🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

46. بَابُ مَا جَاءَ فِي رَاتِبَةِ الْعِشَاءِ
عشا کی سننِ رواتب کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2086
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَلَّى الْعِشَاءَ رَكَعَ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ وَأَوْتَرَ بِسَجْدَةٍ ثُمَّ نَامَ حَتَّى يُصَلِّيَ بَعْدُ صَلَاتَهُ بِاللَّيْلِ
سیدناعبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب عشاء کی نماز پڑھ لیتے تو چار رکعتیں ادا کرتے اور ایک رکعت وتر بھی پڑھ لیتے اور پھر سوجاتے، بعد میں رات کو اپنی نماز ادا کرتے۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ الْأَذْ كَارِ الْوَارِدَةِ عَقْبَ الصَّلَاةِ/حدیث: 2086]
تخریج الحدیث: «ضعيف منقطع، نافع بن ثابت من رجال ((التعجيل)) لم يدرك جده عبد الله۔ أخرجه البزار: 732، والطبراني في الكبير: 250، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16109 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16208»

الحكم على الحديث:
ضعيف منقطع
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2087
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ صَلَّى مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعِشَاءِ فِي بَيْتِهِ
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ عشاء کے بعد آپ کے گھر میں دو رکعتیں پڑھیں۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ الْأَذْ كَارِ الْوَارِدَةِ عَقْبَ الصَّلَاةِ/حدیث: 2087]
تخریج الحدیث: «أخرجه مطولا و مختصرا البخاري: 937، 1165، 1180، ومسلم:882، وابوداود: 1128، والترمذي: 425، 432، والنسائي: 3/ 113، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4506، 5296 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5296»

الحكم على الحديث:
أخرجه مطولا و مختصرا البخاري: 937
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2088
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: وَكَانَ يُصَلِّي بِهِمُ الْعِشَاءَ ثُمَّ يَدْخُلُ بَيْتِي فَيُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ، وَكَانَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ تِسْعَ رَكَعَاتٍ فِيهِنَّ الْوِتْرُ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لوگوں کو عشاء کی نماز پڑھا کر میرے گھر تشریف لاتے اور دو رکعتیں پڑھتے اور رات کو نمازِ وتر سمیت (۹) رکعتیں ادا کرتے تھے۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ الْأَذْ كَارِ الْوَارِدَةِ عَقْبَ الصَّلَاةِ/حدیث: 2088]
تخریج الحدیث: «أخرجه بتمامه ومختصرا مسلم: 730، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24019 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24520»

الحكم على الحديث:
أخرجه بتمامه ومختصرا مسلم: 730
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2089
عَنْ شُرَيْحِ بْنِ هَانِئٍ قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ: لَمْ تَكُنْ صَلَاةٌ أَحْرَى أَنْ يُؤَخَّرَهَا إِذَا كَانَ عَلَى حَدِيثٍ مِنْ صَلَاةِ الْعِشَاءِ الْآخِرَةِ وَمَا صَلَّاهَا قَطُّ فَدَخَلَ عَلَيَّ إِلَّا صَلَّى بَعْدَهَا أَرْبَعًا أَوْ سِتًّا وَمَا رَأَيْتُهُ يَتَقِي عَلَى الْأَرْضِ بِشَيْءٍ قَطُّ إِلَّا أَنِّي أَذْكُرُ أَنَّ يَوْمَ مَطَرٍ أَلْقَيْنَا تَحْتَهُ بَتًّا فَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى خَرْقٍ فِيهِ يَنْبُعُ مِنْهُ الْمَاءُ
شریح بن ہانی کہتے ہیں: میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز کے بارے میں سوال کیا، انہوں نے کہا: جب آپ گفتگو میں مصروف ہوتے تو عشاء کی نماز سے زیادہ مناسب کوئی ایسی نماز نہ ہوتی کہ جسے آپ مؤخر کریں، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ نماز پڑھ کر میرے پاس آتے تو اس کے بعد چار یا چھ رکعتیں ادا کرتے اور میں نے آپ کو نہیں دیکھا کہ آپ کوئی چیز بچھا کر زمین سے بچتے ہوں، ہاں یہ مجھے یاد آ رہا ہے کہ ایک بارش والے دن ہم نے آپ کے نیچے ایک چٹائی ڈالی تھی،لیکن گویا کہ میں اب بھی دیکھ رہی ہوں کہ اس کی پھٹی ہوئی جگہ سے پانی پھوٹ رہا تھا۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ الْأَذْ كَارِ الْوَارِدَةِ عَقْبَ الصَّلَاةِ/حدیث: 2089]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لجھالة مقاتل بن بشير العجلي۔ أخرجه ابوداود: 1303، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24305 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24809»

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لجھالة مقاتل بن بشير العجلي۔ أخرجه ابوداود: 1303
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2090
(وَمِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ قَالَ أَنَا مَالِكٌ فَذَكَرَ مِثْلَهُ، قَالَ بَتًّا يَعْنِي النَّطْعَ فَصَلَّى عَلَيْهِ، فَلَقَدْ رَأَيْتُ فَذَكَرَ مَعْنَاهُ
۔ (دوسری سند)اسی طرح کی حدیث ہے، اس میں زائد چیزیہ ہے کہ بَتًّا کا معنی النَّطْع بیان کیا ہے، اس سے مراد چمڑے کی چٹائی ہے، جو نماز کے لیے اور کھانا کھانے کے لیے بچھائی جاتی تھی۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ الْأَذْ كَارِ الْوَارِدَةِ عَقْبَ الصَّلَاةِ/حدیث: 2090]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف وانظر الحديث بالطريق الاول، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24306 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24810»
وضاحت: فوائد: … بعض لوگوں کا خیال ہے کہ عصر کی طرح عشاء سے پہلے بھی چار رکعت سنتیں غیر مؤکدہ ہیں، لیکن ان کییہ بات بلا دلیل ہے، البتہ عام دلائل سے عشاء سے پہلے دو رکعتیں ثابت ہوتی ہیں، جیسےیہ حدیث ِ مبارکہ ہے: ((مَامِنْ صَلَاۃٍ مَفْرُوْضَۃٍ إِلَّا وَبَیْنَیَدَیْھَا رَکْعَتَانِ۔)) (صحیح ابن حبان: ۶۱۵، صحیحۃ: ۲۳۲) نہیں ہے کوئی فرضی نماز، مگر اس سے پہلے (کم از کم) دو رکعت (نفلی نماز) ہے۔ اس طرح سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ عشاء سے پہلے کم از کم دو رکعتیں ادا کرنی چاہئیں، ہاں اگر وقت ہو تو دوسری عام روایات کی روشنی میں نفلی نماز پڑھی جا سکتی ہے، جس کی کوئی حد معین نہیں ہے۔ رہا مسئلہ عشاء کی نماز کے بعد کی سنتوں کا تو وہ رکعتیں ہی ثابت ہیں۔ ذہن نشین کر لینا چاہیے کہ دوسری نمازوں کی طرح نماز عشاء کی کل چھ رکعتیں ہے، چار فرض اور دو سنتیں، نماز وتر رات کی نماز ہے، یہ عشاء کی نماز کا حصہ نہیں ہے۔
عمومی دلائل سے عشاء اور مغرب پہلے بھی دو رکعت نماز ثابت ہوتی ہے، لیکن ان کو ان نمازوں کی مستقل رکعتوں میں شمار نہیں کیا جا سکتا۔

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف وانظر الحديث بالطريق الاول
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں