الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
46. بَابُ مَا جَاءَ فِي رَاتِبَةِ الْعِشَاءِ
عشا کی سننِ رواتب کا بیان
حدیث نمبر: 2090
(وَمِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ قَالَ أَنَا مَالِكٌ فَذَكَرَ مِثْلَهُ، قَالَ بَتًّا يَعْنِي النَّطْعَ فَصَلَّى عَلَيْهِ، فَلَقَدْ رَأَيْتُ فَذَكَرَ مَعْنَاهُ
۔ (دوسری سند)اسی طرح کی حدیث ہے، اس میں زائد چیزیہ ہے کہ بَتًّا کا معنی النَّطْع بیان کیا ہے، اس سے مراد چمڑے کی چٹائی ہے، جو نماز کے لیے اور کھانا کھانے کے لیے بچھائی جاتی تھی۔ [الفتح الربانی/أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة/حدیث: 2090]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف وانظر الحديث بالطريق الاول، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24306 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24810»
وضاحت: فوائد: … بعض لوگوں کا خیال ہے کہ عصر کی طرح عشاء سے پہلے بھی چار رکعت سنتیں غیر مؤکدہ ہیں، لیکن ان کییہ بات بلا دلیل ہے، البتہ عام دلائل سے عشاء سے پہلے دو رکعتیں ثابت ہوتی ہیں، جیسےیہ حدیث ِ مبارکہ ہے: ((مَامِنْ صَلَاۃٍ مَفْرُوْضَۃٍ إِلَّا وَبَیْنَیَدَیْھَا رَکْعَتَانِ۔)) (صحیح ابن حبان: ۶۱۵، صحیحۃ: ۲۳۲) نہیں ہے کوئی فرضی نماز، مگر اس سے پہلے (کم از کم) دو رکعت (نفلی نماز) ہے۔ اس طرح سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ عشاء سے پہلے کم از کم دو رکعتیں ادا کرنی چاہئیں، ہاں اگر وقت ہو تو دوسری عام روایات کی روشنی میں نفلی نماز پڑھی جا سکتی ہے، جس کی کوئی حد معین نہیں ہے۔ رہا مسئلہ عشاء کی نماز کے بعد کی سنتوں کا تو وہ رکعتیں ہی ثابت ہیں۔ ذہن نشین کر لینا چاہیے کہ دوسری نمازوں کی طرح نماز عشاء کی کل چھ رکعتیں ہے، چار فرض اور دو سنتیں، نماز وتر رات کی نماز ہے، یہ عشاء کی نماز کا حصہ نہیں ہے۔
عمومی دلائل سے عشاء اور مغرب پہلے بھی دو رکعت نماز ثابت ہوتی ہے، لیکن ان کو ان نمازوں کی مستقل رکعتوں میں شمار نہیں کیا جا سکتا۔
عمومی دلائل سے عشاء اور مغرب پہلے بھی دو رکعت نماز ثابت ہوتی ہے، لیکن ان کو ان نمازوں کی مستقل رکعتوں میں شمار نہیں کیا جا سکتا۔
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف وانظر الحديث بالطريق الاول
Al-Fath al-Rabbani Hadith 2090 in Urdu