یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
21. باب فى فضل المؤمن وصفته ومثله
مومن کی فضیلت، صفات اور اس کی مثالوں کا بیان
حدیث نمبر: 157
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنِّي أُحَدِّثُ نَفْسِي بِالْحَدِيثِ، لَأَنْ أَخِرَّ مِنَ السَّمَاءِ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَتَكَلَّمَ بِهِ، قَالَ: ( (ذَلِكَ صَرِيحُ الْإِيمَانِ) )
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: ”اے اللہ کے رسول! میرے نفس میں بعض باتیں تو ایسی آ جاتی ہیں کہ مجھے آسمان سے گرنا اس سے زیادہ پسند لگتا ہے کہ میں ان کے ساتھ کلام کروں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ تو صریح ایمان کی علامت ہے۔“ [الفتح الربانی/كتاب الإيمان و الإسلام/حدیث: 157]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 132، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9156 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9145»
الحكم على الحديث: صحیح
Al-Fath al-Rabbani Hadith 157 in Urdu