الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
46. بَابُ مَا جَاءَ فِي رَاتِبَةِ الْعِشَاءِ
عشا کی سننِ رواتب کا بیان
حدیث نمبر: 2089
عَنْ شُرَيْحِ بْنِ هَانِئٍ قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ: لَمْ تَكُنْ صَلَاةٌ أَحْرَى أَنْ يُؤَخَّرَهَا إِذَا كَانَ عَلَى حَدِيثٍ مِنْ صَلَاةِ الْعِشَاءِ الْآخِرَةِ وَمَا صَلَّاهَا قَطُّ فَدَخَلَ عَلَيَّ إِلَّا صَلَّى بَعْدَهَا أَرْبَعًا أَوْ سِتًّا وَمَا رَأَيْتُهُ يَتَقِي عَلَى الْأَرْضِ بِشَيْءٍ قَطُّ إِلَّا أَنِّي أَذْكُرُ أَنَّ يَوْمَ مَطَرٍ أَلْقَيْنَا تَحْتَهُ بَتًّا فَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى خَرْقٍ فِيهِ يَنْبُعُ مِنْهُ الْمَاءُ
شریح بن ہانی کہتے ہیں: میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز کے بارے میں سوال کیا، انہوں نے کہا: جب آپ گفتگو میں مصروف ہوتے تو عشاء کی نماز سے زیادہ مناسب کوئی ایسی نماز نہ ہوتی کہ جسے آپ مؤخر کریں، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ نماز پڑھ کر میرے پاس آتے تو اس کے بعد چار یا چھ رکعتیں ادا کرتے اور میں نے آپ کو نہیں دیکھا کہ آپ کوئی چیز بچھا کر زمین سے بچتے ہوں، ہاں یہ مجھے یاد آ رہا ہے کہ ایک بارش والے دن ہم نے آپ کے نیچے ایک چٹائی ڈالی تھی،لیکن گویا کہ میں اب بھی دیکھ رہی ہوں کہ اس کی پھٹی ہوئی جگہ سے پانی پھوٹ رہا تھا۔ [الفتح الربانی/أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة/حدیث: 2089]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لجھالة مقاتل بن بشير العجلي۔ أخرجه ابوداود: 1303، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24305 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24809»
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لجھالة مقاتل بن بشير العجلي۔ أخرجه ابوداود: 1303
Al-Fath al-Rabbani Hadith 2089 in Urdu