الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
13. بَابُ مَا جَاءَ فِي حَمْلِ الْجَنَازَةِ وَالْإِسْرَاعِ بِهَا مِنْ غَيْرِ رَمَلٍ
جنازہ کو اٹھانے، اس کو لے چلنے اور اس سے متعلقہ دیگر امور کا بیان¤جنازہ کو اٹھانے اور دوڑے بغیر تیزی سے لے کر جانے کا بیان
حدیث نمبر: 3195
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَأَلْنَا نَبِيَّنَا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنِ السَّيْرِ بِالْجَنَازَةِ، فَقَالَ: السَّيْرُ مَا دُونَ الْخَبَبِ، فَإِنْ يَكُ خَيْرًا يُعَجَّلْ إِلَيْهِ أَوْ تُعَجَّلْ إِلَيْهِ، وَإِنْ يَكَ سِوَى ذَلِكَ فَبُعْدًا لِأَهْلِ النَّارِ، الْجَنَازَةُ مَطْبُوعَةٌ وَلَا تَتْبَعُ، لَيْسَ مِنَّا مَنْ تَقَدَّمَهَا
سیّدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے جنازہ کو لے کر جانے کی کیفیت کے بارے میں سوال کیا،آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اسے لے کر تیزی سے چلا جائے، لیکن دوڑا نہ جائے، اگر وہ میت نیک ہوا تو وہ بھلائی کی طرف جلدی پہنچے گا اور اگر نیک نہ ہوا تو آگ والوں کے لیے ہلاکت ہے، جنازے کے پیچھے پیچھے چلا جائے، اس کو پیچھے نہ لگایا جائے، جو جنازے کے آگے چلے گا وہ ہم میں سے نہیں ہو گا۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجنازة/حدیث: 3195]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لجھالة أبي ماجد الحنفي، ويحيي بن عبد الله بن الحارث التيمي ضعفه ابن معين وأبوحاتم والنسائي، وقال احمد: ليس به بأس، وقال العجلي: يكتب حديثه وليس بالقوي، ووثقه الترمذي۔ أخرجه ابوداود: 3184، والترمذي: 1011، وابن ماجه: 1484، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3585، 3939 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3939»
وضاحت: فوائد: … پیدل چلنے والے لوگ جنازے کے دائیں بائیں اور آگے پیچھے چل سکتے ہیں، آگے اس مسئلہ کی وضاحت آ رہی ہے۔
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لجھالة أبي ماجد الحنفي
Al-Fath al-Rabbani Hadith 3195 in Urdu