الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
21. باب وقت السحور واستحباب تأخيره
سحری کے وقت اوراس کو تاخیر سے کھانے کے مستحب ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 3737
عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ قَالَ: سَأَلْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ الرَّجُلِ يُرِيدُ الصِّيَامَ وَالْإِنَاءُ عَلَى يَدِهِ لِيَشْرَبَ مِنْهُ فَيَسْمَعُ النِّدَاءَ؟ قَالَ جَابِرٌ: كُنَّا نُحَدَّثُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (لِيَشْرَبْ) )
۔ ابو زبیر کہتے ہیں: میں نے سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ ایک آدمی روزہ رکھنا چاہتا ہے اور کوئی چیز پینے کے لیے برتن اس کے ہاتھ میں ہے، لیکن اسی وقت اذان کی آواز آ جاتی ہے (تو وہ کیا کرے)؟ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے کہا: ہمیں یہ بیان کیا جاتا تھا کہ (ایسی صورت حال کے بارے میں) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے: وہ پی لے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 3737]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14755 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14814»
وضاحت: فوائد: … اس موضوع سے متعلقہ درج ذیل روایت زیادہ واضح ہے: سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((اِذَا سَمِعَ اَحَدُکُمُ الْاَذَانَ وَالْاِنَائُ عَلٰییَدِہٖ، فَلَا یَدَعْہُ حَتّٰییَقْضِیَ مِنْہُ۔)) ”جب تم میں سے سحری کھانے والا اذان سنے، جبکہ پیالہ اس کے ہاتھ پر ہو، تو وہ ضرورت پوری کرنے تک اسے نہ رکھے۔“ (مسند احمد: ۲/ ۴۲۲، ابوداود: ۲۳۵۰)
الحكم على الحديث: حسن لغيره
Al-Fath al-Rabbani Hadith 3737 in Urdu