یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
21. باب فى فضل المؤمن وصفته ومثله
مومن کی فضیلت، صفات اور اس کی مثالوں کا بیان
حدیث نمبر: 156
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنِّي أَقْرَأُ الْقُرْآنَ فَلَا أَجِدُ قَلْبِي يَعْقِلُ عَلَيْهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (إِنَّ قَلْبَكَ حُشِيَ الْإِيمَانَ وَإِنَّ الْإِيمَانَ يُعْطَى الْعَبْدَ قَبْلَ الْقُرْآنِ) )
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک آدمی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: ”اے اللہ کے رسول! میں قرآن کی تلاوت تو کرتا ہوں، لیکن میں دیکھتا ہوں کہ میرا دل اس کو سمجھ نہیں پا رہا؟“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیشک تیرا دل ایمان سے بھرا ہوا ہے اور بندہ قرآن سے پہلے ایمان دیا جاتا ہے۔“ [الفتح الربانی/كتاب الإيمان و الإسلام/حدیث: 156]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف ابن لھيعة وحيي بن عبد الله المعافري، وقد تفرد به، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6604 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6604»
وضاحت: فوائد: … مفہوم یہ ہے کہ سیدنا عبد اللہ بن عمرو ؓکے دل میں جتنی گنجائش تھی، وہ ایمان کی وجہ سے پُر ہو گئی ہے، جس کی وجہ سے دوسری چیزیں بھولنا شروع ہو گئی ہیں، ہاں یہ علیحدہ بات ہے کہ اللہ تعالیٰ کمالِ ایمان کے باوجود قرآن مجید اور علم کو محفوظ کرنے کی قوت عطا کر دے۔
الحكم على الحديث: ضعیف
Al-Fath al-Rabbani Hadith 156 in Urdu