الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
8. بَابُ مَا جَاءَ فِي وَقْتِهِ
وتر کے وقت کا بیان
حدیث نمبر: 2192
عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ قَالَ: خَرَجَ عَلَيْنَا عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ وَنَحْنُ فِي الْمَسْجِدِ فَقَالَ: أَيْنَ السَّائِلُ عَنِ الْوِتْرِ؟ فَمَنْ كَانَ مِنَّا فِي رَكْعَةٍ شَفَعَ إِلَيْهَا أُخْرَى حَتَّى اجْتَمَعْنَا إِلَيْهِ، فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُوْتِرُ أَوَّلَ اللَّيْلِ ثُمَّ أَوْتَرَ فِي وَسَطِهِ، ثُمَّ أَثْبَتَ الْوِتْرَ فِي هَٰذِهِ السَّاعَةِ، قَالَ: وَذَلِكَ عِنْدَ طُلُوعِ الْفَجْرِ
عبد خیر کہتے ہیں: ہم مسجد میں تھے، سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ ہمارے پاس آئے اور پوچھا کہ وتر کے بارے میں سوال کرنے والا کہاں ہے، ہم سے جو ایک رکعت پڑھ چکا تھا، (لیکن اس کی ایک رکعت باقی تھی تو) اس نے وہ رکعت ادا کی،یہاں تک کہ ہم سب ان کے پاس جمع ہو گئے، انہوں نے کہا: پہلے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رات کے شروع میں وتر پڑھتے تھے، پھر اس کے درمیان میں پڑھنے لگے، لیکن بعد میں اس وقت میں نمازِ وترکی ادائیگی کو برقرار رکھا۔ یہ طلوعِ فجر کے قریب کا وقت تھا۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الليل والوتر/حدیث: 2192]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، وھذا اسناد ضعيف لضعف ابي اسرائيل اسماعيل بن خليفة الملائي۔ أخرجه مختصرا البزار: 790، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 974 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 974»
وضاحت: فوائد: … رات کے آخری وقت کے افضل ہونے کی بعض وجوہات پہلے بھی گزر چکی ہیں کہ اس وقت میں آسمانِ دنیا پر اللہ تعالیٰ کا نزول ہوتا ہے، دعائیں قبول ہوتی ہیں اور اس وقت میں پڑھی جانے والی نماز میں فرشتے حاضر ہوتے ہیں۔
الحكم على الحديث:
حسن لغيره
Al-Fath al-Rabbani Hadith 2192 in Urdu