الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2. باب ما جاء فى فضائل الأنصار ومناقبهم رضى الله عنهم
انصار کے فضائل و مناقب
حدیث نمبر: 11532
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مُتَقَنِّعًا بِثَوْبٍ فَقَالَ ”أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ النَّاسَ لَيَكْثُرُونَ وَإِنَّ الْأَنْصَارَ يَقِلُّونَ فَمَنْ وَلِيَ مِنْكُمْ أَمْرًا يَنْفَعُ فِيهِ أَحَدًا فَلْيَقْبَلْ مِنْ مُحْسِنِهِمْ وَيَتَجَاوَزْ عَنْ مُسِيئِهِمْ“
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (مرض الموت کے دنوں میں) سر اور منہ پر کپڑا لپیٹے باہر تشریف لائے اور فرمایا: لوگو! عام لوگ تعداد میں بڑھتے جا رہے ہیں اور انصار کی تعداد کم ہوتی جا رہی ہے، پس تم میں سے جو آدمی امور خلافت پر متمکن ہو اور کسی کو فائدہ پہنچا سکتا ہو تو اسے چاہیے کہ وہ انصار کے نیکوکاروں کی بات کو قبول کر لے اور ان میں سے کسی سے کوئی کوتاہی ہو تو اس سے در گزر کرے۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل والمناقب/حدیث: 11532]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 927، 3628، 3800، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2629 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2629»
وضاحت: فوائد: … انصاریوں کی کوتاہی کو محسوس کرنا یا اس وجہ سے ان کی مذمت کرنا یا ان سے دور ہونا، ان سب امور کا دروازہ ہی بند کر دیا گیا۔
الحكم على الحديث: أخرجه البخاري: 927
Al-Fath al-Rabbani Hadith 11532 in Urdu