الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
13. بَابُ مَا جَاءَ فِي حَمْلِ الْجَنَازَةِ وَالْإِسْرَاعِ بِهَا مِنْ غَيْرِ رَمَلٍ
جنازہ کو اٹھانے، اس کو لے چلنے اور اس سے متعلقہ دیگر امور کا بیان¤جنازہ کو اٹھانے اور دوڑے بغیر تیزی سے لے کر جانے کا بیان
حدیث نمبر: 3196
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مِهْرَانَ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ حِينَ حَضَرَهُ الْمَوْتُ: لَا تَضْرِبُوا عَلَيَّ فُسْطَاطًا، وَلَا تَتْبَعُونِي بِمِجْمَرٍ، وَأَسْرِعُوا بِي، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ( (إِذَا وَضِعَ الرَّجُلُ الصَّالِحُ عَلَى سَرِيرِهِ قَالَ قَدِّمُونِي قَدِّمُونِي، وَإِذَا وَضِعَ الرَّجُلُ السُّوءُ عَلَى سَرِيرِهِ قَالَ يَا وَيْلَهُ أَيْنَ تَذْهَبُونَ بِي) )
عبدالرحمن بن مہران کہتے ہیں:جب سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی وفات کا وقت قریب آیا تو انہوں نے کہا: مجھ پر کوئی خیمہ نصب نہ کرنا اور میرے جنازے کے ساتھ دھونی دان لے کر نہ جانا اور میرے بارے میں جلدی کرنا، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: جب نیک آدمی کو چارپائی پر رکھا جاتا ہے تو وہ کہتا ہے: مجھے جلد لے چلو، مجھے جلد لے چلو، لیکن جب گنہگار بندے کو چارپائی پر رکھا جاتا ہے تو وہ کہتا ہے: ہائے! تم مجھے کدھر لے جا رہے ہو۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجنازة/حدیث: 3196]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ أخرجه النسائي: 4/40، والطيالسي: 2336، والبيھقي: 4/ 21، وأخرجه البخاري عن أبي سعيد الخدري: 1314، 1316، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7914 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7901»
وضاحت: فوائد: … ”مجھ پر کوئی خیمہ نصب نہ کرنا“ اس کا معنی یہ ہے کہ کوئی ایسا خیمہ نہ لگانا، جس میں لوگ تعزیت کے لیے جمع ہو کر بیٹھ جائیں۔
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره۔ أخرجه النسائي: 4/40
Al-Fath al-Rabbani Hadith 3196 in Urdu