الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
47. 2 - باب هيئة الجلوس للتشهد والإشارة بالسبابة وغير ذلك
تشہد میں بیٹھنے کی کیفیت،انگشت ِ شہادت سے اشارہ کرنے کا اور دوسرے امور کا بیان
حدیث نمبر: 1800
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ: قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! كَيْفَ نُصَلِّي عَلَيْكَ؟ فَقَالَ: ( (قُولُوا: اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ وَبَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ فِي الْعَالَمِينَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ) )
۔ (دوسری سند)انھوں نے کہا: آپ سے پوچھا گیا کہ ا ے اللہ کے رسول! ہم آپ پر درود کیسے بھیجیں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس طرح کہو: اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَعَلٰی آلِ مُحَمَّدٍ وَبَارِکْ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَعَلٰی آلِ مُحَمَّدٍ کَمَا باَرَکْتَ عَلٰی إِبْرَاہِیْمَ فِی الْعَالَمِیْنَ إِنَّکَ حَمِیْدٌ مَجِیْدٌ۔ [الفتح الربانی/أبواب صفة الصلاة/حدیث: 1800]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم، وانظر الحديث بالطريق الاول، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17067 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17194»
وضاحت: فوائد: … اُمِّی سے مراد وہ شخص ہے جس نے کسی انسان سے پڑھنا لکھنا نہیں سیکھا،یہ علیحدہ بات ہے کہ وہ اعلی درجے کا دانا، حکیم، فیصل، فصیح، بلیغ بلکہ رسول ہو، جیسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یا دین و دنیا کے بارے میں کچھ نہ جانتا ہو۔
الحكم على الحديث: صحیح
Al-Fath al-Rabbani Hadith 1800 in Urdu