الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
8. بَابُ مَا جَاءَ فِي وَقْتِهِ
وتر کے وقت کا بیان
حدیث نمبر: 2191
عَنْ أَبِي نَهِيكٍ أَنَّ أَبَا الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ كَانَ يَخْطُبُ النَّاسَ أَنْ لَا وَتْرَ لِمَنْ أَدْرَكَ الصَّبْحَ، فَانْطَلَقَ رِجَالٌ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ إِلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَأَخْبَرُوهَا، فَقَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُصْبِحُ فَيُوْتِرُ
ابو نہیک سے مروی ہے کہ سیدناابو الدردا رضی اللہ عنہ لوگوں کو خطبہ دیا کرتے تھے، ایک دن انھوں نے کہا کہ جو آدمی صبح کو پا لے، اس کے لیے کوئی وتر نہیں ہے، یہ سن کر کچھ لوگ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس چلے گئے اور ان کو یہ بات بتلائی، لیکن انھوں نے آگے سے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تو صبح ہو جانے کے باوجود وتر پڑھ لیتے تھے۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الليل والوتر/حدیث: 2191]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن۔ أخرجه الطبراني في الاوسط، والبيھقي: 2/ 479، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26058 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26586»
وضاحت: فوائد: … رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تو صبح ہو جانے کے باوجود وتر پڑھ لیتے تھے اس کا مفہوم یہ ہے کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کسی عذر کی بنا پر طلوع فجر تک وتر نہ پڑھ سکتے تو بعد میں ادا کر لیا کرتے تھے، امام مالک نے مؤطا: ۱/ ۱۲۶ میں کئی صحابہ سے طلوع فجر کے بعد وتر پڑھنے کے آثار نقل کیے ہیں اور پھر کہا: وہ شخص طلوع فجر کے بعد وتر پڑھے گے جو سو جائے گا، وگرنہ کسی کے لیے جائز نہیں کہ وہ جان بوجھ نماز وتر کی ادائیگی میں تاخیر کرے، یہاں تک کہ فجر طلوع ہو جائے۔
درج حدیث میں اسی مسئلے کی وضاحت کی گئی ہے:
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((مَنْ نَامَ عَنِ الْوِتْرِ أَوْ نَسِیَہٗ، فَلْیُوْتِرْ إِذَا ذَکَرَہٗأَوِاسْتَیْقَظَ۔)) یعنی: جو آدمی سو جانے یا بھول جانے کی وجہ سے وتر وقت پر نہ پڑھ سکے تو وہ اس وقت یہ نماز ادا کرے جب اسے یاد آئے یا جب بیدار ہو۔ (مسند احمد: ۱۱۲۶۴، ابوداود: ۱۴۳۱، ترمذی: ۴۶۵، ابن ماجہ: ۱۱۸۸) معلوم ہوا کہ جو آدمی جان بوجھ طلوعِ فجر سے پہلے وتر ادا نہیں کرے گا، اس کے لیے اس نماز کو پا لینے کی کوئی صورت باقی نہیں رہے گا اور اس طرح وہ اس رات کو نمازِ وتر سے محروم ہو جائے گا۔
درج حدیث میں اسی مسئلے کی وضاحت کی گئی ہے:
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((مَنْ نَامَ عَنِ الْوِتْرِ أَوْ نَسِیَہٗ، فَلْیُوْتِرْ إِذَا ذَکَرَہٗأَوِاسْتَیْقَظَ۔)) یعنی: جو آدمی سو جانے یا بھول جانے کی وجہ سے وتر وقت پر نہ پڑھ سکے تو وہ اس وقت یہ نماز ادا کرے جب اسے یاد آئے یا جب بیدار ہو۔ (مسند احمد: ۱۱۲۶۴، ابوداود: ۱۴۳۱، ترمذی: ۴۶۵، ابن ماجہ: ۱۱۸۸) معلوم ہوا کہ جو آدمی جان بوجھ طلوعِ فجر سے پہلے وتر ادا نہیں کرے گا، اس کے لیے اس نماز کو پا لینے کی کوئی صورت باقی نہیں رہے گا اور اس طرح وہ اس رات کو نمازِ وتر سے محروم ہو جائے گا۔
الحكم على الحديث:
اسناده حسن۔ أخرجه الطبراني في الاوسط
Al-Fath al-Rabbani Hadith 2191 in Urdu