علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
66. الفصل الثاني وفيه أحاديث متفرقة فى مناقبه رضى الله عنه
فصل دوم: سید نا علی رضی اللہ عنہ کے مناقب کے بارے میں متفرق احادیث
حدیث نمبر: 12302
عَنْ أَبِي حَسَّانَ أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ كَانَ يَأْمُرُ بِالْأَمْرِ فَيُؤْتَى فَيُقَالُ قَدْ فَعَلْنَا كَذَا وَكَذَا فَيَقُولُ صَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ قَالَ فَقَالَ لَهُ الْأَشْتَرُ إِنَّ هَذَا الَّذِي تَقُولُ قَدْ تَفَشَّى فِي النَّاسِ أَفَشَيْءٌ عَهِدَهُ إِلَيْكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مَا عَهِدَ إِلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا خَاصَّةً دُونَ النَّاسِ إِلَّا شَيْءٌ سَمِعْتُهُ مِنْهُ فَهُوَ فِي صَحِيفَةٍ فِي قِرَابِ سَيْفِي قَالَ فَلَمْ يَزَالُوا بِهِ حَتَّى أَخْرَجَ الصَّحِيفَةَ قَالَ فَإِذَا فِيهَا ”مَنْ أَحْدَثَ حَدَثًا أَوْ آوَى مُحْدِثًا فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ لَا يُقْبَلُ مِنْهُ صَرْفٌ وَلَا عَدْلٌ قَالَ وَإِذَا فِيهَا إِنَّ إِبْرَاهِيمَ حَرَّمَ مَكَّةَ وَإِنِّي أُحَرِّمُ الْمَدِينَةَ حَرَامٌ مَا بَيْنَ حَرَّتَيْهَا وَحِمَاهَا كُلُّهُ لَا يُخْتَلَى خَلَاهَا وَلَا يُنَفَّرُ صَيْدُهَا وَلَا تُلْتَقَطُ لُقَطَتُهَا إِلَّا لِمَنْ أَشَارَ بِهَا وَلَا تُقْطَعُ مِنْهَا شَجَرَةٌ إِلَّا أَنْ يَعْلِفَ رَجُلٌ بَعِيرَهُ وَبُجْمَلُ فِيهَا السِّلَاحُ لِقِتَالٍ وَقَالَ وَإِذَا فِيهَا الْمُؤْمِنُونَ تَتَكَافَأُ دِمَاؤُهُمْ وَيَسْعَى بِذِمَّتِهِمْ أَدْنَاهُمْ وَهُمْ يَدٌ عَلَى مَنْ سِوَاهُمْ أَلَا لَا يُقْتَلُ مُؤْمِنٌ بِكَافِرٍ وَلَا ذُو عَهْدٍ فِي عَهْدِهِ“
ابو حسان سے روایت ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کسی کا م کا حکم دیتے تو لوگ وہ کام کر لینے کے بعد آ کر کہتے کہ ہم نے وہ کام کر لیا، یہ سن کر وہ کہتے: اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سچ فرمایا ہے، اشتر نے ان سے کہا: آپ کی یہ بات اب لوگوں میں عام ہوچکی ہے، اگر اللہ کے رسول نے آپ سے کچھ فرمایا ہوتو اسے بیان کردیا کریں، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عام لوگوں سے ہٹ کر مجھے خاص کر کے کچھ نہیں فرمایا، البتہ صرف ایک بات ہے جو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنی ہے اور وہ میری تلوار کے نیام میں لکھی ہوئی موجود ہے، لوگ اس کا اصرار کرتے رہے، یہاں تک کہ انہوں نے وہ تحریر نکال دی، اس میں لکھا تھا کہ جو شخص بدعت جاری کر ے یا بدعتی کو پناہ دے تو اس پر اللہ کی، فرشتوں کی اور تمام لوگوں کی لعنت ہے، اس کی فرضی اور نفلی عبادت قبول نہیں ہوگی۔ اور اس میں یہ بات بھی لکھی ہوئی تھی کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے مکہ کو حرمت والا قرار دیا تھا اور میں مدینہ منورہ کوحرم قرار دیتا ہوں اس کے دو میدانوں کے درمیان والا سارا علاقہ حرام ہے۔ اس کی چراگاہ کی گھاس نہ کاٹی جائے اس کے شکار کو بھگایا نہ جائے۔ اس کی گری ہوئی چیز کوئی نہ اٹھائے مگر اس کا اعلان کرنے والا۔ (وہ اٹھا سکتا ہے اس کا کوئی درخت نہ کاٹا جائے۔ ہاں آدمی اپنے اونٹ کو پتے ڈال سکتا ہے۔ لڑائی کے لیے اس میں ہتھیار نہ اٹھایا جائے۔ اس صحیفہ میں یہ بھی تھا کہ مسلمانوں کے خون برابر ہیں۔ ان میں ادنیٰ آدمی کسی کو پناہ دے سکتا۔ وہ کافروں کے خلاف ایک ہاتھ کی طرح اکٹھے اور جماعت ہیں۔ مومن کو کافر کے بدلے میں اور ذمی کو اس کے عہد و پیمان کے دوران قتل نہیں کیا جائے گا۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12302]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، اخرجه مختصرا ابوداود: 2035، والنسائي: 8/ 24، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 959 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 959»
الحكم على الحديث: صحیح
Al-Fath al-Rabbani Hadith 12302 in Urdu