۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جاں نثاروں سمیت ہجرت کی گھاٹیاں طے کر کے مدینہ منورہ جلوہ افروز ہوئے تو انصار صحابہ نے تائید و نصرت، محبت و الفت، اخوت و بھائی چارہ اور برادری و بھائی بندی کی جو مثال پیش کی، ماضی میں اس کی نظیر ملی نہ مستقبل میں امید ہے۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبد الرحمن بن عوف انصاری رضی اللہ عنہ نے اپنے مہاجر بھائی سیدنا سعد بن ربیع رضی اللہ عنہ سے کہا: تم میرا آدھا مال لے لو اور میری دو بیویاں ہیں، ان کو دیکھ لو، جو تمہیںپسند ہو، میں اسے طلاق دے دیتا ہوں، عدت گزرنے کے بعد شادی کر لینا۔ (بخاری) پھر دس سال کی طویل مدت تک یہ انصار، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دست و بازو بنے رہے۔ یہی وجوہات ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دل میں ان لوگوں کی محبت تھی۔
انصار نے اپنے خون سے شجرِ اسلام کی آبیاری کی، اپنے شہر کو مرکزِ اسلام قرار دیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مکہ میں یہ اعلان کرتے تھے کہ قریشیوںنے مجھے تبلیغِ اسلام سے روک رکھا ہے، کون ہے جو مجھے پناہ دے، تاکہ میں ربّ کا پیغام لوگوں تک پہنچا سکوں؟ انصاریوں نے مال و جان داؤ پر لگا کر اور دوستوں کی دشمنیاں مول لے کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آواز پر لبیک کہا۔ مہاجرین، جو اسلام کا سرمایہ تھے، کو اپنے گھروں اور جائدادوں میں حصہ دار قرار دیا۔ ان نفوس قدسیہ کی محبت کو ایمان کی علامت اور ان سے نفرت کو منافقت کی علامت قرار دیا گیا۔ جو بد بخت اسلام کے ان سپوتو ں اور ستونوں کا پاس لحاظ نہیں کرتا، اسے ایمان و ایقان کی نعمت کیسے نصیب ہو گی۔
الحكم على الحديث: صحيح لغيره
حدیث نمبر: 11531
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ قَالَ بَلَغَ مُصْعَبَ بْنَ الزُّبَيْرِ عَنْ عَرِيفِ الْأَنْصَارِ شَيْءٌ فَهَمَّ بِهِ فَدَخَلَ عَلَيْهِ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ فَقَالَ لَهُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”اسْتَوْصُوا بِالْأَنْصَارِ خَيْرًا أَوْ قَالَ مَعْرُوفًا اقْبَلُوا مِنْ مُحْسِنِهِمْ وَتَجَاوَزُوا عَنْ مُسِيئِهِمْ“ فَأَلْقَى مُصْعَبٌ نَفْسَهُ عَنْ سَرِيرِهِ وَأَلْزَقَ خَدَّهُ بِالْبِسَاطِ وَقَالَ أَمْرُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى الرَّأْسِ وَالْعَيْنِ فَتَرَكَهُ
علی بن زید سے مروی ہے کہ سیدنا مصعب بن زبیر تک انصار کے ایک نمائندے کی کوئی شکایت پہنچی تو انہوں نے اس کے متعلق (برا بھلا یا سزا دینے کا) ارادہ کیا، سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے سیدنا مصعب کے ہاں جا کر ان سے کہا:میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یوں فرماتے ہوئے سنا کہ میں تمہیں انصار کے ساتھ حسن سلوک کرنے کی وصیت کرتا ہوں، ان میں سے جو آدمی نیکوکار ہو تم اس کی بات کو قبول کرو اور جس سے کوئی کوتاہی سرزد ہو جائے تم اس سے در گزر کرو۔ یہ سن کر سیدنا مصعب نے اپنے آپ کو چارپائی سے نیچے گرا دیا اور اپنا رخسار چٹائی پر رکھ کر کہا:اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا حکم سر آنکھوں پر، پھر اس انصاری کو چھوڑ دیا اور کچھ نہ کہا۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل والمناقب/حدیث: 11531]
تخریج الحدیث: «المرفوع منه صحيح، وھذا اسناد ضعيف لضعف علي بن زيد بن جدعان، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13528 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13562»
الحكم على الحديث: المرفوع منه صحيح
حدیث نمبر: 11532
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مُتَقَنِّعًا بِثَوْبٍ فَقَالَ ”أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ النَّاسَ لَيَكْثُرُونَ وَإِنَّ الْأَنْصَارَ يَقِلُّونَ فَمَنْ وَلِيَ مِنْكُمْ أَمْرًا يَنْفَعُ فِيهِ أَحَدًا فَلْيَقْبَلْ مِنْ مُحْسِنِهِمْ وَيَتَجَاوَزْ عَنْ مُسِيئِهِمْ“
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (مرض الموت کے دنوں میں) سر اور منہ پر کپڑا لپیٹے باہر تشریف لائے اور فرمایا: لوگو! عام لوگ تعداد میں بڑھتے جا رہے ہیں اور انصار کی تعداد کم ہوتی جا رہی ہے، پس تم میں سے جو آدمی امور خلافت پر متمکن ہو اور کسی کو فائدہ پہنچا سکتا ہو تو اسے چاہیے کہ وہ انصار کے نیکوکاروں کی بات کو قبول کر لے اور ان میں سے کسی سے کوئی کوتاہی ہو تو اس سے در گزر کرے۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل والمناقب/حدیث: 11532]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 927، 3628، 3800، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2629 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2629»
وضاحت: فوائد: … انصاریوں کی کوتاہی کو محسوس کرنا یا اس وجہ سے ان کی مذمت کرنا یا ان سے دور ہونا، ان سب امور کا دروازہ ہی بند کر دیا گیا۔
الحكم على الحديث: أخرجه البخاري: 927
حدیث نمبر: 11533
عَنِ الْحَارِثِ بْنِ زِيَادٍ السَّاعِدِيِّ الْأَنْصَارِيِّ أَنَّهُ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْخَنْدَقِ وَهُوَ يُبَايِعُ النَّاسَ عَلَى الْهِجْرَةِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ بَايِعْ هَذَا قَالَ ”وَمَنْ هَذَا“ قَالَ ابْنُ عَمِّي حَوْطُ بْنُ يَزِيدَ أَوْ يَزِيدُ بْنُ حَوْطٍ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”لَا أُبَايِعُكَ إِنَّ النَّاسَ يُهَاجِرُونَ إِلَيْكُمْ وَلَا تُهَاجِرُونَ إِلَيْهِمْ وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ لَا يُحِبُّ رَجُلٌ الْأَنْصَارَ حَتَّى يَلْقَى اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى إِلَّا لَقِيَ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى وَهُوَ يُحِبُّهُ وَلَا يَبْغُضُ رَجُلٌ الْأَنْصَارَ حَتَّى يَلْقَى اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى إِلَّا لَقِيَ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى وَهُوَ يَبْغُضُهُ“
سیدنا حارث بن زیاد ساعدی انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ خندق کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لوگوں سے ہجرت کرنے کی بیعت لے رہے تھے، حارث رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! اس آدمی سے بھی بیعت لے لیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دریافت فرمایا: یہ کون ہے؟ انھوں نے کہا: یہ میرا چچا زاد حوط بن یزیدیایزید بن حوط ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں تم سے بیعت نہیں لیتا، لوگ تمہاری طرف ہجرت کرکے آئیں گے، تم ان کی طرف ہجرت کرکے نہیں جاؤ گے۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے! جو آدمی انصار سے محبت کرتا رہے یہاں تک کہ وہ اللہ تعالیٰ سے جا ملے تو وہ اللہ تعالیٰ سے اس حال میں ملے گا کہ اللہ تعالیٰ اس آدمی سے محبت کرتا ہوگا، لیکن جو آدمی انصار سے بغض رکھے یہاں تک کہ وہ اللہ تعالیٰ سے جا ملے تو وہ اللہ تعالیٰ سے اس حال میں ملے گا کہ اللہ تعالیٰ اس آدمی سے بغض رکھتا ہو گا۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل والمناقب/حدیث: 11533]
تخریج الحدیث: «اسناده قويّ، اخرجه الطبراني في الكبير: 3356، والطحاوي في شرح مشكل الآثار: 2636، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15540 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15625»
الحكم على الحديث: اسناده قويّ
حدیث نمبر: 11534
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ حَدَّثَنَا شَدَّادٌ أَبُو طَلْحَةَ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ أَتَتِ الْأَنْصَارُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِجَمَاعَتِهِمْ فَقَالُوا إِلَى مَتَى نَنْزَعُ مِنْ هَذِهِ الْآبَارِ فَلَوْ أَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَدَعَا اللَّهَ لَنَا فَفَجَّرَ لَنَا مِنْ هَذِهِ الْجِبَالِ عُيُونًا فَجَاءُوا بِجَمَاعَتِهِمْ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا رَآهُمْ قَالَ ”مَرْحَبًا وَأَهْلًا لَقَدْ جَاءَ بِكُمْ إِلَيْنَا حَاجَةٌ“ قَالُوا إِي وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ ”إِنَّكُمْ لَنْ تَسْأَلُونِي الْيَوْمَ شَيْئًا إِلَّا أُوتِيتُمُوهُ وَلَا أَسْأَلُ اللَّهَ شَيْئًا إِلَّا أَعْطَانِيهِ“ فَأَقْبَلَ بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ فَقَالُوا الدُّنْيَا تُرِيدُونَ فَاطْلُبُوا الْآخِرَةَ فَقَالُوا بِجَمَاعَتِهِمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ادْعُ اللَّهَ لَنَا أَنْ يَغْفِرَ لَنَا فَقَالَ ”اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِلْأَنْصَارِ وَلِأَبْنَاءِ الْأَنْصَارِ وَلِأَبْنَاءِ أَبْنَاءِ الْأَنْصَارِ“ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَأَوْلَادُنَا مِنْ غَيْرِنَا قَالَ ”وَأَوْلَادِ الْأَنْصَارِ“ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَوَالِينَا قَالَ ”وَمَوَالِي الْأَنْصَارِ“ قَالَ وَحَدَّثَتْنِي أُمِّي عَنْ أُمِّ الْحَكَمِ بِنْتِ النُّعْمَانِ بْنِ صُهْبَانَ أَنَّهَا سَمِعَتْ أَنَسًا يَقُولُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِثْلَ هَذَا غَيْرَ أَنَّهُ زَادَ فِيهِ ”وَكَنَائِنِ الْأَنْصَارِ“
عبید اللہ بن ابی بکر اپنے باپ سے اور وہ اپنے دادا (سیدنا انس رضی اللہ عنہ) سے بیان کرتے ہیں کہ انصار نے اکٹھے ہو کر شکوہ کیا کہ ہم کب تک ان کنوؤں سے پانی کھینچتے رہیں گے۔ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں جا کر گزارش کریں اور آپ اللہ سے دعا کریں تاکہ وہ ان پہاڑوں سے ہمارے لیے چشمے جاری کر دے۔ پس وہ سب اکٹھے ہو کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں گئے، آپ نے ان کو دیکھا تو خوش آمدید کہا اور فرمایا: تمہیں کوئی خاص ضرورت ہی ہماری طرف لائی ہے۔ انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! واقعی بات ایسے ہی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: آج تم جو بھی مانگو گے، وہ تمہیں دے دیا جائے گا اور میں بھی اللہ سے جو کچھ مانگوں گا وہ مجھے عنایت کر دے گا۔ یہ سن کر وہ ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے اور بولے: کیا تم دنیا طلب کرنے آئے ہو؟آخرت کی کامیابی مانگ لو۔ ان سب نے بیک زبان عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ اللہ تعالیٰ سے ہمارے لیے دعا فرمائیں کہ وہ ہماری مغفرت فرما دے، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یا اللہ! انصار کی، ان کے بیٹوں کی اور ان کے پوتوں کی مغفرت فرما دے۔ انصار نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! اور غیر انصار سے ہونے والی ہماری اولاد کے حق میں بھی دعا فرما دیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: انصار کی سب اولاد کو بخش دے۔ انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! انصار کے غلاموں اور لونڈیوں کے حق میں بھی دعا فرما دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یا اللہ! انصار کے غلاموں اور لونڈیوں کی بھی مغفرت فرما دے۔ عبید اللہ بن ابی بکر کا بیان ہے کہ مجھ سے میری والدہ نے ام حکم بنت نعما ن بن صہباء کی روایت سے بیان کیا انہوں نے کہا کہ میں نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ کو سنا وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اسی طرح بیان کرتے تھے، البتہ اس میں یہ بھی ہے کہ انصار نے مزید درخواست کی کہ اللہ کے رسول ہمارے بیٹوں کی بیویوں اور ہمارے بھائیوں کی بیویوں کے حق میں بھی دعائے مغفرت کر دیں۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل والمناقب/حدیث: 11534]
تخریج الحدیث: «اسناده قوي، أخرجه البزار 2808،و أخرج منه الدعاء بالمغفرة فقط: مسلم: 2507، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13268 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13301»
الحكم على الحديث: اسناده قوي
حدیث نمبر: 11535
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ شَقَّ عَلَى الْأَنْصَارِ النَّوَاضِحُ فَاجْتَمَعُوا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَسْأَلُونَهُ أَنْ يُجْرِيَ لَهُمْ نَهْرًا سَيْحًا فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”مَرْحَبًا بِالْأَنْصَارِ وَاللَّهِ لَا تَسْأَلُونِي الْيَوْمَ شَيْئًا إِلَّا أَعْطَيْتُكُمُوهُ وَلَا أَسْأَلُ اللَّهَ لَكُمْ شَيْئًا إِلَّا أَعْطَانِيهِ“ فَقَالَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ اغْتَنِمُوهَا وَاطْلُبُوا الْمَغْفِرَةَ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ ادْعُ اللَّهَ لَنَا بِالْمَغْفِرَةِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِلْأَنْصَارِ وَلِأَبْنَاءِ الْأَنْصَارِ وَلِأَبْنَاءِ أَبْنَاءِ الْأَنْصَارِ“
۔ (دوسری سند) جب انصار کے لیے اونٹوں پر پانی لاد لاد کر لانا اور کھیتوں کو سیراب کرنا شاق گزرنے لگا تو وہ اکٹھے ہو کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں گئے، تاکہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے درخواست کریں کہ آپ انہیں ایک بہتی نہر کھودنے کی اجازت فرمائیں۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا: انصار کو خوش آمدید، اللہ کی قسم! آج تم مجھ سے جو بھی طلب کرو گے، میں تمہیں عنایت کردوں گا اور میں بھی اللہ سے تمہارے لیے جو کچھ مانگوں گا، وہ مجھے دے دے گا۔ انہوں نے ایک دوسرے سے کہا: اس وقت کو غنیمت سمجھو اور مغفرت کی درخواست کرو۔ ان سب نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ اللہ سے ہمارے حق میں مغفرت کی دعا فرمائیں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یوں دعا کی: یا اللہ! انصار کی، ان کی اولادوں کی اور ان کی اولادوں کی اولادوں کی مغفرت فرما دے۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل والمناقب/حدیث: 11535]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12441»
الحكم على الحديث: انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12441
حدیث نمبر: 11536
إِنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”إِنَّ الْأَنْصَارَ عَيْبَتِي الَّتِي أَوَيْتُ إِلَيْهَا فَاقْبَلُوا مِنْ مُحْسِنِهِمْ وَاعْفُوا عَنْ مُسِيئِهِمْ فَإِنَّهُمْ قَدْ أَدَّوْا الَّذِي عَلَيْهِمْ وَبَقِيَ الَّذِي لَهُمْ“
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بے شک انصار میرے انتہائی خاص، راز دان اور امین لوگ ہیں، ان کی طرف آکر میں نے پناہ لی، پس تم ان کے نیکو کاروں کی بات کو قبول کرو اور ان میں سے کسی سے کوتاہی ہو تو اس سے درگزر کرو، انہوں نے اپنے عہد و پیمان کو تو پورا کر دیا ہے، لیکن ان کے حقوق کی ادائیگی باقی ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل والمناقب/حدیث: 11536]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3799،ومسلم: 2510، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12650 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12678»
الحكم على الحديث: أخرجه البخاري: 3799
حدیث نمبر: 11537
عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَأَى الصِّبْيَانَ وَالنِّسَاءَ مُقْبِلِينَ قَالَ عَبْدُ الْعَزِيزِ حَسِبْتُ أَنَّهُ قَالَ مِنْ عُرْسٍ فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مُمْثِلًا فَقَالَ ”اللَّهُمَّ أَنْتُمْ مِنْ أَحَبِّ النَّاسِ إِلَيَّ اللَّهُمَّ أَنْتُمْ مِنْ أَحَبِّ النَّاسِ إِلَيَّ اللَّهُمَّ أَنْتُمْ مِنْ أَحَبِّ النَّاسِ إِلَيَّ يَعْنِي الْأَنْصَارَ“ وَفِي لَفْظٍ ”وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنَّكُمْ لَأَحَبُّ النَّاسِ إِلَيَّ“ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک شادی سے انصار کے بچوں اور عورتوں کو آتے ہوئے دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہو گئے اور فرمانے لگے: اللہ گواہ ہے کہ تم لوگوں میں سے میرے نزدیک محبوب ترین ہو۔ اللہ گواہ ہے کہ مجھے سب سے زیادہ محبوب لوگوں میں سے ہو۔ اللہ جانتا ہے کہ تم انصار مجھے سب سے زیادہ محبوب لوگوں میں سے ہو۔ ایک روایت کے الفاظ یوں ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تین بار فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، تم مجھے سب لوگوں سے زیادہ محبوب ہو۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل والمناقب/حدیث: 11537]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3785،ومسلم: 2508، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12797 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12828»
الحكم على الحديث: أخرجه البخاري: 3785
حدیث نمبر: 11538
عَنِ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ أَنَّ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ كَتَبَ إِلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ زَمَنَ الْحَرَّةِ يُعَزِّيهِ فِيمَنْ قُتِلَ مِنْ وَلَدِهِ وَقَوْمِهِ وَقَالَ أُبَشِّرُكَ بِبُشْرَى مِنَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِلْأَنْصَارِ وَلِأَبْنَاءِ الْأَنْصَارِ وَلِأَبْنَاءِ أَبْنَاءِ الْأَنْصَارِ وَاغْفِرْ لِنِسَاءِ الْأَنْصَارِ وَلِنِسَاءِ أَبْنَاءِ الْأَنْصَارِ وَلِنِسَاءِ أَبْنَاءِ أَبْنَاءِ الْأَنْصَارِ“
نضر بن انس سے روایت ہے کہ سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ نے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کو واقعۂ حرہ کے دنوں میں ان کی اولاد اور ان کی قوم کے افراد کے قتل کی تعزیت کے سلسلہ میں لکھا اور کہا: میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ کو ایک خوش خبری سنانا چاہتا ہوں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یوں فرماتے ہوئے سنا: یا اللہ! انصارکو، ان کے بیٹوں کو اور ان کے پوتوں کو بخش دے، انصار کی خواتین کو، انصار کے بیٹوں کی بیویوں کو اور انصار کے پوتوں کی خواتین کو بخش دے۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل والمناقب/حدیث: 11538]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه البخاري بلفظ مذكور في الشرح: 4906،وأخرجه مسلم: 2506 بلفظ: اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِلْأَنْصَارِ وَلِأَبْنَاء ِ الْأَنْصَارِ وَأَبْنَاء ِ أَبْنَاء ِ الْأَنْصَارِ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19299 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19514»
وضاحت: فوائد: … یزید بن معاویہ نے اپنے دور میں مدینہ پر حملہ کرنے کے لیے ایک لشکر بھیجا تھا، اسی کو واقعۂ حرّہ کہتے ہیں۔
صحیح بخاری کی روایت کا سیاق درج ذیل ہے:
عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنُ الْفَضْلِ أَنَّہُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ یَقُولُ: حَزِنْتُ عَلَی مَنْ أُصِیبَ بِالْحَرَّۃِ فَکَتَبَ إِلَیَّ زَیْدُ بْنُ أَرْقَمَ وَبَلَغَہُ شِدَّۃُ حُزْنِییَذْکُرُ أَنَّہُ سَمِعَ رَسُولَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یَقُولُ: ((اللَّہُمَّ اغْفِرْ لِلْأَنْصَارِ وَلِأَبْنَاء ِ الْأَنْصَارِ۔)) … سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: حرّہ میں شہید ہونے والوں پر مجھے غم ہوا، جب سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کو میرے غم کی شدت کا علم ہوا تو انھوں نے میری طرف لکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ! تو انصاریوں اور انصاریوں کے بیٹوں کوبخش دے۔
صحیح بخاری کی روایت کا سیاق درج ذیل ہے:
عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنُ الْفَضْلِ أَنَّہُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ یَقُولُ: حَزِنْتُ عَلَی مَنْ أُصِیبَ بِالْحَرَّۃِ فَکَتَبَ إِلَیَّ زَیْدُ بْنُ أَرْقَمَ وَبَلَغَہُ شِدَّۃُ حُزْنِییَذْکُرُ أَنَّہُ سَمِعَ رَسُولَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یَقُولُ: ((اللَّہُمَّ اغْفِرْ لِلْأَنْصَارِ وَلِأَبْنَاء ِ الْأَنْصَارِ۔)) … سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: حرّہ میں شہید ہونے والوں پر مجھے غم ہوا، جب سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کو میرے غم کی شدت کا علم ہوا تو انھوں نے میری طرف لکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ! تو انصاریوں اور انصاریوں کے بیٹوں کوبخش دے۔
الحكم على الحديث: حديث صحيح
حدیث نمبر: 11539
عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا حَمْزَةَ قَالَ قَالَتِ الْأَنْصَارُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ لِكُلِّ نَبِيٍّ أَتْبَاعًا وَإِنَّا قَدْ تَبِعْنَاكَ فَادْعُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ يَجْعَلَ أَتْبَاعَنَا مِنَّا قَالَ فَدَعَا لَهُمْ أَنْ يَجْعَلَ أَتْبَاعَهُمْ مِنْهُمْ قَالَ فَنَمَّيْتُ ذَلِكَ إِلَى ابْنِ أَبِي لَيْلَى فَقَالَ زَعَمَ ذَلِكَ زَيْدٌ يَعْنِي ابْنَ أَرْقَمَ
عمر و بن مرہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے ابو حمزہ طلحہ بن یزید سے سنا، انھوں نے کہا کہ انصار نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ہر نبی کے کچھ پیروکار ہوتے ہیں، ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیروی کی ہے۔ اب آپ دعا فرمائیں کہ اللہ تعالیٰ ہمارے پیروکار ہم میں سے بنائے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے حق میں دعا فرمائی کہ اللہ تعالیٰ ان کے پیرو انہی میں سے بنائے۔ میں نے اس حدیث کا ابن ابی لیلی سے ذکر کیا، تو انہوں نے کہا کہ زید بن ارقم رضی اللہ عنہ نے بھی ایسے ہی کیا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل والمناقب/حدیث: 11539]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري: 3787، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19336 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19551»
وضاحت: فوائد: … انصار کا مطلب یہ تھا کہ جیسے ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیروی کے تقاضے پورے کیے ہیں، ان کی نسل اور حلیف بھییہ سلسلہ جاری رکھیں اور بیچ میں انقطاع نہ آنے دیں۔
الحكم على الحديث: اخرجه البخاري: 3787