الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
83. البابُ السَّابِعُ فِي قَتْلِ الْإِمَامِ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَمَكَان الأَصَابَةِ مِنْهُ وَقَدْ أَخْبَرَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِذلِكَ قَبْلَ حُصُولِهِ وَمَا فُعِلَ بِقَاتِلِهِ
باب ہفتم: سیدنا امام علی رضی اللہ عنہ کی شہادت اور اس امر کا بیان کہ ان کے جسم کا کون سا حصہ زخمی ہوگا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی یہ بات اس واقعہ کے وقوع پذیر ہو نے سے پہلے بتلا دی تھی اور اس امرکا بیان کہ اس کے قاتل کے ساتھ کیا سلوک کیا گیا؟
حدیث نمبر: 12387
وَعَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ قَالَ قَدِمَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَلَى قَوْمٍ مِنْ أَهْلِ الْبَصْرَةِ مِنَ الْخَوَارِجِ فِيهِمْ رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ الْجَعْدُ بْنُ بَعْجَةَ فَقَالَ لَهُ اتَّقِ اللَّهَ يَا عَلِيُّ فَإِنَّكَ مَيِّتٌ فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بَلْ مَقْتُولٌ ضَرْبَةٌ عَلَى هَذَا تَخْضِبُ هَذِهِ يَعْنِي لِحْيَتَهُ مِنْ رَأْسِهِ عَهْدٌ مَعْهُودٌ وَقَضَاءٌ مَقْضِيٌّ وَقَدْ خَابَ مَنِ افْتَرَى وَعَاتَبَهُ فِي لِبَاسِهِ فَقَالَ مَا لَكُمْ وَلِلِبَاسِي هُوَ أَبْعَدُ مِنَ الْكِبْرِ وَأَجْدَرُ أَنْ يَقْتَدِيَ بِيَ الْمُسْلِمُ
زید بن وہب سے روایت ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ اہل بصرہ کے خوارج میں سے ایک قو م کے پاس تشریف لے گئے، ان میں سے ایک آدمی کا نام جعد بن بعجہ تھا، اس نے کہا: علی! اللہ سے ڈرو، تم نے بالآخر مرنا ہی ہے، سیدنا علی رضی اللہ عنہ کہا: میں نے مرنا نہیں، بلکہ قتل ہونا ہے، میرے سر پر وار لگے گا، جس سے یہ میری داڑھی رنگین ہوجائے گی، یہ پختہ خبر ہے اور اللہ کی طرف سے فیصلہ ہوچکا ہے اور جس نے جھوٹ باندھا اس نے نقصان اٹھایا، پھر جب اس آدمی نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے لباس پر اعتراض کیا تو انھوں نے کہا: تمہیں میرے اس لباس سے کیا؟ یہ تکبر سے بالکل بر ی ہے اور اس لائق ہے کہ اہل اسلام اس سلسلہ میں میری اقتداء کریں گے۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12387]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، شريك بن عبد الله النخعي سييء الحفظ، اخرجه الطيالسي: 157، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 703 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 703»
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
Al-Fath al-Rabbani Hadith 12387 in Urdu