🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

8. بَابُ مَا جَاءَ فِي وَقْتِهِ
وتر کے وقت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2178
عَنْ أَبِي تَمِيمٍ الْجَيْشَانِيِّ أَنَّ عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ خَطَبَ النَّاسَ يَوْمَ جُمُعَةٍ فَقَالَ: إِنَّ أَبَا بَصْرَةَ حَدَّثَنِي أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (إِنَّ اللَّهَ زَادَكُمْ صَلَاةً وَهِيَ الْوِتْرُ، فَصَلُّوهَا فِيمَا بَيْنَ صَلَاةِ الْعِشَاءِ إِلَى صَلَاةِ الْفَجْرِ) ) ، قَالَ أَبُو تَمِيمٍ: فَأَخَذَ بِيَدِي أَبُو ذَرٍّ فَسَارَ فِي الْمَسْجِدِ إِلَى أَبِي بَصْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقَالَ: أَنْتَ سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَا قَالَ عَمْرٌو؟ قَالَ أَبُو بَصْرَةَ: أَنَا سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
ابو تمیم جیشانی سے روایت ہے کہ سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے جمعہ کے دن لوگوں کو خطبہ دیا اور کہا: سیدنا ابو بصرہ رضی اللہ عنہ نے مجھے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یقینا اللہ تعالیٰ نے تمہیں ایک نماز اور دی ہے اور وہ وتر ہے،تم اس کو نمازِ عشاء اور نمازِ فجر کے درمیانےوقت میں ادا کیا کرو۔ ابو تمیم کہتے ہیں: سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ نے میرا ہاتھ پکڑا اور مسجد میں سیدنا ابو بصرۃ رضی اللہ عنہ کی طرف گئے اور ان سے کہا: جو بات سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، کیا آپ نے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنی ہے، انھوں نے کہا: ہاں، میں نے یہ حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنی ہے۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ صَلَاةِ اللَّيْلِ وَالْوِتْرِ/حدیث: 2178]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح۔ أخرجه الطحاوي في شرح مشكل الآثار: 4492، والطبراني: 2168، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23851 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24352»

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح۔ أخرجه الطحاوي في شرح مشكل الآثار : 4492
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2179
(وَمِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) بِنَحْوِهِ وَزَادَ: فَانْطَلَقْنَا إِلَى أَبِي بَصْرَةَ فَوَجَدْنَاهُ عِنْدَ الْبَابِ الَّذِي يَلِي دَارَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، فَقَالَ أَبُو ذَرٍّ: يَا أَبَا بَصْرَةَ! أَنْتَ سَمِعْتَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ( (إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ زَادَكُمْ صَلَاةً، صَلُّوهَا فِيمَا بَيْنَ صَلَاةِ الْعِشَاءِ إِلَى صَلَاةِ الصُّبْحِ، الْوِتْرُ الْوِتْرُ) ) ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: أَنْتَ سَمِعْتَهُ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: أَنْتَ سَمِعْتَهُ؟ قَالَ: نَعَمْ
۔ (دوسری سند)اسی طرح ہی ہے، البتہ کچھ تفصیل اس طرح ہے: تو ہم سیدنا ابو بصرہ رضی اللہ عنہ کی طرف گئے اور ان کو اس دروازے کے پاس پایا جو سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کے گھر کے قریب تھا، سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ نے کہا: اے ابو بصرہ! کیا آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: یقینا اللہ تعالیٰ نے تمہیں ایک اور نماز دی ہے، تم اس کو نماز عشاء اور نمازِ فجر کے درمیانی وقت میں ادا کیا کرو، وہ وتر ہے، وہ وتر ہے۔؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، اِنہوں نے پھر کہا: کیا آپ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا تھا؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، اِنہوں نے پھر کہا: کیا آپ نے واقعی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا تھا؟ انہوں نے کہا: جی ہاں۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ صَلَاةِ اللَّيْلِ وَالْوِتْرِ/حدیث: 2179]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ أخرجه الحاريث في مسنده: 227، وانظر الحديث بالطريق الاول، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27229 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27771»

الحكم على الحديث:
حديث صحيح۔ أخرجه الحاريث في مسنده : 227
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2180
عَنِ الْأَشْعَثِ بْنِ قَيْسٍ قَالَ ضِفْتُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَتَنَاوَلَ امْرَأَتَهُ فَضَرَبَهَا وَقَالَ: يَا أَشْعَثُ! اِحْفَظْ عَنِّي ثَلَاثًا، حَفِظْتُهُنَّ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: لَا تَسْأَلِ الرَّجُلَ فِيمَا ضَرَبَ امْرَأَتَهُ وَلَا تَنَمْ إِلَّا عَلَى وَتْرٍ وَنَسِيتُ الثَّالِثَةَ
اشعث بن قیس کہتے ہیں: میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا مہمان بنا، پہلے تو انہوں نے اپنی بیوی کو پکڑ کر مارا اور پھر کہا: اے اشعث! تین چیزیں مجھ سے یاد کرلو، میں نے یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یاد کی تھیں، آدمی سے یہ سوال مت کرو کہ اس نے اپنی بیوی کو کیوں مارا ہے، وتر ادا کیے بغیر نہ سوؤ اور تیسری بات میں بھول گیا ہوں۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ صَلَاةِ اللَّيْلِ وَالْوِتْرِ/حدیث: 2180]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لجھالة عبد الرحمن المسلمي۔ أخرجه ابوداود: 2147، وابن ماجه: 1986، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 122 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 122»
وضاحت: فوائد: … یہ روایت تو ضعیف ہے، بہرحال جس آدمی کو نہ جاگنے کا خطرہ ہو اس کے لیےیہی بہتر ہے کہ وہ سونے سے پہلے نمازِ وتر ادا کر لیا کرے، لیکن اس نماز کو رات کے آخری ایک تہائی میں ادا کرنا افضل ہے۔

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لجھالة عبد الرحمن المسلمي۔ أخرجه ابوداود: 2147
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2181
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُوْتِرُ فِي أَوَّلِ اللَّيْلِ وَفِي وَسَطِهِ وَفِي آخِرِهِ، ثُمَّ ثَبَتَ لَهُ الْوِتْرُ فِي آخِرِهِ
سیدنا علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کبھی تو رات کے ابتدائی حصے، کبھی درمیانی حصے میں اور بسا اوقات آخری حصے میں وتر ادا کرتے تھے، پھر بعد میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا وتر رات کے آخری حصہ میں ہی ہوتا تھا۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ صَلَاةِ اللَّيْلِ وَالْوِتْرِ/حدیث: 2181]
تخریج الحدیث: «اسناده قوي۔ أخرجه ابن ماجه: 1186، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 653 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1218»
وضاحت: فوائد: … یہ حدیث مسند احمد میں دوسرے مقامات میں بھی موجود ہے، ان میں آخری جملہ ان الفاظ کے ساتھ ہے: فانتھی وترہ الی السحر) یا وانتھی وترہ الی آخر اللیل کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نمازِ وتر پڑھنے کا وقت سحری تک یا رات کے آخری حصہ تک پہنچ جاتا تھا۔۔

الحكم على الحديث:
اسناده قوي۔ أخرجه ابن ماجه: 1186
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2182
وَعَنْهُ أَيْضًا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي زَوَائِدِ عَبْدِ اللَّهِ عَلَى مُسْنَدِ أَبِيهِ مِثْلُهُ
سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اسی طرح کی ایک اور حدیث بیان کی، ہے جو مسند احمد کی حدیث جیسی اور زوائد عبداللّٰہ میں ہے۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ صَلَاةِ اللَّيْلِ وَالْوِتْرِ/حدیث: 2182]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2183
وَعَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: كَانَ يُوْتِرُ عِنْدَ الْأَذَانِ وَيُصَلِّي الرَّكْعَتَيْنِ (وَفِي رِوَايَةٍ: وَيُصَلِّي رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ) عِنْدَ الْإِقَامَةِ
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اذان کے وقت وتر پڑھتے اور اقامت کے وقت فجر کی دو سنیں ادا کرتے تھے۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ صَلَاةِ اللَّيْلِ وَالْوِتْرِ/حدیث: 2183]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، الحارث بن عبد الله الاعور ضعيف، وشريك بن عبد الله القاضي توبع في ھذا الحديث۔ أخرجه ابن ماجه: 1147، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 659 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 659»
وضاحت: فوائد: … اگر اذان اور اقامت کے وقت سے مراد یہ ہو کہ اذان سے پہلے پہلے وتر پڑھ لیتے اور اقامت سے پہلے پہلے فجر کی سنتیں پڑھ لیتے، تو اس روایت کا مفہوم درست ہو گا۔

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2184
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (الْوِتْرُ بِلَيْلٍ) )
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وتر رات کی نماز ہے۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ صَلَاةِ اللَّيْلِ وَالْوِتْرِ/حدیث: 2184]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم۔ أخرجه مسلم بلفظ ((أوتروا قبل أن تصبحوا۔)): 754، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11001، 11097 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11014»

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط مسلم۔ أخرجه مسلم بلفظ ((أوتروا قبل أن تصبحوا۔)): 754
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2185
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِأَبِي بَكْرٍ: ( (مَتَى تُوْتِرُ؟) ) قَالَ: أَوَّلَ اللَّيْلِ بَعْدَ الْعَتَمَةِ، قَالَ: ( (فَأَنْتَ يَا عُمَرُ؟) ) قَالَ: آخِرَ اللَّيْلِ، قَالَ: ( (أَمَّا أَنْتَ يَا أَبَا بَكْرٍ! فَأَخَذْتَ بِالثِّقَةِ وَأَمَّا أَنْتَ يَا عُمَرُ! فَأَخَذْتَ بِالْقُوَّةِ) )
سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ سے فرمایا: تم کب وتر پڑھتے ہو؟ انہوں نے کہا: رات کے شروع میں ہی عشاء کی نماز کے بعد، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے عمر! تم کب پڑھتے ہو؟ انہوں نے کہا: رات کے آخر میں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے ابوبکر! تم نے احتیاط کو اور اے عمر! تم نے قوت کواختیار کیاہے۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ صَلَاةِ اللَّيْلِ وَالْوِتْرِ/حدیث: 2185]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن۔ أخرجه ابن ماجه: 1202، الطيالسي: 1671، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14323 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14374»

الحكم على الحديث:
اسناده حسن۔ أخرجه ابن ماجه: 1202
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2186
عَنْ نَافِعٍ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ كَانَ يَقُولُ: مَنْ صَلَّى بِاللَّيْلِ فَلْيَجْعَلْ آخِرَ صَلَاتِهِ وَتْرًا، فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِذَلِكَ، فَإِذَا كَانَ الْفَجْرُ فَقَدْ ذَهَبَتْ كُلُّ صَلَاةِ اللَّيْلِ وَالْوِتْرُ، فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (أَوْتِرُوا قَبْلَ الْفَجْرِ) )
جناب نافع سے روایت ہے کہ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کہتے تھے کہ جو رات کو نماز پڑھے وہ آخر میں وتر پڑھا کرے، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہی حکم دیا ہے، اور جب فجر ہوگئی تورات کی ساری نماز اور وتر (کا وقت) ختم ہوگیا، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: فجر سے پہلے پہلے وتر پڑھ لیا کرو۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ صَلَاةِ اللَّيْلِ وَالْوِتْرِ/حدیث: 2186]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ أخرجه مختصرا الترمذي: 469، وأخرجه ابوعوانة: 2/ 310، والحاكم: 1/ 302، والبيھقي: 2/ 478، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6372 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6372»

الحكم على الحديث:
حديث صحيح۔ أخرجه مختصرا الترمذي: 469
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2187
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْوِتْرِ فَقَالَ: ( (أَوْتِرُوا قَبْلَ الصُّبْحِ) )
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے وتر کے بارے میں پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: صبح سے پہلے پہلے وتر پڑھ لیا کرو۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ صَلَاةِ اللَّيْلِ وَالْوِتْرِ/حدیث: 2187]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 754، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11097 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11113»

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 754
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں