الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
21. باب وقت السحور واستحباب تأخيره
سحری کے وقت اوراس کو تاخیر سے کھانے کے مستحب ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 3736
عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَذَلِكَ فِي السَّحَرِ: ( (يَا أَنَسُ! إِنِّي أُرِيدُ الصِّيَامَ فَأَطْعِمْنِي شَيْئًا) ) ، قَالَ: فَجِئْتُهُ بِتَمْرٍ وَإِنَاءٍ فِيهِ مَاءٌ بَعْدَ مَا أَذَّنَ بِلَالٌ، فَقَالَ: ( (يَا أَنَسُ! انْظُرْ إِنْسَانًا يَأْكُلُ مَعِي) ) ، قَالَ: فَدَعَوْتُ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنِّي شَرِبْتُ شَرْبَةَ سَوِيقٍ فَأَنَا أُرِيدُ الصِّيَامَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَصَحْبِهِ وَسَلَّمَ: ( (وَأَنَا أُرِيدُ الصِّيَامَ) ) ، فَتَسَحَّرَ مَعَهُ وَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ خَرَجَ فَأُقِيمَتِ الصَّلَاةُ
۔ سیدنا قتادہ سے روایت ہے کہ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے سحری کے وقت فرمایا: انس! میں روزہ رکھنا چاہتا ہوں، مجھے کوئی چیز کھلاؤ۔ میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں کھجور اور پانی کا برتن لے کر حاضر ہوا، جبکہ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ اذان کہہ چکے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: انس! کوئی آدمی ڈھونڈ کر لاؤ جو میرے ساتھ کھانا کھائے۔ میں سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کو بلا کر لایا، انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں تو ستو پی چکا ہوں اور میرا روزہ رکھنے کا ارادہ تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں بھی روزہ رکھنا چاہتا ہوں۔ چنانچہ انہوں نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ سحری کھائی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دو رکعتیں ادا کی، اس کے بعد نکلے اور نماز کے لیے اقامت کہہ دی گئی۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 3736]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح۔ اخرجه النسائي: 4/ 147، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13033 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13064»
وضاحت: فوائد: … اذانِ بلال سے مراد پہلی اذان ہے، جو فجر صادق کے طلوع ہونے سے کچھ وقت پہلے دی جاتی تھی۔
الحكم على الحديث: اسناده صحيح۔ اخرجه النسائي: 4/ 147
Al-Fath al-Rabbani Hadith 3736 in Urdu