یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
21. باب فى فضل المؤمن وصفته ومثله
مومن کی فضیلت، صفات اور اس کی مثالوں کا بیان
حدیث نمبر: 158
(وَعَنْهُ بِلَفْظٍ آخَرَ) قَالَ: قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنَّا نَجِدُ فِي أَنْفُسِنَا مَا يَسُرُّنَا نَتَكَلَّمُ بِهِ وَإِنَّ لَنَا مَا طَلَعَتْ عَلَيْهِ الشَّمْسُ، قَالَ: ( (أَوَجَدْتُّمْ ذَلِكَ؟) ) قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ: ( (ذَكَ صَرِيحُ الْإِيمَانِ) )
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے ان الفاظ کے ساتھ بھی روایت مروی ہے کہ لوگوں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! ہم اپنے نفسوں میں ایسے خیالات محسوس کرتے ہیں کہ اگر ہمیں دنیا کی وہ تمام چیزیں دے دی جائیں، جن پر سورج طلوع ہوتا ہے تو پھر بھی ہمیں یہ بات خوش نہیں کرے گی کہ ہم ان کے ساتھ گفتگو کریں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا تم نے اس چیز کو محسوس کر لیا ہے؟“ انہوں نے کہا: ”جی ہاں،“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ صریح ایمان کی علامت ہے۔“ [الفتح الربانی/كتاب الإيمان و الإسلام/حدیث: 158]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9692»
وضاحت: فوائد: … حدیث نمبر (۲۳)کے فوائد میں ان احادیث کی وضاحت ہو چکی ہے۔
الحكم على الحديث: صحیح
Al-Fath al-Rabbani Hadith 158 in Urdu