الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
8. بَابُ مَا جَاءَ فِي وَقْتِهِ
وتر کے وقت کا بیان
حدیث نمبر: 2193
عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي أَسَدٍ قَالَ: خَرَجَ عَلَيْنَا عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَسَأَلُوهُ عَنِ الْوِتْرِ، قَالَ: فَقَالَ: أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ نُّوْتِرَ هَٰذِهِ السَّاعَةَ، ثَوِّبْ يَا ابْنَ التَّيَّاحِ! أَوْ أَذِّنْ أَوْ أَقِمْ (وَفِي لَفْظٍ:) قَالَ: خَرَجَ عَلِيٌّ حِينَ ثَوَّبَ الْمُثَوِّبُ لِصَلَاةِ الصُّبْحِ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ
بنو اسد کے ایک آدمی سے مروی ہے، وہ کہتا ہے: ہمارے پاس سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ تشریف لائے،لوگوں نے ان سے وتر کے بارے میں سوال کیا، انہوں نے کہا:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ہم اس وقت وتر پڑھیں۔ پھر کہا: ابن تَیّاح! الصلاۃ خیر من نوم کہو یا اذان کہو یا اقامت کہو۔ ایک روایت کے الفاظ ہیں: سیدنا علی رضی اللہ عنہ اس وقت نکلے، جب مؤذن نے نمازِ فجر کے لیے الصلاۃ خیر من نوم کے الفاظ پر مشتمل اذان کہی۔ پھر باقی حدیث ذکر کی۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الليل والوتر/حدیث: 2193]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لجھالة الرجل من بني اسد الراوي عن علي، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 689 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 689»
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لجھالة الرجل من بني اسد الراوي عن علي
Al-Fath al-Rabbani Hadith 2193 in Urdu