الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
83. البابُ السَّابِعُ فِي قَتْلِ الْإِمَامِ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَمَكَان الأَصَابَةِ مِنْهُ وَقَدْ أَخْبَرَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِذلِكَ قَبْلَ حُصُولِهِ وَمَا فُعِلَ بِقَاتِلِهِ
باب ہفتم: سیدنا امام علی رضی اللہ عنہ کی شہادت اور اس امر کا بیان کہ ان کے جسم کا کون سا حصہ زخمی ہوگا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی یہ بات اس واقعہ کے وقوع پذیر ہو نے سے پہلے بتلا دی تھی اور اس امرکا بیان کہ اس کے قاتل کے ساتھ کیا سلوک کیا گیا؟
حدیث نمبر: 12385
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ رَاشِدٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ عَنْ فَضَالَةِ بْنِ أَبِي فَضَالَةَ الْأَنْصَارِيِّ وَكَانَ أَبُو فَضَالَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ أَهْلِ بَدْرٍ قَالَ خَرَجْتُ مَعَ أَبِي عَائِدًا إِلَى عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ مَرَضٍ أَصَابَهُ ثَقُلَ مِنْهُ قَالَ فَقَالَ لَهُ أَبِي مَا يُقِيمُكَ فِي مَنْزِلِكَ هَذَا لَوْ أَصَابَكَ أَجَلُكَ لَمْ يَلِكَ عِنْدَكَ إِلَّا أَعْرَابُ جُهَيْنَةَ تُحْمَلُ إِلَى الْمَدِينَةِ فَإِنْ أَصَابَكَ أَجَلُكَ وَلِيَكَ أَصْحَابُكَ وَصَلَّوْا عَلَيْكَ فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَهِدَ إِلَيَّ أَنْ لَا أَمُوتَ حَتَّى أُؤَمَّرَ ثُمَّ تُخْضَبَ هَذِهِ يَعْنِي لِحْيَتَهُ مِنْ دَمٍ هَذَا يَعْنِي هَامَّتَهُ فَقِّلَ وَقُتِلَ أَبُو فَضَالَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مَعَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَوْمَ صِفِّينَ
فضالہ بن ابی فضالہ انصاری سے روایت ہے، ان کے والد سیدنا ابو فضالہ رضی اللہ عنہ بدری صحابی تھے، فضالہ کہتے ہیں: میں اپنے باپ کی معیت میں سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی عیادت کے لیے گیا، وہ کافی بیمار تھے، میرے والد نے ان سے کہا: آپ اپنی جگہ پر کس لیے ٹھہرے ہوئے ہیں؟ اگر آپ کا آخری وقت آگیا تو بنو جہینہ کے چند بدو آپ کے پاس ہوں گے،آپ کو مدینہ منورہ لے چلیں، وہاں اگر آپ کو موت آئی تو آپ کے دوست احباب پاس ہوں گے اور آپ کی نماز جنازہ ادا کریں گے، یہ سن کر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھے فرما چکے ہیں کہ مجھے اس وقت تک موت نہ آئے گی، جب تک کہ مجھے امارت نہ ملے، پھر میرے سر کے خون سے میری داڑھی رنگین نہ ہوجائے، چنانچہ ایسے ہی ہوا اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ قتل ہو گئے۔ سیدنا ابو فضالہ رضی اللہ عنہ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ہمراہ صفین کی جنگ میں قتل ہو گئے تھے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْخُلَافَةِ وَالْإِمَارَةِ/حدیث: 12385]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، فضالة بن ابي فضالة، قال الذھبي: لا يُدري من ذا، اخرجه البزار: 927، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 802 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 802»
الحكم على الحديث: ضعیف
حدیث نمبر: 12386
وَعَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ قَالَ كُنْتُ أَنَا وَعَلِيٌّ رَفِيقَيْنِ فِي غَزْوَةِ ذَاتِ الْعُشَيْرَةِ فَلَمَّا نَزَلَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَقَامَ بِهَا رَأَيْنَا أُنَاسًا مِنْ بَنِي مُدْلِجٍ يَعْمَلُونَ فِي عَيْنٍ لَهُمْ فِي نَخْلٍ فَقَالَ لِي عَلِيٌّ يَا أَبَا الْيَقْظَانِ هَلْ لَكَ أَنْ تَأْتِيَ هَؤُلَاءِ فَنَنْظُرَ كَيْفَ يَعْمَلُونَ فَجِئْنَاهُمْ فَنَظَرْنَا إِلَى عَمَلِهِمْ سَاعَةً ثُمَّ غَشِيَنَا النَّوْمُ فَانْطَلَقْتُ أَنَا وَعَلِيٌّ فَاضْطَجَعْنَا فِي صَوْرٍ مِنَ النَّخْلِ فِي دَقْعَاءَ مِنَ التُّرَابِ فَنِمْنَا فَوَاللَّهِ مَا أَهَبَّنَا إِلَّا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُحَرِّكُنَا بِرِجْلِهِ وَقَدْ تَتَرَّبْنَا مِنْ تِلْكَ الدَّقْعَاءِ فَيَوْمَئِذٍ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِعَلِيٍّ ”يَا أَبَا تُرَابٍ“ لِمَا يَرَى عَلَيْهِ مِنَ التُّرَابِ قَالَ ”أَلَا أُحَدِّثُكُمَا بِأَشْقَى النَّاسِ رَجُلَيْنِ“ قُلْنَا بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ”أُحَيْمِرُ ثَمُودَ الَّذِي عَقَرَ النَّاقَةَ وَالَّذِي يَضْرِبُكَ يَا عَلِيُّ عَلَى هَذِهِ يَعْنِي قَرْنَهُ حَتَّى تُبَلَّ مِنْهُ هَذِهِ يَعْنِي لِحْيَتَهُ“
سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:میں اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ غزوۂ ذی العشیرہ میں رفیق تھے، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وہاں اترے اور قیام کیا تو ہم نے بنو مدلج قبیلے کے کچھ لوگوں کو دیکھا کہ وہ کھجوروں میں اپنے ایک چشمے میں کام کر رہے تھے۔ سیدنا علی نے مجھے کہا: ابو الیقظان! کیا خیال ہے کہ اگر ہم ان کے پاس چلے جائیں اور دیکھیں کہ یہ کیسے کام کرتے ہیں؟ سو ہم ان کے پاس چلے گئے اور کچھ دیر تک ان کا کام دیکھتے رہے، پھر ہم پر نیند غالب آ گئی۔ میں اور سیدنا علی کھجوروں کے ایک جھنڈ میں چلے گئے اور مٹی میں لیٹ کر سو گئے۔ اللہ کی قسم! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہی ہمیں اپنے پاؤں کے ساتھ حرکت دے کر جگایا اور ہم مٹی آلود ہو چکے تھے۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا علی پر مٹی دیکھی تو فرمایا: اے ابو تراب! (یعنی مٹی والے) پھر آپ نے فرمایا: کیا میں تمھارے لیے دو بدبخت ترین مردوں کی نشاندہی نہ کروں؟ ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیوں نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: احیمر ثمودی، جس نے اونٹنی کی کونچیں کاٹ دی تھیں اور وہ آدمی جو (اے علی!) تیرے سر پر مارے گا، حتی کہ تیری (داڑھی) خون سے بھیگ جائے گی۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْخُلَافَةِ وَالْإِمَارَةِ/حدیث: 12386]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، اخرجه الحاكم: 3/ 140، والبزار: 1417، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18321 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18511»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 12387
وَعَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ قَالَ قَدِمَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَلَى قَوْمٍ مِنْ أَهْلِ الْبَصْرَةِ مِنَ الْخَوَارِجِ فِيهِمْ رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ الْجَعْدُ بْنُ بَعْجَةَ فَقَالَ لَهُ اتَّقِ اللَّهَ يَا عَلِيُّ فَإِنَّكَ مَيِّتٌ فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بَلْ مَقْتُولٌ ضَرْبَةٌ عَلَى هَذَا تَخْضِبُ هَذِهِ يَعْنِي لِحْيَتَهُ مِنْ رَأْسِهِ عَهْدٌ مَعْهُودٌ وَقَضَاءٌ مَقْضِيٌّ وَقَدْ خَابَ مَنِ افْتَرَى وَعَاتَبَهُ فِي لِبَاسِهِ فَقَالَ مَا لَكُمْ وَلِلِبَاسِي هُوَ أَبْعَدُ مِنَ الْكِبْرِ وَأَجْدَرُ أَنْ يَقْتَدِيَ بِيَ الْمُسْلِمُ
زید بن وہب سے روایت ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ اہل بصرہ کے خوارج میں سے ایک قو م کے پاس تشریف لے گئے، ان میں سے ایک آدمی کا نام جعد بن بعجہ تھا، اس نے کہا: علی! اللہ سے ڈرو، تم نے بالآخر مرنا ہی ہے، سیدنا علی رضی اللہ عنہ کہا: میں نے مرنا نہیں، بلکہ قتل ہونا ہے، میرے سر پر وار لگے گا، جس سے یہ میری داڑھی رنگین ہوجائے گی، یہ پختہ خبر ہے اور اللہ کی طرف سے فیصلہ ہوچکا ہے اور جس نے جھوٹ باندھا اس نے نقصان اٹھایا، پھر جب اس آدمی نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے لباس پر اعتراض کیا تو انھوں نے کہا: تمہیں میرے اس لباس سے کیا؟ یہ تکبر سے بالکل بر ی ہے اور اس لائق ہے کہ اہل اسلام اس سلسلہ میں میری اقتداء کریں گے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْخُلَافَةِ وَالْإِمَارَةِ/حدیث: 12387]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، شريك بن عبد الله النخعي سييء الحفظ، اخرجه الطيالسي: 157، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 703 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 703»
الحكم على الحديث: ضعیف
حدیث نمبر: 12388
عَنْ أَبِي تِحْيَى قَالَ لَمَّا ضَرَبَ ابْنُ مُلْجِمٍ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ الضَّرْبَةَ قَالَ عَلِيٌّ افْعَلُوا بِهِ كَمَا أَرَادَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَفْعَلَ بِرَجُلٍ أَرَادَ قَتْلَهُ فَقَالَ اقْتُلُوهُ ثُمَّ حَرِّقُوهُ
ابو تحیی سے مروی ہے کہ جب ابن ملجم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ پروار کیا تو انہوں نے کہا: تم اس کے ساتھ وہی سلوک کرنا، جو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس آدمی کے ساتھ کیا تھا،جس نے آپ کوقتل کرنے کا ارادہ کیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا کہ اسے قتل کر د و اور پھر اسے جلا ڈالو۔ 1 [الفتح الربانی/كِتَابُ الْخُلَافَةِ وَالْإِمَارَةِ/حدیث: 12388]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف شريك بن عبد الله النخعي وعمران بن ظبيان، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 713 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 713»
الحكم على الحديث: ضعیف