الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
13. بَابُ مَا جَاءَ فِي حَمْلِ الْجَنَازَةِ وَالْإِسْرَاعِ بِهَا مِنْ غَيْرِ رَمَلٍ
جنازہ کو اٹھانے، اس کو لے چلنے اور اس سے متعلقہ دیگر امور کا بیان¤جنازہ کو اٹھانے اور دوڑے بغیر تیزی سے لے کر جانے کا بیان
حدیث نمبر: 3194
عَنْ عَطَاءٍ قَالَ: حَضَرْنَا مَعَ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ جَنَازَةَ مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا بِسَرِفَ، قَالَ: فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: هَذِهِ مَيْمُونَةُ، إِذَا رَفَعْتُمْ نَعْشَهَا فَلَا تُزَعْزِعُوهَا وَلَا تُزَلْزِلُوهَا
عطاء کہتے ہیں:ہم سرف کے مقام پر سیّدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کے ساتھ زوجۂ رسول سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے جنازے میں شریک تھے، انھوں نے کہا: یہ سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا ہیں، جب تم ان کی میت کو اٹھاؤ تو اسے شدت اور سختی کے ساتھ حرکت نہ دو۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجنازة/حدیث: 3194]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 5067، ومسلم: 1465، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2044، 3259 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2044»
وضاحت: فوائد: … جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم عمرۂ قضا ادا کر کے مکہ سے واپس لوٹ رہے تھے تو اسی مقام پر سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا سے شادی کی تھی، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کے قول کا مطلب یہ ہے کہ میت کی کرامت کا لحاظ کرتے ہوئے اس کے ساتھ نرمی کی جائے۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 5067
Al-Fath al-Rabbani Hadith 3194 in Urdu